Type to search

خبریں سیاست

فارن فنڈنگ کیس؛ وزیر اعظم کی ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف درخواست دائر

  • 18
    Shares

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بطور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار اور تحریک انصاف کے سابق عہدے دار اکبر ایس بابر کی پارٹی رکنیت کے حوالے سے دیے گئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

چار دسمبر 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے فارن فنڈنگ کیس میں درخواست گزار اور تحریک انصاف کے سابق عہدے دار اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کا رکن قرار دیتے ہوئے اس کیس کو مزید شنوائی کے لیے واپس الیکشن کمیشن آف پاکستان بھیجنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

اب عمران خان نے بطور پارٹی چیئرمین ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون ہے۔

عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اکبر ایس بابر کا 2011 سے تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں، وہ کیس میں متاثرہ فریق نہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو کیس سننے کا اختیار نہیں، اکبر ایس بابر کا اسکروٹنی کمیٹی میں پیش ہونا قانون کے خلاف ہے۔

عمران خان کا دائر درخواست میں مؤقف ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی مدنظر نہیں رکھا، جبکہ اکبر ایس بابر کی پی ٹی آئی چھوڑنے کی ای میل بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔

انہوں نے درخواست میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اکبر ایس بابر کو پی ٹی آئی کا رکن قرار دیا ہے ، جبکہ ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کا اختیار استعمال کرتے ہوئے متنازع حقائق پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔

درخواست کا پس منظر

پاکستان تحریک انصاف کے سابق نائب صدر اکبر ایس بابر نے سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے خلاف 2014 سے درخواست دائر کررکھی ہے۔ پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست گزار کی مسلمہ حیثیت کو چیلنج کیا تھا کہ انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا تاہم ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کردی تھی جس کے خلاف پی ٹی آئی نے اپیل دائر کی تھی۔ جس کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست پر اپنے تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن اکبر ایس بابر کی پی ٹی آئی کی ممبر شپ کے حوالے سے فیصلہ کرے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *