Type to search

خبریں خواتین

’میرے پاس تم ہو‘ میں خواتین کی تضحیک کی جا رہی ہے، آخری قسط کو نشر ہونے سے روکا جائے، خاتون نے عدالت میں درخواست دائر کر دی

  • 73
    Shares

سول کورٹ میں پاکستان کے مقبول ترین ڈرامے ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کی آخری قسط نشر ہونے سے رکوانے کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔

لاہور کی سول عدالت میں ڈرامے کی آخری قسط نشر ہونے سے رکوانے کے لیے ماہم نامی خاتون نے اپنے وکیل ماجد چوہدری ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی ہے۔

خاتون نے درخواست میں موقف اختیار کرتےہوئے کہا ہے کہ ڈرامے میں خواتین کی مسلسل تضحیک اور عورت کو معاشرے میں کم تر دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ڈرامے نے پاکستانی خواتین پر مثبت نتائج نہیں ڈالے۔ خاتون نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ عدالت فوری ڈرامے کی آخری قسط نشر ہونے سے روکنے کا حکم دے۔ خاتون کا موقف سننے کے بعد عدالت نے 24 جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیئے۔

مقبول بات ہے کہ میرے پاس تم ہو کے ڈرامہ نویس خلیل الرحمان قمر خواتین سے متعلق اپنے بیانات کی وجہ سے سوشل میڈیا پر اکثر یر عتاب رہتے ہیں، اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے، ان کی خواتین سے متعلق ایک اور بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ڈرامہ سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ کی مقبولیت کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں ڈرامہ کی کاسٹ سمیت پروڈیوسر، ہدایت کار اور اداکاروں نے شرکت کی۔

تقریب میں اداکاروں نے شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات مداحین سے شیئر کیے تو خلیل الرحمان قمر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔

ڈرامہ نویس نے عورت اور بے وفائی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’عورت فطرتاً بے وفا نہیں ہوتی، اور جو بے وفا ہوتی ہے وہ فطرتاً عورت نہیں ہوتی۔‘‘ خلیل الرحمان قمر کی اس بات پر وہاں موجود تمام مردوں نے تو تالیاں بجائیں تاہم خواتین نے ایسا نہیں کیا۔

اس جملے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر خلیل الرحمان قمر پر بہت تنقید کی جا رہی ہے، لوگوں کا طنزاً کہنا ہے کہ ایسی بیہودہ بات پر تالیاں بجائی جا رہی ہیں، واہ۔

اس سے قبل سماء ٹی وی کے پروگرام نیوز بیٹ کے میزبان بیرسٹر احتشام نے خلیل الرحمان قمر، طاہرہ عبداللہ اور اویس توحید کو مدعو کیا۔ پروگرام کے تینوں میزبانوں کے مابین گرما گرم بحث ہوئی اور کئی مواقع پر فریقین کے لہجے میں تلخی بھی نظر آئی۔

پروگرام کا موضوع تھا کہ ہر ڈرامے میں عورت کو ہی کیوں قصور وار قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستانی ڈراموں میں عورتوں کو قصوروار ٹھہرانے کا ٹرینڈ کیوں ہے؟ سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ میری عزت مرد کے ہاتھ میں نہیں، کشکول لے کر مردوں سے حقوق مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔

جبکہ خلیل الرحمان قمر کا کہنا تھا کہ پلے کارڈ اٹھا کر جب آپ نکلتی ہیں مردوں کے حقوق میں سے حصہ مانگ رہی ہیں، جو آپ کو نہیں ملیں گے۔

طاہرہ عبداللہ نے اپنی باری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم مغربی کلچر اور فضیلت کی باتیں سن سن کر پک گئے ہیں۔ خواتین سے باقاعدہ نفرت سکھائی جاتی ہے۔ انہیں کاروکاری کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ خلیل الرحمان قمر نے اپنے ڈراموں میں عورت کے حیا کو لباس سے جوڑ دیا ہے جبکہ خلیل الرحمان قمر نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بات کا بالکل قائل نہیں کہ عورت کی حیا کو محض لباس سے جوڑ دیا جائے۔ طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ عورت سے باقاعدہ نفرت سکھائی جاتی ہے انہیں کاروکاری کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اویس توحید نے نقطہ اٹھایا کہ ڈراموں میں خواتین کو ہمیشہ مظلوم اور محتاج دکھایا جاتا ہے حالانکہ بڑے شہروں میں موجود خواتین کے ہاسٹلز اس بات کی گواہی ہے کہ چھوٹے شہروں کی خواتین بھی اب معاشی خود انحصاری کی جانب گامزن ہیں اور اپنے حقوق کا تحفظ کر رہی ہیں۔

خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ اویس توحید نے میرے ڈرامے نہیں دیکھے۔ میں نے خواتین کو کسی طرح ڈکٹیٹ کیا اور نہ ہی خود انحصاری کی مخالفت کی ہے مگر ہم آزادی اور خودمختاری کے نام پر معاشرے کی جڑیں کھوکھلے نہیں کرسکتے۔ کچھ لوگ انگریزی کتابیں اور مغربی کلچر پڑھ کر اس کی روشنی میں سوچتے اور بات کرتے ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *