صوبۂ سرحد کا ریفرنڈم اور خدائی خدمت گار: پاکستان کیسے جیتا؟

جب 3 جون تقسیم پلان آ گیا۔ اس میں تقسیم کو مانا گیا۔ پنجاب اور بنگال کے اندر ووٹنگ ہو گی کہ آیا یہ دونوں صوبے پاکستان کو دیے جانا چاہیے یا انہیں ہندو، سکھ مسلم اکثریت کے مطابق تقسیم کر دینا چاہیے۔ خدائی خدمت نگار نے کہا کہ انہیں ایک تیسری آپشن دی جائے۔ پختونستان کی، جسکو انگریزوں نے مسترد کر دیا۔

11:30 PM, 28 Oct, 2026

محمد شہزاد

(مشہور ماہرِ سیاسیات پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنے وی لاگز کی ایک سیریز میں تقسیمِ ہند اور اس سے جڑے تمام فریقوں کے مؤقف کا بڑی باریکی سے جائزہ لیا ہے۔ میں نے سوچا ان سب کا خلاصہ تیار کیا جائے، اور جب یہ سلسلہ مکمل ہو جائے تو ان سب کو ایک جگہ جمع کر کے کسی اچھی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔ یہ ایک بہت ہی اہم گفتگو ہے۔ ہمیں اشتیاق صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے بڑی لگن کے ساتھ، بغیر کسی لالچ کے اس سچائی کو ہمارے سامنے رکھا جسے ہماری ریاست ہم سے چھپاتی آئی ہے۔ تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ گفتگو خاص طور پر بہت قیمتی ہے۔)


وی لاگ نمبر 10: تقسیم ہند اور خدائی خدمت گار

خلاصہ: محمد شہزاد

 انگریزوں نے مجبوراً ہندوستان چھوڑا۔ دوسری جنگ عظیم جیت تو وہ گئے مگر ان کی پوری معیشت تباہ ہو چکی تھی۔ وہ امریکہ کے مقروض تھے۔ امریکن دباؤ تھا کہ وہ ڈی کالونائزیشن شروع کریں۔ اس کے باوجود انگریز اپنے آپ کو ایک گریٹ پاور سمجھتے تھے۔ انگریز ہندوستان کو کیبنٹ مشن پلان کے تحت متحد رکھنا چاہتے تھے۔ وہ ایک کمزور مرکز اور سب طاقت صوبوں کو والا فارمولہ چاہتے تھے۔ برٹش ملٹری نے کہا کہ تقسیم بہتر ہے۔ پاکستان انگریز نے یہ سمجھ کر پایا کہ وہ اسے اپنے مفادات کے تحت استعمال کر سکیں گے۔ 

 سرظفر اللہ خان جو ایک احمدی تھے، نے قرارداد لاہور پیش کی جو مسلم لیگ نے استعمال کی۔ جماعت احمدیہ نے پاکستان کو سپورٹ کیا۔ جب سردار شوکت حیات کو مودودی صاحب کے پاس بھیجا گیا کہ وہ پاکستان کی حمایت کریں، تو مودودی صاحب نے کہا، یہ ناپاکستان ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جماعت احمدیہ نے پاکستان کی حمایت کی۔


 نویں وی لاگ کا خلاصہ یہاں پڑھیے: پاکستان کیوں بنا؟ جناح، ہندو مسلم دشمنی اور تقسیم کی اصل کہانی


 قرارداد مقاصد اور 1940 کے بعد، مسلمانوں کے ہاتھ ایک مقصد آ گیا۔ نظریہ ایک چیز ہے لیکن جب تک اس کے ساتھ کوئی سیاسی تحریک نہ ہو، وہ ایک نظریہ ہی رہتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کی ڈیمانڈ بن گئی قرارداد لاہور کے بعد۔ 

 خدائی خدمت گار کی جڑیں تحریک خلافت سے ملتی ہیں۔ خان عبدالغفار خان ( باچا خان) نے پختونوں کے اندر عدم تشدد کو فروغ دیا۔ سکول بنائے۔ یہ پروگریسو پارٹی تھی۔ پختونوں کے پاس اسحلہ تھا جو وہ انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے استعمال کیا کرتے تھے۔ باچا خان نے انہیں عدم تشدد کا سبق دیا۔ گاندھی نے ایک دفعہ باچا خان سے کہا کہ ہندوؤں کو امن پسند بنانا آسان تھا مگر آپ نے پختونوں کو کیسے امن پسند بنا لیا! باچا خان نے کہا اگر آپ امن کا پیغام دیں تو ہر انسان کو سمجھ آ جاتی ہے۔ باچا خان ایک بہت بڑے سیاسی قائد اور سیاسی ریفامر تھے۔ 

باچا خان نے عورتوں کی تعلیم کے لیے بھی کام کیا۔ لوگوں کو منظم کیا۔ باچا خان ہمیشہ کانگرس کے ساتھ رہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انگریز سامراج سے آزادی اکھٹے رہ کر حاصل کی جا سکتی ہے۔ خدائی خدمت گار نے پاکستان کے مطالبے کو مسترد کیا۔ باچا خان کے بیٹے خان عبدالولی خان نے اپنی کتاب Facts Are Facts میں کئی مثالیں دی ہیں کہ کیسے انگریز علیحدہ علیحدہ گروپ بندیاں بنانے کے لیے کام کر رہے تھے۔ انہوں نے بھی یہ کہا کہ قرارداد پاکستان سر ظفر اللہ خان نے پیش کی۔ 

جب 3 جون تقسیم پلان آ گیا۔ اس میں تقسیم کو مانا گیا۔ پنجاب اور بنگال کے اندر ووٹنگ ہو گی کہ آیا یہ دونوں صوبے پاکستان کو دیے جانا چاہیے یا انہیں ہندو، سکھ مسلم اکثریت کے مطابق تقسیم کر دینا چاہیے۔ خدائی خدمت نگار نے کہا کہ انہیں ایک تیسری آپشن دی جائے۔ پختونستان کی، جسکو انگریزوں نے مسترد کر دیا۔ اور سرحد میں جون میں ہی ایک ریفرنڈم ہوا جس کے مطابق آپشن یہ تھا کہ یا پاکستان کو منتخب کریں یا انڈیا کو۔ لیکن سرحد اور انڈیا کا بارڈر تو ملتا ہی نہ تھا۔ اسی لیے انہوں نے پختونستان کا مطالبہ کیا۔ اس ریفرنڈم کو خدائی خدمت گار نے مسترد کیا جو کہ غلط فیصلہ تھا (پروفیسر اشتیاق احمد کی نظر میں۔)

صرف 7 یا 8 فیصد لوگوں کے پاس سرحد میں ووٹ کا حق تھا۔ اور ہندوستان میں 10 سے 11 فیصد کے پاس تھا۔ جن کے بھی پاس یہ حق تھا، ووٹ صرف 50 فیصد لوگوں نے دیے۔ بہرحال سرحد پاکستان کا حصہ بن گیا۔ سرحد میں کانگرس اور خدائی خدمت گار کی حکومت تھی جسے جناح صاحب نے غیر آئینی طریقے سے ڈس مس کر دیا۔ پارلیمانی جمہوریت میں اس کا کوئی جواز نہ تھا۔ سرحد میں بالکل امن تھا۔ لیکن جناح صاحب نے پھر بھی ایسا کر دیا۔ پھر اس کے بعد باچا خان کو 18 برس جیل میں رکھا گیا۔ اس سے پہلے انہیں انگریزوں نے 15 سال جیل میں رکھا۔ 

مزیدخبریں