Type to search

تجزیہ سیاست

”میاں جی، ہُن جان دیو، ساڈی واری آن دیو “

مُلک میں عام انتخابات ہو چکے تھے جن میں مُسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہو چکی تھی، پارٹی قائد میاں نواز شریف جو نئے وزیراعظم طے تھے، پنجاب میں اپنے جانشین کا فیصلہ کر چکے تھے۔

پارٹی کی غالب رائے کے مُطابق چوہدری پرویز الٰہی کو نیا وزیراعلیٰ پنجاب نامزد بھی کر دیا گیا تھا مگر بطور رُکن پنجاب اسمبلی مُنتخب ہونے والا ambition سے مغلُوب چھوٹا بھائی شدید مایُوسی اور بے چینی سے پیر پٹخ رہا تھا۔ اسی اضطراری کیفیت میں وُہ “ویٹو پاور” کے حامل، فیملی کے سُپریم کمانڈر کے پاس اپنی فریاد لے کر حاضر ہو گیا، “ابا جی” نے “بڑے” کو طلب کیا اور چھوٹے کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے چھُوٹتے ہی قدرے طیش میں بولے جدوں تُوں مر جاویں گا، فیر ایہدی واری آوے گی؟

اور یُوں راتوں رات بند کمرے میں فیصلہ بدل دیا گیا، اور اگلی صُبح پرویز الٰہی کی جگہ شہبازشریف کو وزیراعلیٰ پنجاب بنائے جانے کا پہلا سرپرائز شریفین کے”شاہی محل” سے سامنے آیا۔

دونوں بھائی اقتدار کی کئی اننگز کھیل چُکے تھے، اور میاں شریف فیملی میں اگلی نسل وراثت وصوُل کرنے کو تیار تھی، یہاں تک کہ چھوٹے شریف تو اپنے بیٹے حمزہ شہباز کو اس مقصد کے لئے کافی حد تک groom بھی کر چُکا تھے جو باپ کی وزارت اعلٰی کے آخری دور میں مُختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز کو خُود انٹرویوُ کر کے لگانے تک کی ٹریننگ لے چُکے تھے مگر  “بڑے” کی فیملی میں ایک “بے نظیر بھُٹو” بھی تیار بیٹھی تھی جس کے دل میں باپ کی جانشین بننے کی تمنا پُوری توانائی سے انگڑائیاں لے رہی تھی کہ باپ اسے اپنے تئیں بھُٹو کی طرح شریف فیملی کی بےنظیر بنانے کے لئے اہم غیر مُلکی دوروں تک میں ساتھ لےجا کر اس کی سیاسی تربیت کرتا رہا تھا، خاص کر وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اوباما کی فیملی سے ملوانے کے بعد سے تو نواز شریف فیملی میں یہ ارادہ مزید تقویت پکڑ چُکا تھا۔ بالخصُوص پانامہ کیس کی آڑ میں نواز شریف کو مسند اقتدار سے ہٹا، بلکہ اُٹھا دیئے جانے کے بعد سویلین بالادستی کا جارحانہ بیانیہ لے کر جو احتجاجی تحریک شُرُوع کی گئی تھی، نوازشریف اپنے جیل چلے جانے کے بعد سے اپنی بیٹی کو پاکستان کی آنگ سان سُوچی سمجھنے لگے تھے۔

اور پھر جب پاکستان کی اس اُبھرتی ہُوئی آنگ سان سُوچی کو بھی جیل بھجوا دیا گیا تو “چھوٹے شریف” کو اب شریف فیملی کی سیاسی وراثت اور مرکزی سطح پر “بڑے بھائی” کی جانشینی مل سکنے کی اُمید پھر سے نظر آنے لگ پڑی، چُنانچہ اُس نے اپنے “پرو اسٹیبلشمنٹ” بیانیے کو پُوری قُوت کے ساتھ استعمال کرنا شُرُوع کر دیا اور کسی ریسکیُو آپریشن کے طلبگار بھائی کو”رام” کرنے کے چیلنج سے نمٹنے میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد کی کوششیں شُرُوع کر دیں ہیں، جن کے حوالے سے بطور “بیعانہ” اُسے “لاڈلے” یعنی وزیراعظم کی مرضی کے خلاف قومی اسمبلی میں شیڈو قائد ایوان” یعنی اپوزیشن لیڈر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ بنوا دیا گیا۔

بڑے بھائی کو خاموش کروانے کے وعدے کے مُطابق “چھوٹے” نے اُسے ہسپتال شفٹ کروا کے ایک طرح سے اپنی تحویل میں لے لیا ہے جہاں آواخر نومبر میں “فیصلہ کُن” احتجاجی دھرنے کے لئے لانگ مارچ لے کر پُہنچنے والے مولانا فضلُ الرحمن کو بھی نواز شریف سے نہیں ملنے دیا گیا، نہ پارٹی رہنماؤں اور کارکُنوں کو لاہور پُہنچنے پر مولانا مارچ میں حصہ ڈالنے دیا اور یکم دسمبر کو اسلام آباد کے آزادی مارچ  میں جا کر اپنی تقریر میں اسٹیبلشمنٹ کو اپنا CV پیش کر دیا۔

اُدھر “چھوٹے شریف” کی پرفارمنس سے “موگیمبو” خُوش ہو رہا تھا کہ مُتبادل سلیکٹڈ “ڈلیور” کر رہا ہے چُنانچہ “بڑے” کی ضمانت پر رہائی سے لے کر ہیتھرو کے لئے پرواز تک سارے مراحل دیکھتے ہی دیکھتے یُوں “آرام” سے طے پاتے گئے کہ “حاضر سروس” سلیکٹڈ حیرت سے تکتا چلا گیا۔

شریف فیملی میں سب سے بڑی کُرسی سنبھالنے کا چانس لینے کے سفر میں فیملی کے “سُپریم کمانڈر” کے چھوٹے بیٹے نے راج نیتی کے معرکے سر کرتے ہُوے جنرل باجوہ کے “قیام” میں توسیع کی حمایت میں ایسی چھلانگ لگائی ہے کہ اس معرکے میں فوری casualty پارٹی قائد اور بڑے بھائی کے بیانیے اور پارٹی کی صفوں میں اتحاد کی ہُوئی، البتہ خاندان میں سیاسی حوالے سے ایک عرصہ “کرنل شہبازشریف” رہنے والا چھوٹا شریف اپنی اس تاریخی “بُوٹ نوازی” سے ڈائریکٹ “جنرل شہباز باجوہ” بن کے اُبھرا ہے۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *