Type to search

تجزیہ سیاست

گنڈا پور بارڈر کے اُس پار ”انقلاب زندہ باد “کے نعرے

گزشتہ دنوں قصور کے نواحی علاقے میں انڈیا پاکستان، گنڈا سنگھ بارڈر کی تقریب دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تقریب میں انڈیا اور پاکستان دونوں طرف کے تماشائی خاصی تعداد میں موجود تھے۔ دونوں ہی کا جوش و ولولہ بھی دیدنی تھا لیکن ایک بات خاصی مختلف رہی وہ یہ کہ نعرہ بازی کے وقت انڈین تماشائیوں کی طرف سے خصوصی طور پر وقتاً فوقتاً ”انقلاب زندہ باد “کے نعرے بلند ہوتے رہے۔ جو انڈیا کے حالیہ حالات کے پیش نظر تھے۔ لیکن بھارتی فوجیوں کی موجودگی میں تماشائیوں کا اتنی بہادری سے ایسے نعرے لگانا حیرت کا باعث بھی تھا اور اس سے یہ اندازہ بھی بخوبی لگایا جا سکتا تھا کہ بھارت میں انقلاب کی چلنے والی ہوا خاصا زور پکڑ چکی ہے۔ ”انقلاب زندہ باد“ اور ”لے کے رہیں گے آزادی“ یہ وہ نعرے ہیں جو بھارت میں گزشتہ کئی دنوں سے متعدد ریلیوں اور جلسے جلوسوں میں سنائی دے رہے ہیں۔

مظاہروں میں مزاحمتی نظمیں پڑھنا بھی ایک معمول بن چکا ہے۔ ان مزاحمتی نظموں میں زیادہ تر پاکستانی انقلابی شعراء حبیب جالب اور فیض احمد فیض کی نظموں کا چرچا رہا۔اور ان نظموں کا زور توڑنے کے لئے بی جے پی کی طرف سے ان نظموں اور خصوصاً فیض احمد فیض کی نظم پر فتوے تک لگائے گئے۔

جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا اناالحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

ان اشعار میں بت، ال لہ، اناالحق جیسے الفاظ پر باقائدہ کمیشن بٹھائے گئے کہ وہ ان کے تناظر میں اس نظم کو ہندوﺅں کے خلاف ثابت کر سکیں۔ بہت ہی مضحکہ خیز لگا جب جاوید اختر صاحب جیسے دانشوروں کو اپنے اعلیٰ ارباب اختیار کو ان اشعار کا مفہوم سمجھانے میں مغز ماری کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان متعصب حکمرانوں کی جہالت اور نااہلی کی قلعی دنیا پر کھلتی دکھائی دی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ بھارتی حکومت کا اپنی عوام کے دکھوں، آہوں، محرومیوں سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ وہ انہیں خوف، واہمے، کسمپرسی، بے بسی، دکھ اور تکالیف دے کر ان کے آنسوﺅں، آہوں، نالوں کی آواز میں شدت پیداکرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی سیاسی ساکھ کو بچایا جا سکے۔

انقلاب اور آزادی کے یہ نعرے دراصل شہریت کے اس متعصب قانون کے ردعمل کے طور پر لگائے جا رہے ہیں جس کا نشانہ خصوصی طور پر مسلمانوں کو بنایا گیا ہے۔ شہریت کے اس متنازعہ قانون کے مطابق بھارت کے ہمسایہ ممالک افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے چھ مذاہب کو ماننے والوں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمان اس شہریت کے حق دار نہیں ہوں گے۔

اس کے خلاف مہاراشٹر، جھاڑکنڈ، گجرات، آسام، گوا، مغربی بنگال اور بہار کے علاوہ متعدد دوسرے صوبوں اور ریاستوں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ اس احتجاج میں مسلمان ہی نہیں بلکہ کئی ہندو پارسی، سکھ اور نچلی ذات کے لوگ بھی شریک ہیں۔ یہ احتجاج جامعہ کے طلباء و طالبات سے شروع ہو کر ہر ذات، برادری، طبقے، صنف اور عمر کے افراد تک پھیل کر ایک عوامی احتجاج بن چکا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور پھر جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے کیمپس میں، ہاسٹلوں میں پہلے پولیس اور پھر بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے غنڈوں کا ہلہ بولا گیا۔ مسلمان لڑکوں، لڑکیوں اور یہاں تک کہ قابل عزت پروفیسروں کو بھی لہولہان کیا گیا۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے حالیہ فساد میں پولیس یونیورسٹی کے گیٹ پر براجمان رہی اور آر ایس ایس کے غنڈوں کی وحشیانہ کاروائی کے دوران کئی گھنٹوں تماشائی بنی رہی۔

 اب تک ملک میں ستائیس بے گناہوں کو قتل کر دیا گیا ہے لیکن حکومت کا ردعمل صرف یہ ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو نشانہ عبرت بنایا جائے یا ان سے حکومتی املاک کے ہونے والے نقصان کا بدلہ لیا جائے۔

دوسری طرف پولیس ان ستائیس ہلاکتوں کی ذمہ داری لینے سے بھی منحرف ہے۔ بھارت کی حالیہ سیاست کا منظر نامہ ہمارے لئے قابل افسوس بھی ہے اور ان واقعات سے ہمارے احساسات اور دل بھی مجروح ہیں کیونکہ اس سارے فساد کا نشانہ مسلمان ہی بنائے جا رہے ہیں۔ مودی سرکار کا فاشسٹ اور مکروہ کردار کھل کر دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔

خود ہمارے اس سیکولر طبقے کی بھی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو قائد اعظم کو تقسیم کے لئے مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ جو ہندوستان، پاکستان میں بانٹی گئی سرحدوں کو قاتل اور خونی گردانتے ہیں۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر تقسیم نہ ہوتی تو ہم امن اور سکون کے ساتھ متحدہ ہندوستان میں سانس لے رہے ہوتے۔

آج وہ ہندوستان کے حالات دیکھیں اور خود کو ہندوستانی مسلمانوں کی جگہ رکھ کر سوچیں کہ وہ آج جس عزت اور مان سے اپنے ملک میں رہ رہے ہیں کیا متحدہ ہندوستان میں ایسا ممکن ہوتا؟ یہ قائد اعظم کی دور اندیشی ہی تھی جو آج ہمیں ہندو سماج کی نفرت اور تعصب سے بچائے ہوئے ہے۔

پاکستان میں ہندو ایک محدود اقلیت ہیں لیکن اگر وہ ایک بڑی اقلیت میں بھی رہ رہے ہوتے تو بھی کم سے کم حکومتی سطح پر ایسا مذہبی تعصب کبھی برتا نہ جاتا کیونکہ اس ملک میں کبھی عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے اقتدار کسی متعصب اور مذہبی جنونی شخص کے ہاتھوں نہیں سونپا۔ پاکستان میں اقلیتوں کی صورتحال کا واویلا کرنے والوں کو ہندوستان کے ہاتھوں شہید کئے گئے لاکھوں کشمیری مسلمان یا گجرات اور آسام کی طرح دیگر ریاستوں میں کی گئی مسلم نسل کشی کیوں دکھائی نہیں دیتی۔ہندوستان کی اس احتجاجی تحریک میں ایک بڑی اہم اور قابل داد و قابل تقلید روایت جو ابھر کر سامنے آئی ہے، وہ خواتین کا عملی کردار ہے۔ اس عورت کا کردار جو ہندوستانی و پاکستانی معاشرے میں ہمیشہ غیر انسانی سلوک کا سامنا کرتی رہی۔ جسے بے زبان رکھنے کے لئے ان دونوں معاشروں میں ہر ممکن سماجی و خاندانی ریتی رواج تشکیل دیئے جاتے رہے۔

کبھی یہ عورت اپنی بقاء کی، تو کبھی اپنے معاشرتی و سماجی مقام کی جنگ لڑتی رہی۔ ہندوستانی معاشرہ ایک ایسے معاشرے سے ترویج پایا جہاں عورت کو باندی بنا کر رکھا جاتا۔ اور اسے ستی ہونے پر مجبور کیا جاتا۔ جہاں آج بھی لوگ بیٹی کو پیدا ہوتے ہی ماں کے پیٹ میں ہی قتل کر دینے کی روایت پر عمل پیرا ہیں۔

ہندوستان میں 2002 میں گودھرا فسادات اور 2012میں نربھیا کیس کے سلسلے میں خواتین نے اپنی آواز بلند کی لیکن کہا یہ جا رہا ہے کہ تحریک آزادی کے بعد آج یہ دوسرا بڑا موقع ہے جب خواتین میں اس قدر بیداری اور تحرک دکھائی دیا ہے۔ وہ تحرک جو وہ اپنے حقوق اور شناخت کی حفاظت کے لئے دکھا رہی ہیں۔ مسلمانوں میں بابری مسجد اور وقتاً فوقتاً گاﺅ ماتا کے تحفظ کے سلسلے میں مسلمانوں کے بے دردی سے قتل کئے جانے کے واقعات سے جو فرسٹریشن یا احساس کمتری ان کے اندر سر اٹھارہا تھا۔ شاید اب وہ وقت آگیا ہے کہ وہ اس کا اظہار کھل کر کر سکیں کیونکہ اب بات ان کی اس دھرتی پر بقا کی ہے۔ وہ بقا جس کا خطرے میں پڑ جانا ایک ایسا امر ہے جو ان کی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا اور جب بات نسل کے بچاﺅ کی آ جائے تو سب سے کاری ضرب عورت کے دل پر لگا کرتی ہے کیونکہ اس نسل کو پیدا کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کی ذمہ وار وہ خود کو گردانتی ہے۔ بھارت کی عورت نسلی و مذہبی تعصب کے علاوہ صنفی و جنسی بدسلوکی کے زخم بھی اپنی روح پر اٹھائے ہوئے ہے۔ آج وہ کسی شے سے خوف محسوس نہیں کر رہی۔ پولیس کی اندھی گولیاں، بی جے پی کے پالے ہوئے غنڈوں کے ہاتھوں میں اٹھائے بھالے، آنسو گیس، مقدموں کے اندراج کی دھمکی، یہاں تک کے ان کے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی التجائیں بھی ان کا راستہ روکنے میں بے بس ہیں۔

علی گڑھ یونیورسٹی ہویا جامعہ ملیہ، دلی کا بے بس و مظلوم علاقہ شاہین باغ ہو یا دہلی گیٹ ہر جگہ خواتین سراپا احتجاج دکھائی دے رہی ہیں۔ وہ طالبات بھی ہیں اور مائیں بھی، جن کی گود میں سخت سردی میں ننھے منے بچے سمٹے ہوئے ہیں۔ وہ جوان بھی ہیں اور ستر، اسیّ سال کی ضعیف خواتین بھی جو ساری ساری رات دھرنوں میں بے سروسامانی کے عالم میں بیٹھی ہیں۔ صرف مسلمان ہی نہیں ہندو خواتین بھی اس احتجاج میں حق کے لئے اپنی آواز بلند کرنے کو اپنے گھروں سے نکل رہی ہیں جو واقعی قابل تعریف بات ہے۔

ہمیں سوارا بھاسکر، پرینیتی چوپڑا اور خاتون جرنلسٹ اروندھتی راﺅ کی جاندار نسوانی آوازیں بھی حق کی آواز اٹھاتی نظر آ رہی ہیں۔ ہمیں دیپیکا پڈوکون بھی اپنی فلم کی نمائش کو خطرے میں ڈالے ہوئے اپنا فلمی مستقبل داﺅ پر لگاتے دکھائی دے رہی ہیں۔ بلاشبہ یہ جنگ پاکستان کی جنگ نہیں، یہ بھارت کے مظلوم انسانوں اور خصوصاً بھارتی مسلمانوں کی جنگ ہے جو انہیں خود اپنے زور بازو پر لڑنا ہے لیکن ہمیں ان کی بھرپور ستائش کے ساتھ ساتھ ان کے مضبوط فکری و حقیقی احتجاج سے بہت کچھ سیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔

دیکھا جائے تو مزاحمتی نظموں اور نعروں کی حالیہ بازگشت سب سے پہلے پاکستان ہی کے ایک میلے میں سنائی دی تھی لیکن ہم نے اس لڑکی کے جذبات و خیالات کو سننے اور سمجھنے کی بجائے اپنی تمام تر توجہ اس کی جیکٹ پر ہی مرکوز کئے رکھی۔ وہ جیکٹ حالیہ سردی کے دوران بھرپور طور پر فیشن میں رہی۔ ہماری عورت کا کردار سیاسی و انقلابی اور فکری میدان میں نہیں بلکہ ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے مختصر نسوانی و جنسی حریمی و قندیلی ٹوٹوں میں ہی قابل کشش و قابل توجہ سمجھا جاتا ہے۔

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *