Type to search

عوام کی آواز معاشرہ

چلو کر لو احتساب میرا

  • 17
    Shares

ذات پات، رنگ و نسل اور کہیں مذہب اور معاشرے سے باہر نکلتے نظر نہیں آتے۔ صدیوں کا سفر طے کر چکے ہیں اور لگتا ہے کہ اس سوچ سے باہر نکلنے کے لیے کچھ اور صدیاں چاہئیں۔ سندھ میں رہتے ہوئے اگر سندھ کا تھوڑا جائزہ لوں تو غلط نہ ہو گا۔

وہ کون سے عوامل ہیں جو ہندوؤں کو الگ قوم بناتے ہیں۔ شاید ”سندھی ہندو” کہنا درست رہے گا۔ ویسے بھارت کے ڈراموں نے کچھ اچھا بھی کیا کہ کم از کم اس ہندو طبقے کو یہ تو سمجھایا کہ ہندو ایک نہیں، اور بھی زبانیں بولنے والے ہیں، اور ان کا لباس بھی مختلف ہے۔ بڑے طبقے نے مفلس اور غریب طبقے کو کبھی اپنا سمجھا ہی نہیں، بس نظر انداز کرتے رہے ہیں۔

مجھے تو میڈیا کی طاقت سے اندازہ ہوا ہے کہ آئے دن کسی بیٹی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ ہر روز اس طرح کی خبریں نشر ہوتی ہیں۔ دیکھا جائے تو قبائلی نظام میں علاقے کا سربراہ سب سے معتبر، اعلیٰ اور طاقتور ہوتا ہے۔ اب ہوا کچھ یوں کہ آئے دن کوئی نہ کوئی بیٹی کسی وڈیرے کی ہوس کی بلی چڑھتی ہے۔ لیکن، اتنا چرچا کبھی نہیں سنا۔ کیا وہ ماں اور باپ نہیں بلبلاتے؟

تو پھر ایسا کیا ہے کہ جب سندھی ہندؤ کی بیٹی کی بات آتی ہے تو لگتا ہے کہ اب زیادتی بڑھ سی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو جو بیج بویا گیا تھا وہی کاٹا جا رہا ہے۔ اعلیٰ اور معتبر طبقہ اپنی ذات سے باہر نکلے تو بات بنے۔ ویسے کوئی مشکل نہیں اس طبقے کے لیے، کسی بھی اوٹ چلے جانا۔ لیکن اس طبقے کا کیا جن کی مفلسی اور بدحالی نے انہیں کہیں کا نا چھوڑا۔ مسلم تو چھوڑو اسے اپنے ہی مذہب یعنی ہندوؤں کے اونچے طبقے نے قرض کے بوجھ تلے دبوچ رکھا ہے۔ اگر ہندو کا قرض ہے تو نسل در نسل چلتا رہے گا اور اگر وڈیرے کا ہے تو پھر سمجھو بہو، بیٹی گروی۔

اونچا طبقہ اپنی ذات میں گم ہے اور دوسری طرف نچلا طبقہ ہر سمت سے ملکی معیشت میں نظر آتا ہے لیکن شاید ان کی مفلسی ہی ان کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ حق کی بات سب کرتے ہیں اس حق کو لینے کے لیے بڑے بڑے وعدے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن کون سا حق؟ کس کا حق؟ اور جب اپنی بیٹی جاتی ہے تو کرایے کے لوگ اکٹھے کر کے دھرنے دینے جاتے ہو۔

یہ اونچے اور نچلے طبقے کی جنگ کب تک چلے گی۔ یہ ممکن ہوتا نظر نہیں آتا بس دکھ اس بات کا ہے کہ میری بیٹیاں دربدر ہو رہی ہیں۔ پھر چاہے جو بھی نام دیں، میری ان عزتوں کا کوئی محافظ نہیں۔

پتنگ میں بسی وہ
کٹی جو ڈور سے کچھ اس طرح
ناز تھا جس کو اپنے ہونے کا
وہ غرور، وہ سکونِ لہر مٹ ہی گیا
لہراتی، الجھتی، الجھاتی، ٹکراتی، لڑکھڑاتی
وہ سسکتی، بلبلاتی، لہولہان، ڈری سہمی، ادھڑی پھٹی، یادوں کو سینے میں دباتی
میرے آنگن پر وہ گری کرھاتی، اپنے درد کو سمیٹتی
سوچ کر یہ تھامہ اس کو، جس نے چھو لیا ہو میرے درد کو
گہری سانس میں ڈوبتے ہوئے بولی ”میری شان تو اڑنے میں ہی ہے، جو کٹی ڈور تو بکھر کے کہیں کی نہ رہی”

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *