ناقص ٹیکس پالیسی اور گوشوارہ ناداہندگان

29 مئی 2025   کو  ایف بی آر کے اپنے ڈیٹا کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن فائلرز اور رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان میں 6,354,848 اور ممکنہ انکم ٹیکس دہندگان   کے مقابلے میں 23 ملین کا بڑا فرق ،چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر خزانہ کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

11:29 PM, 29 May, 2025

حذیمہ بخاری، ڈاکٹر اکرام الحق

مالی سال 2023-24 کے دوران فعال ٹیکس دہندگان کی کل تعداد پاکستان کے مختلف علاقوں میں 4.74 ملین  انکم ٹیکس فائلرز اور 234,193 سیلز ٹیکس فائلرز کو نمایاں کرتی ہے“ — فیڈرل بورڈ آف ریونیو، سالانہ کارکردگی رپورٹ (24-2023)

”براہ راست محصولات فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) کی وصولیوں میں بنیادی درجہ رکھتے ہیں، جو کہ مالی سال 2023-24 میں جمع کیے گئے کل ٹیکس کا تقریباً 48.7 فیصد ہیں۔ اس مد میں خالص وصولی 4,531 بلین روپے تھی، جو پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 38.5 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے“ریوینیو ڈویژن کی سالانہ کتاب2024 

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے مطابق، 29 مئی 2025 کو صبح10:53 بجے رسائی حاصل کی گئی، 31 مارچ 2025 تک ملک میں کل سیلولر/براڈ بینڈ سبسکرائبرز 197 ملین (%80.30 موبائل ڈینسٹی)، 143 ملین موبائل براڈ بینڈ سبسکرائبرز (%58.31 ملین موبائل فون رسائی) ، 3ملین فکسڈ ٹیلیفون سبسکرائبرز (%1 فکسڈ ٹیلی ڈینسٹی) اور 147 ملین براڈ بینڈ سبسکرائبرز (59.83% براڈ بینڈ رسائی) تھے ۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان میں بائیو میٹرک تصدیق شدہ موبائل کنکشن رکھنے والے تمام بالغ افراد انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں، چاہے وہ قابل ٹیکس آمدنی حاصل کرتے ہوں یا نہیں! اگر یہ سب انکم ٹیکس گوشوارے جمع   کرواتےتو کم از کم 100 ملین افراد ریفنڈز کے حقدار پاتے۔ 

تاہم، یہ حقیقت بھی پریشان کن ہے کہ9 2 ​​مئی 2025 کو دوپہر15 : 13 بجے تک، ان سطور کو ختم کرنےکے وقت، انکم ٹیکس فعّال افراد کی کل تعداد (قدرتی اور قانونی) جو کوئی بھی قابل ٹیکس آمدنی ظاہر کرتے ہیں،30 لاکھ سے زائد نہ تھی! باقی سب نے قابل ٹیکس حد سےکم آمدنی ظاہر کی یا کوئی قابل قدر ٹیکس ادا نہیں کیا یا پھر ناقص ٹیکس پالیسی کی وجہ سے ریفنڈز کا تقاضا کیا، کیونکہ پیشگی کٹوتی کے نظام کے تحت آمدنی کے علاوہ بہت سے اخراجات اور سرمایہ کاری کی ٹرانزیکشنز پر بِلاجواز انکم ٹیکس حاصل کیا جاتا ہے!

  ایف بی آر کی ویب سائٹ پر 9 2 ​​مئی 2025 کو دوپہر 15 : 13 بجے ایکٹو (active)انکم ٹیکس دہندگان کی کل تعداد 7,091,167 تھی ،جس میں انفرادی ٹیکس گوشوارہ دہندگان  5،004،168 اور بقیہ   2،014،999تھے۔

پی ٹی اے کے تاریخی اعداد و شمار کسی شک و شبہ سے بالاتر اس حقیقت کو ثابت کرتے ہیں کہ یکم جولائی 2024 سے جب موبائل/براڈ بینڈ صارفین پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا تھا اور اس سے پہلے بھی، پوری قابل ٹیکس آبادی اور یہاں تک کہ وہ افراد بھی جن کی آمدنی قابل حد سے کم ہے ، یا وہ کسی کے زیر کفالت ہیں ، مجموعی طور پر 100 ملین انفرادی اشخاص ، ایڈوانس اور ایڈجسٹ انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ 

ان موبائل/براڈ بینڈ صارفین میں سے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعدادآج کے دن تک بمشکل  7ملین ہے۔ آخر اس کی وجہ اس کے علاوہ کیا ہو سکتی ہے کہ شہریوں کو ریاست اور خاص طور پر ایف بی آر پر اعتماد نہیں اور گوشوارہ کا بھرنا اور داخل کرنا پچیدہ عمل ہے! اگر وہ ریفنڈ کے حصول کے لئے کسی ٹیکس ایڈوائزر کے پاس جائیں تو اس کی فیس ہی اس رقم سے زیادہ ہو گی اور ان کو  ٹیکس کے عملہ کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا    ڈربھی ہو گا! 

پری پیڈ یا پوسٹ پیڈ موبائل/براڈ بینڈ/انٹرنیٹ صارفین کے لئے ودہولڈنگ ٹیکس کی موجودہ شرح فائلرز کے طور پر %15 ، اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن B114 کے تحت جاری کردہ عام آرڈر میں  جاری کردہ لسٹ کی  صورت میں %75 ہے ۔ انہیں ایڈوانس انکم ٹیکس کے علاوہ، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) اور صوبوں کی طرف سے عائد خدمات پر %19.5 سیلز ٹیکس بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔

30 جون 2024 تک منفرد موبائل صارفین کی کل تعداد 120 ملین سے کم نہیں تھی جو کہ پی ٹی اے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب  125 ملین ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس سال 2024 کے لیے ایف بی آر کو صرف اس ڈیٹا بیس سے کم از کم 30 ملین قابل ٹیکس افراد مل سکتے تھے - سبھی ایڈوانس/ایڈجسٹ ایبل انکم ٹیکس ادا کر رہے تھے۔ اس پر کام کیوں  نہیں کیا گیا اور آیندہ بھی کرنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔ ایف بی آر اس کے لئے تو کسی اور کو ذمہ دار نہیں   ٹہرا سکتا۔ اگر ارادہ موجود ہو تو،   کچھ  ڈیٹا انلیسٹس یہ کام باخوبی کر سکتے ہیں ۔

 ایکٹو ٹیکس دہندگان کی فہرست (ATL) پر انفرادی ٹیکس فائلرز کی تعداد انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کے سیکشن 236 کے تحت ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرنے والے منفرد موبائل صارفین سے بہت ہی بھی کم ہے یہ فرق100 ملین سےبھی کچھ زیادہ ہے ۔ ایف بی آر کی نا اہلی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے۔ 

ایک عرصے سے ہمارا ٹیکس نظام بوسیدہ، جابرانہ، غیر منصفانہ اور ہدف  کی وصولی پر مبنی ہو گیا ہے۔ ٹیکس نظام کے فلسفیانہ فریم ورک، مساوات اور انصاف کے اصولوں پر بحث کرنے کی اشد ضرورت ہے، جو ہماری ٹیکس پالیسی کا بنیادی  جزو ہونا چاہیے نہ کہ محض محصولات کے اہداف کا حصول۔

ہمارے ٹیکس مینیجرز جابرانہ ٹیکسوں کے ذریعے بجٹ کے اہداف کو پورا کر رہے ہیں، وہ معاشرے کے غریب طبقوں پر محصولات کا اصل بوجھ (incidence) منتقل کرنے کے بعد، امیروں کو ٹیکس سے مستثنیٰ کر رہے ہیں۔ اس سے غریب اور امیر کے درمیان انکم اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور بھی زیادہ بڑھ رہی ہے۔ وہ محصولات حقیقی صلاحیت کے مطابق اکٹھا نہیں کر رہے، جو کہ صرف قومی سطح پر 34 ٹریلین روپے سے کم نہیں ہیں۔ 

  ایف بی آر ایک نااہل اور کرپٹ ادارہ ثابت ہوا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں 95 فیصد سے زیادہ وصولی ودہولڈنگ ٹیکس یا ایڈوانس ٹیکس یا ریٹرن کے ساتھ ادا کیے گئے ٹیکسز کے ذریعے ہوئی ہے ۔ ایک طرف تو ہم ’ادائیگی کی صلاحیت‘ کے قائم کردہ آئینی اصول [آرٹیکل 3] کے مطابق ٹیکس وصول نہیں کر رہے ہیں تو دوسری طرف پہلے سے موجود ٹیکس کی بنیاد کو مزید نچوڑنے کے لیے غیر حقیقی اور ظلمانہ سالانہ اہداف مقرر کر رہے ہیں ۔

 امیر اور طاقتور غیر حاضر جاگیرداروں، بڑے املاک کے مالکان اور فضول خرچی کرنے والوں پر ٹیکس لگانے کے لئے قومی سطح پر سیاسی عزم (political will) کا مکمل فقدان ہے۔ امیر غیر حاضر زمیندار آسانی سے ٹیکس نیٹ سے باہر رہتے ہیں، جبکہ غریب برانڈ ناموں سے فروخت ہونے والی نمک جیسی بنیادی شے پر بھی %18 جنرل سیلز ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب برطانوی نوآبادیاتی دور میں نمک پر ٹیکس عائد کیا گیا تھا تو اس وقت کے بصیرت رکھنے والے لیڈروں نے اس کے خلاف بغاوت کر دی ۔ تاہم آزادی کے بعد کے دور میں ہمارے حکمران عوام کی اکثریت کی آمدنی کی استطاعت سے زیادہ یوٹیلیٹی اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ برانڈ ناموں سے فروخت ہونے والے نمک اور روزمرہ کی دیگر کھانے پینے کی اشیاء پر بے تحاشا ٹیکس لگا کر غریب ترین لوگوں کی معاشی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔

 اب ہمارے مالیاتی جادوگر، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا نام استعمال کرتے ہوئے، مبینہ طور پر آنے والے فنانس بل 2025 میں پیٹرولیم لیوی کو 100روپے سے زیادہ لاگو کرنے کا حق تجویز کررہے ہیں ، جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے خلاف ہے— نان ٹیکس لیوی ہونے کی وجہ سے یہ منی بل کا حصہ نہیں ہو سکتا۔

وفاقی سطح پر ریونیو کے اعلیٰ ادارے ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ دو رپورٹس (شروع میں نقل کی گئی ہیں) کسی شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرتی ہیں کہ یہ ادارہ نااہلی ، بے اثری، بدعنوانی، بے ضابطگی اور ڈیٹا میں ہیرا پھیری کا مظہر ہے۔

 تازہ ترین اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایف بی آر تمام محاذوں پر ناکام رہا ہے: وصولی کے اہداف، واجب الادا رقم کی واپسی، ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا، ٹیکس چوری کا مقابلہ کرنا اور بچنا، بقایا جات کی وصولی، رضاکارانہ تعمیل، اصلاحات کا عمل اور کیا نہیں!

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ایف بی آر نے ٹیکس ایڈمنسٹریٹو ریفارمز پروگرام (TARP) اور پاکستان ریز ریونیو (PRR) پراجیکٹ کے تحت ملین ڈالر کے ادھار فنڈز کو بے رحمی سے ضائع کیا ہے، لیکن 30 ملین ممکنہ انکم ٹیکس دہندگان کو رضاکارانہ طور پر ڈیکلریشن فائل کرنے پر آمادہ/مجبور نہیں کر سکا ۔ 

اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ (2023-24) میں، ایف بی آر نے 30 جون 2024 تک  انکم ٹیکس کے کل رجسٹرڈ افراد کی تعداد 13,446,015 ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ مالی سال 2023-24 کے دوران فعال ٹیکس دہندگان صرف 4,738,595 تھے! آج بھی، 29 مئی 2025 تک، فعال انکم ٹیکس دہندگان کی کل تعداد 70 لاکھ  ہے۔ ایف بی آر کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق نان فائلرز  کی تعداد  6 ملین سے زیادہ ہے!!

واضح رہے کہ 16 اکتوبر 2024 کو ایف بی آر کے موجودہ چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے، جو ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور پالیسی کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے، دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں کل رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد صرف 40 لاکھ ہے! مسٹر لنگڑیال نے سالانہ کارکردگی رپورٹ (2023-24) کا تعارف لکھا ہے (ممکنہ طور پر صرف چند تبدیلیوں کے ساتھ بنائے گئے مسودے پر دستخط/منظوری دی ہوگی) ، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان بھر میں 30 جون 2024 تک رجسٹرڈ انکم ٹیکس دہندگان کی کل تعداد 13.466 ملین تک پہنچ گئی، اور سال کے دوران نئے3,574,269 ٹیکس گزاروں کے اضافہ کا دعویٰ بھی کیا گیاہے۔  حیرت ہے کہ مسٹر لنگڑیال نے 16 اکتوبر 2024 کو کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) سے اپنے پہلے خطاب میں اتنی بڑی تعداد کو کیسے فراموش کر دیا جس کا دعویٰ ایف بی آر   کی سرکاری دستاویز میں کیا گیا تھا اور انہوں نے  خود اس کا تعارف بھی لکھا تھا! 

بدقسمتی سے، اپنے مختلف خطابات میں، مسٹر لنگڑیال نے الزام لگایا کہ "پاکستان کی 90 فیصد آبادی ٹیکس ادا نہیں کرتی"۔ یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے جو ان کالموں میں کثرت سے اجاگر کیے گئے ہیں اور اب ایف بی آر کی دو حالیہ سرکاری اشاعتوں، یعنی سالانہ کارکردگی رپورٹ (2023-24) اور ریونیو ڈویژن 2024 کی سالانہ کتاب میں اس کی تردید کی گئی ہے۔

ایک مضمون میں اس پر روشنی ڈالی گئی ہے :

"وزارت خزانہ کی طرف سے قومی اسمبلی کے سامنے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان میں موبائل صارفین سے ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل انکم ٹیکس کے طور پر کھربوں روپے نکالنے کا انکشاف بہت سے لوگوں کے لیے چونکا دینے والا ہو سکتا ہے۔ تاہم، ان کالموں میں بار بار اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غریب سے غریب ترین طبقے کو اس قدر خوفناک اور جابرانہ استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ ملیٹرو جوڈیشل-سول کمپلیکس کے امیر اور طاقتور ارکان کی ایک چھوٹی سی تعداد ٹیکسوں میں بے مثال چھوٹ، رعایتوں اور  استثناجات سے لطف اندوز ہوتی ہے"۔

چیئرمین ایف بی آر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے اپنی بریفنگ میں اس حقیت کے انکشاف میں ناکام رہے کہ نان فائلرز کی اکثریت کا تعلق معاشرے کے امیر ترین طبقے سے ہے، جس میں 50 فیصد سے زائد سرکاری ملازمین بشمول ایف بی آر کے افسران/اہلکار، قابل ٹیکس آمدنی سے لطف اندوز ہونے والے اور پارلیمنٹ کے سینکڑوں منتخب اراکین شامل ہیں۔

  ایف بی آر نہ صرف ٹیکس کی اصل صلاحیت34 ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا %17، اگر غیر رسمی معیشت کو بھی شامل کیا جائے) کو استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے ، لیکن امیروں سے ٹیکس کا بوجھ معاشرے کے غریب طبقات پر منتقل کرنے کا بھی قصوروار ہے۔ یہ حکمران اشرافیہ ، ناقابل تسخیر ملیٹرو-جوڈیشل-سول کمپلیکس، بدعنوان سیاستدانوں اور لالچی تاجروں اور ٹیکس چوروں کے مفادات کی خدمت اور تحفظ کر رہا ہے ۔

اب وقت آگیا ہے کہ ایف بی آر اپنی ویب سائٹ پر انکم ٹیکس فائلرز کا ڈیٹا اور نئے فائلرز کے گوشواروں کے ساتھ ٹیکس سال 2024 میں کتنا ٹیکس وصول کیا گیا  شائع کرے اور اسے پبلک کرے۔ یہ بھی بتانا چاہیے کہ مالی سال 2024 کے دوران صرف 4.74 ملین فعال ٹیکس دہندگان کیوں تھے، جب کہ اس کی اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق کل رجسٹرڈ انکم ٹیکس افراد کی تعداد 13.466 ملین تھی۔  اس بات پر زور دینے کی ضرورت نہیں کہ آئین کے آرٹیکل 19اے کے تحت یہ ایف بی آر کی ذمہ داری ہے، جس میں لکھا ہے:

 "ہر شہری کو ضابطے اور قانون کی طرف سے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تحت عوامی اہمیت کے تمام معاملات میں معلومات تک رسائی حاصل کرنے کا حق ہوگا "۔

ایف بی آر کی جانب سے شائع کردہ مذکورہ بالا اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس سال 2024 کے لیے انکم ٹیکس دہندگان کی  کل آبادی کے صرف ایک قلیل حصے نے گوشوارے جمع کرائے ہیں۔یاد رہے کہ مالی سال 2024 کے دوران کل انکم ٹیکس کی وصولی کا %60 یعنی 2.740 ٹریلین روپے محض  65 سے زیادہ ودہولڈنگ دفعات کے تحت اِکھٹا کیا گیا ،مگر جن سے  ٹیکس پیشگی حاصل کیا گیا ،ان سب سے انکم ٹیکس کے گوشوارے حاصل کرنے کی زحمت نہیں کی گئی۔ 

سالانہ کارکردگی رپورٹ (2023-24) میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مالی سال 2024 کے دوران فیلڈ فارمیشنز نے 4,738,595 نئے انکم ٹیکس دہندگان کو رجسٹر کرنے میں کامیابی حاصل کی! یہ کیسے ہوا کہ 30 جون 2024 تک 13,446,015 کل رجسٹرڈ انکم ٹیکس دہندگان میں سے صرف 4.74 ملین ایکٹو ٹیکس دہندگان کی فہرست (ATL) میں شامل تھے اور یہ تعداد 29 مئی 2025 کو ان سطور کے لکھنے کے وقت صرف  7,091,167 تھی!

29 مئی 2025   کو   ایف بی آر کے اپنے ڈیٹا کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن فائلرز اور رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان میں 6,354,848 اور ممکنہ انکم ٹیکس دہندگان   کے مقابلے میں 23 ملین کا بڑا فرق ،چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر خزانہ کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔

لاکھوں موبائل صارفین،  والدین کے زیر کفالت ہیں، اور وہ   کوئی آمدنی نہیں کماتے ۔ اس طرح پیشگی ٹیکس ادا کرنے والے موبائل صارفین کی بھاری اکثریت ایڈوانس ایڈجسٹ ایبل انکم ٹیکس ادا کر رہی ہے ،اگرچہ ان کی کوئی بھی آمدنی قابل ٹیکس نہیں یا 600,000 روپے سالانہ سے کم ہے۔ وہ ٹیکس ریٹرن فائل کر کے  پیشگی ادا شدہ انکم ٹیکس کی واپسی کا دعویٰ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔ بنیادی طور پر اس لیے کہ روکی گئی رقم سے کہیں زیادہ لاگت آئے گی اور دوسرا، ریفنڈ کلیم کے لیے الیکٹرانک طور پر درخواست دائر کرنی پڑتی ہے۔ بہت سے ناخواندہ پاکستانیوں کے لیے، ایف بی آر کی طرف سے اس طرح کی شرائط عائد کرنا  ، منفی ذہنی میلان کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔

اس کے برعکس، امیر اور طاقتور کی اکثریت اپنی بے پناہ آمدنی/دولت پر ود ہولڈنگ ٹیکس کے ذریعے آمدنی پر واجب الادا  انکم ٹیکس کا ایک بہت ہی کم حصہ ادا کرتی ہے۔ وہ کبھی بھی آمدنی کے گوشوارے اور دولت کے گوشوارے جمع کرانے کی زحمت نہیں کرتے اور ایف بی آر ان سے کوئی باز پُرش نہیں کرتا ، جس کے لئے معقول قانونی منطق تو موجود نہیں ، مگر وزنی  دلیل یہ ہے کہ بطور نان فائلر وہ پیشگی ٹیکس دگنی شرح سے ادا کرتے ہیں ۔  نان فائلرز سے ایک ٹریلین کا ٹیکس پیشگی حاصل کرنے کی توجیہ کی آڑ میں کھربوں روپے کی ٹیکس چوری کو قانونی تحفظ دینے والے قانون ساز اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام خود ہی اس کے سب سےبڑے فوائد کُنِندہ بھی ہیں۔ 

 گزشتہ چھ ٹیکس سالوں 2018 اور 2024 کے لیے (جس کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 میں فراہم کردہ حد کے تحت نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے)، یہاں تک کہ ایف بی آر کے بہت سے افسران، ارکان پارلیمنٹ، ججز اور اعلیٰ درجے کے سول ملٹری بیوروکریٹس اور ان کے زیر کفالت افراد (زیادہ تر آمدنی والے اثاثے ان کے نام یا  فرضی ناموں   پر رکھے گئے ہیں) ٹیکس گوشوارے جمع کروانے میں ناکام رہے ہیں،  مگر ایف بی آر کی طرف سے کوئی نوٹس ارسال کرنے کا عزم سامنے نہیں آیا۔

اس کے بر عکس غیر دستوری قوانین اور خوں خوار آڈیٹرز اور بدعنوان عملہ کو فیکٹریوں اور دکانوں پر بھیج کر وزیر خزانہ کے معاشی صورت حال کو بہتر کرنے کے منصوبے کو وزیر اعظم کے منظور نظر ایف بی آر چیئرمین ناکام کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ 

ایف بی آر کو مندرجہ بالا حقائق اور اعداد و شمار  جو پچھلے مضامین میں بیان کیے گئے ہیں  کی روشنی میں اپنی روح کو ٹٹولنے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنی ویب سائٹ پر ججوں، جرنیلوں اور اعلیٰ درجے کے سرکاری ملازمین سے متعلق ڈیٹا رکھنا چاہیے جس میں یہ دکھایا جائے کہ پچھلے دس سالوں میں ریٹرن کے ساتھ کتنا ٹیکس ادا کیا گیا، اس کے ساتھ قابل ٹیکس مراعات اور فوائد قانون کی کسی مخصوص شق کے تحت مستثنیٰ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ 

آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت قوم کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ پچھلے 20 سالوں کے دوران پاکستان کے ایک فیصد امیر یعنی ججوں، جرنیلوں، بیوروکریٹس، ارکان پارلیمنٹ، سیاستدانوں، پیشہ ور افراد، صنعت کاروں اور تاجروں نے کتنا ٹیکس ادا کیا۔ مذکورہ اعداد و شمار، جن کا حوالہ دیا گیا ہے اور بہت سے دوسرے مضامین میں اس سے پہلے بھی اجاگر کیے گئے ہیں، ایف بی آر کی غیر موثریت اور نااہلی کی تصدیق کرتے ہیں۔

 تقریباً 125 ملین افراد موبائل صارفین کے طور انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں، لیکن امیر اور طاقتور اپنی بے پناہ آمدنی اور اثاثوں اور 'ادائیگی کی صلاحیت' کے اصول پر ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں۔   ہمارے ٹیکس کی بنیاد مسخ شدہ ہے۔ یہ نظام ٹیکس سے بچنے والوں اور قومی دولت کو لوٹنے والوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، بیرون ملک اثاثے چھپانے کے علاوہ چھوٹوں، معافیوں، رعایتوں اور استثنیٰ کے ذریعے چار کھرب روپے سے زائد کی ٹیکس آمدنی کو ضائع کرنے کے علاوہ زیادہ تر وقت SROs (قانونی ریگولیٹری آرڈرز) کے شیطانی آلہ کا استعمال کرتا ہے۔

آج کا پاکستان ایک ایسی ریاست کی نمائندگی کرتا ہے جہاں بدعنوان سول ملٹری بیوروکریٹس، نااہل سیاستدانوں اور منافع خور تاجر  بہت امیر ہیں، لیکن ریاست غریب ہے۔ یہ قرضے  پر لیے گئے فنڈز پر زیادہ سے زیادہ انحصار کر رہا ہے ۔ 31 مارچ 2025 تک ہمارے کل بیرونی قرضے اور واجبات 130.310 بلین امریکی ڈالر کے خوفناک اعداد و شمار کو چھو چکے ہیں اور اندرونی قرضہ 89.834 ٹریلین روپے پر کھڑا ہے— کل ملکی قرضہ پاکستان کی کل سالانہ آمدنی کا دس گنا ہے، جو کہ نا قابل برداشت حد کو چُھو چکا ہے۔

موجودہ صورت حال پے درپے حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔ فوجی اور سویلین یکساں طور پر لوٹ مار اور بدعنوانی کی قوتوں کو آزادانہ اجازت دیتی رہی ہیں۔  ہمارے حکمران طبقے کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان قرضوں کی غلامی سے نکلے، کیونکہ اس سے ریاست اور ذرائع پیداوار پر ان کا دائمی کنٹرول ختم ہو جائے گا، جسے وہ نوآبادیاتی قوتوں کے گماشتوں کے طور پر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اصلاحی اقدامات کے لیے جامع روڈ میپ [Towards Broad, Flat, Low-rate and Predictable Taxes (Prime, October 2024)]  میں موجود ہے،  لیکن پارلیمنٹ میں منتخب (sic) اراکین کے پاس جابرانہ اور ترقی مخالف ٹیکس نظام کو ٹھیک کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کا وقت نہیں ہے۔

 موجودہ حکومتی اراکین    پارلیمان کی ترجیحات یہ ہیں کہ کس طرح اپنے مفادات کا تحفظ کیا جائے ،اور بندوق  کے زور پر  طاقت رکھنے والوں ، جواپنے ہی لوگوں کو محکوم بنانے میں یقین رکھتے ہیں ، کے کہنے پر آپس میں لڑ کر جمہوری اقتدار  اور آئینی اداروں کو کمزور کیا جائے۔

 دستور پاکستان کے نیچے ایک قانون بنانے کا وقت آ گیا ہے کہ بیرون ملک 100,000امریکی ڈالر  سے زیادہ  کے اثاثے (  منقولہ اور غیر منقولہ)  رکھنے والوں( اپنے نام پر ، زیر کفالت افراد یا بے نامی) کو پاکستان میں کوئی  بھی الیکشن لڑنے یا کوئی عوامی اور ریاستی  عہدہ رکھنے کی اجازت  نہیں ہو گی۔  یہ اثاثے چاہے قانونی ہی کیوں نا ہوں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ   اگر  پاکستانی  کوئی عوامی  یا  ریاستی  عہدہ  حاصل کرنا چاہتے ہیں تو  اپنے اثاثے  ملک میں رکھیں یا واپس لا کر عہدہ حاصل کریں ۔   ایف بی آر  ان کے بیرون ملک اثاثوں کے  ٹیکس ڈیکلریشنز کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ شیئر  کرنے کا پابند ہو گا۔

مزیدخبریں