Type to search

خبریں سیاست

برطانیہ: فیصل واوڈا کی یہاں 11 جائیدادیں ہیں، عابد شیر نے نیشنل کرائم ایجنسی کو شکایت درج کرا دی

  • 25
    Shares

سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عابد شیر علی نےوفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کے خلاف برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسٹی (این سی اے) میں شکایت درج کرادی۔

عابد شیر علی نے شکایت میں مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی ( این سی اے) فیصل واوڈا کے اثاثوں کے متعلق تحقیقات کرے۔

انہوں نے دعویٰ کے ساتھ فیصل واوڈا پر برطانیہ میں11 پراپرٹیز موجود ہونے کا الزام لگایا۔ ن لیگی رہنما نے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین قومی احتساب بیورو ( نیب) سے اپیل کی ہے کہ وہ وفاقی وزیر آبی وسائل کے خلاف ایکشن لیں۔

دوسری  جانب جعلی حلف نامے کے معاملے پر پی آٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کی نااہلی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی، الیکشن کمیشن فیصل واوڈا کےخلاف دائردرخواست پرسماعت تین فروری کو کرے گا، اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نےفریقین کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

یاد رہے وفاقی وزیرآبی وسائل فیصل واوڈا کی نااہلی کےلیے امن ترقی کےچیئرمین فائق شاہ کی جانب سے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی میں جعلی حلف نامہ جمع کرایا،جعلی حلف نامہ جمع کرانے پرفیصل واوڈا کوآئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا جائے۔

آئین پاکستان کا آرٹیکل 62 کیا کہتا ہے؟  

آرٹیکل 62 پارلیمنٹ اراکین کی اہلیت سے متعلق ہے جس کی مختلف شقیں ہیں، جس پر پورا اترنا ضروری ہے، کوئی ایسا شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں جو پاکستان کا شہری نہ ہو۔

رکن قومی اسمبلی کی عمر 25 سال ہونا ضروری ہے اور بطور ووٹر اس کے نام کا اندراج کسی بھی انتخابی فہرست میں موجود ہو جو پاکستان کے کسی حصے میں جنرل سیٹ یا غیر مسلم سیٹ کے لئے ہو۔

رکن سینیٹ کی صورت میں 30 سال عمر ہونا ضروری ہے اور ایسے شخص کا صوبے کے کسی بھی حصے میں بطور ووٹر نام درج ہو۔

آرٹیکل 62 ڈی کہتا ہے کہ ایسا شخص اچھے کردار کا حامل ہو اور اسلامی احکامات سے انحراف کے لئے مشہور نہ ہو اور اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو اور اسلام کے منشور کردہ فرائض کا پابند ہو، نیز کبیرہ گناہ سے اجتناب کرتا ہو۔

آرٹیکل 62 ون ایف کے مطابق پارلیمنٹ کا رکن بننے کا خواہش مند شخص سمجھدار ہو، پارسا ہو، ایماندار ہو اور کسی عدالت کا فیصلہ اس کے خلاف نہ ہو جبکہ اس نے پاکستان بننے کے بعد ملک کی سالمیت کے خلاف کوئی کام نہ کیا ہو اور نظریہ پاکستان کی مخالفت نہ کی ہو۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *