Type to search

بلاگ تجزیہ

ملتان میں لاکھوں روپے ماہانہ اخراجات کے باوجود ڈینگی لاروا بے قابو

ملتان کا 22 سالہ سجاد حسین محنت مزدوری کے لئے راولپنڈی میں مقیم تھا جہاں وہ ماہ اگست 2019 میں موسمی مرض ڈینگی میں مبتلا ہو گیا اور مرض کی شدت بڑھنے کے ساتھ کوئی تیماردار نہ ہونے کے باعث واپس ملتان چلا آیا۔ یہاں اس کے اہلخانہ اسے علاج کے لئے نشتر ہسپتال لے گئے لیکن علاج کی نامناسب سہولیات کے باعث وہ پرائیویٹ ہسپتال میں داخل ہو گیا اور اس دوران اسے کئی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس میں سرکاری طور پر علاج کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ اخراجات بھی شامل تھے، جو آج کی مہنگائی کے دور میں کسی بھی عام آدمی کے لئے جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہیں۔

سجاد حسین کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد اس کو نشتر ہسپتال میں علاج معالجہ کے طریقہ کار اور سرکاری عملے کے رویہ کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈینگی وارڈ میں علاج کے لئے نامناسب سہولیات کے ساتھ ڈاکٹروں و طبی عملہ کی جانب سے لاپرواہی کے باعث وہ پرائیویٹ علاج کرانے پر مجبور ہوا۔

یہ کہانی ملتان کے ایک نوجوان کی نہیں ہے بلکہ کئی ایسے افراد ہیں جو بالائی پنجاب کے مختلف علاقوں میں روزگار کے لئے مقیم ہیں اور کسی بیماری کا شکار ہونے کے باعث انہیں واپس ملتان آنا پڑتا ہے۔ لیکن، یہاں کے سرکاری ہسپتالوں میں انہیں علاج کی نامناسب اور کم سہولیات کے باعث نہ صرف مالی بلکہ دیگر جانی نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ ایسے موذی امراض کے لئے حکومت کی جانب سے نہ صرف کروڑوں روپے مہیا کئے جاتے ہیں بلکہ ایسے امراض کا ترجیحی بنیادوں پر علاج کرنے کی ہدایات بھی کی جاتی ہے۔

ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی کئی سال سے ڈینگی کا مرض بے قابو چلا آ رہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں ڈینگی کی روک تھام کے لیے ملتان میں مختلف اقدامات کیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود اس مرض کا باعث بننے والے لاروا پر پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

اس ضمن میں محکمہ صحت ملتان کی جانب سے کھلے مقامات، باغات اور عوامی مقامات پر سپرے بھی کیا جاتا ہے لیکن مذکورہ مرض سے بچاؤ کے لیے گھروں میں سپرے نہیں کیا جاتا اور نہ ہی یہ سپرے کھلے عام دستیاب ہے کہ شہری خود خرید کے اپنے گھروں میں سپرے کر سکیں۔

ملتان میں گذشتہ 5 برس سے ڈینگی کا مرض موسم تبدیل ہونے پر شدت اختیار کر جاتا ہے جس پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی ٹیمیں متحرک ہو جاتی ہیں۔ لیکن موسم کی تبدیلی سے قبل مرض پر قابو پانے یا ڈینگی لاروا ختم کرنے کے لئے کوششیں نہیں کی جاتیں۔

ڈینگی کے مرض پر قابو پانے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی سرویلنس ٹیمیں بروقت متحرک ہو جاتی ہیں اور شہر میں قائم ٹائروں کی دکانوں، ہوٹلوں کے سوئمنگ پولز، دفاتر، کاٹھ کباڑ کی جگہوں کے ساتھ گھروں کی چیکنگ کی جاتی ہے جس میں دکانداروں، اداروں کے مالکان اور شہریوں کو کاٹھ کباڑ کی جگہیں صاف رکھنے اور صاف پانی کھڑا نہ ہونے کی ہدایت کی جاتی ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے پر مذکورہ جگہوں کے مالکان کو بھاری جرمانے بھی کئے جاتے ہیں۔

گذشتہ عرصے میں انتظامیہ کی ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجہ سے حیرت انگیز طور پر شہر کے سب سے بڑے اداروں نشتر ہسپتال ملتان اور بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے بھی ڈینگی لاروا برآمد ہوا جس پر ڈپٹی کمشنر ملتان کی سربراہی میں پوری مشینری حرکت میں آئی اور اداروں کی انتظامیہ کو ڈینگی لاروا برآمد ہونے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

اس ضمن میں حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک برس میں ملتان میں ڈینگی کا کوئی مریض رپورٹ نہیں ہوا ہے تاہم سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملتان کے 3 بڑے ہسپتالوں نشتر ہسپتال، سول ہسپتال اور شہباز شریف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بالائی پنجاب اور بلوچستان سے ڈینگی کے مریض میں مبتلا ہونے کے شبہ کے ساتھ ملتان کے مختلف بنیادی مراکز صحت بھی مریضوں کو منتقل کیا گیا۔ جن کا آئسولیشن وارڈ میں علاج کیا گیا جبکہ مرض کی شدت کے باعث چند افراد جان کی بازی بھی ہار گئے اور دیگر مریضوں کو علاج کے بعد صحت یاب ہونے پر ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا۔

اس طرح حکومت کی جانب سے ڈینگی کے مرض پر قابو پانے کے ساتھ ڈینگی لاروا ختم کرنے کے لئے محکمہ صحت کے فنڈز میں بھی اضافہ کر دیا جس کے بعد محکمہ کی جانب سے انسداد ڈینگی شعبہ قائم کیا گیا جس میں بڑی تعداد مرد و خواتین کو یومیہ اجرت پر بھرتی کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ہسپتالوں کو ڈینگی کٹس اور ادویات خرید کر بھجوائی گئیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ ملتان ہدایت اللہ نے بھی انسداد ڈینگی اجلاس میں افسران کی عدم دلچسپی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور افسران کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے اجلاس میں کہا ہے کہ اجلاسوں میں افسران کی غیر حاضری کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا جبکہ حکومت ڈینگی کی وبا کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے دیگر طریقے اپنانے پر غور کر رہی ہے اور ماہرین کو تربیت کے لیے آسٹریلیا بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ نے کہا کہ ڈینگی کی وبا کا خاتمہ نہ ہونے پر حکومت کو سخت تشویش ہے اور ڈینگی کے مستقل خاتمہ کے لیے آسٹریلیا کی طرز کا طریقہ کار اپنانا چاہتی ہے جس میں تربیت کے لیے ماسٹر ٹرینرز آسٹریلیا بھیجنے کی پلاننگ کی جا رہی ہے۔ تاہم آگاہی مہم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ملتان عامر خٹک کے مطابق ڈینگی لاروا کی افزائش روکنے کے لئے گھروں میں موجود واٹر ٹینکس کی صفائی و نکاسی آب پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جس کے لئے تمام محکمے تسلسل کے ساتھ انسداد ڈینگی کے لئے کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور انتظامیہ کی مشترکہ محنت کی بدولت ضلع ملتان اب تک ڈینگی فری رہا ہے اور اب ہم نے اس کے پنپنے والے لاروے کا بھی نام ونشان مٹانا ہے۔ جس میں شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کریں اور ڈینگی لاروا کی افزائش روکنے میں انتظامیہ کی مدد کریں۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر منور عباس نے بتایا کہ محکمہ صحت کی جانب سے ڈینگی پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن کوششں کی گئی ہیں جس کے باعث اب کافی عرصہ سے ملتان میں ڈینگی کا کوئی مریض رپورٹ نہیں ہوا ہے اور اب تک ملتان کے سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریض اپر پنجاب اور دیگر صوبوں سے علاج کے لئے ملتان آئے ہیں جبکہ ڈینگی لاروا پر قابو پانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے مفت علاج معالجہ فراہم کیا جا رہا ہے۔

فوکل پرسن انسداد وبائی امراض ملتان ڈویژن ڈاکٹر عطا الرحمن نے بتایا کہ ڈینگی سرویلنس ٹیم ملتان سے ڈینگی لاروا کو ختم کرنے کے لئے پوری طرح مستعد ہے جس کی وجہ سے ڈینگی کے مرض پر قابو پا لیا گیا لیکن ڈینگی لاروا پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ڈینگی کے علاج کے لئے بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور کسی قسم کی شکایت موجود نہیں ہے تاہم کسی بھی شکایت کی صورت میں محکمہ صحت یا ضلعی انتظامیہ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *