Type to search

بین الاقوامی سیاست تجزیہ

تیسری عالمی جنگ فی الحال مؤخر ہوا چاہتی ہے

پچھلے جمعے کو جب امریکہ کی طرف سے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کی اچانک خبر آئی تو ایک بھونچال آ گیا۔ شروع میں تو کسی کو بھی سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ کیونکہ عالمی حالات کے تناظر میں یہ خبر بہت بڑی تھی۔ ایران کو غم اور غصے کی لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا جو کہ فطری تھا کیونکہ جنرل سلیمانی کو ایران میں ان کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بعد سب سے زیادہ عزت و احترام سے دیکھا جاتا تھا۔

نہ صرف ایران بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک جیسے شام،عراق، لبنان اور یمن میں بھی سوگ کی کیفیت تھی۔ اس کی وجہ جنرل سلیمانی کا داعش کے خلاف لڑنا، کردوں اور حوثی گروپوں کا ساتھ دینا تھا۔ اس لیے اگر کسی کو ایران کی پالیسی یا حکمرانوں سے اختلاف بھی تھا تب بھی جنرل سلیمانی کے لیے سب کے دل میں الگ ہی مقام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عراق اور شام کی طرف سے امریکہ کے خلاف ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ بلکہ عراقی پارلیمنٹ نے اس ضمن میں امریکی فوجوں کے نکل جانے کی قرار داد بھی پاس کی۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں جنرل سلیمانی بہت سے لوگوں کے لیے ہیرو تھے۔ وہاں جن سنّی لوگوں کے خلاف وہ لڑ رہے تھے ان کے لیے وہ ولن بھی تھے۔  اس لیے ان کے قتل کے بعد انھوں نے سکھ کا سانس بھی لیا ہو گا اور یہ کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں ہے کیونکہ جب ملکوں کے درمیان پراکسی وارز ہوتی ہیں تو ان میں ایسا ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس بات کو اس مثال سے بڑی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جن حوثی گروپوں کی ایران مدد کر رہا ہے، سعودی عرب کے لیے وہ باغی ہیں اسی لیے وہ ان کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

اس واقعے کے رونما ہو جانے کے بعد امریکہ نے اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا اور ایران کی طرف سے بدلہ لینے کا بار بار عندیہ دیا گیا جس سے یہ محسوس ہوا کہ اب ایران جب بدلہ لے گا تو شاید جنگ شروع ہو جائے گی۔

لیکن اس ضمن میں کئی تجزیہ کار صرف امریکہ اور ایران کی جنگ تک نہیں رکے بلکہ ورلڈ وار تھری کی پشین گوئیاں شروع کر دی گئیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ بس ادھر ایران کے حملہ کرنے کی دیر ہے اور ادھر عالمی جنگ شروع۔

تو ایران کی طرف سے بار بار جو بدلہ لینے کا کہا جا رہا تھا ۔ اس نے بالآخر بدھ کے دن عراق میں موجود امریکہ کے اڈوں پر میزائل داغ دیے اور اس خبر نے بھی خوب اضطراب پیدا کیا اور تجزیہ کاروں نے کہا کہ بس جنگ کی شروعات ہو گئی ہے۔ مگر آہستہ آہستہ صورتحال سامنے آنا شروع ہوئی تو یہ خبر آئی عراقی حکام کو ایران نے اس حملہ سے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ پھر امریکہ کی طرف سے کسی بھی جانی نقصان کی تردید آ گئی۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا عراق میں امریکی اڈوں پر میزائلوں کا حملہ بھی بھارت کی طرف سے پاکستان کے علاقہ بالا کوٹ میں سرجیکل سٹرائیک جیسا ہے۔ تب بھارت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس میں سینکڑوں دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ مگر حقیقت میں کچھ درختوں کا نقصان ہوا تھا۔  اسی طرح ایران کے اس میزائل حملے میں 80 سے زیادہ امریکی فوجی مارے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس معلوم ہو رہی ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق کسی بھی امریکی فوجی کی جان نہِیں گئی بلکہ عراقی ہی اس کا نشانہ بنے ہیں۔

امریکہ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے کہ اس نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جس جنرل سلیمانی کو پہلے اپنا ہیرو سمجھتے تھے، اسے ہی اتنے بھونڈے طریقے سے ہلاک کر کے ماحول کو اتنا کشیدہ تو بنا دیا، مگر اب وہ بھی سکون سے بیٹھ جائے گا۔

دوسری طرف ایران نے بھی کیا خوب بدلا لیا ہے۔ اس میزائل حملے کو ان کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریک کو ایک تھپڑ سے تعبیر کر رہے ہیں۔  بس ان کو بھی جنرل سلیمانی کے چاہنے والوں کے سامنے فیس سیونگ مل گئی ہے۔ اب جو لوگ ورلڈ وار تھری شروع کروا کے بیٹھے تھے ۔ ان سے التماس ہے کہ فی الحال یہ وار موخر ہوا چاہتی ہے۔ براہِ مہربانی آپ انتظار فرمائیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *