Type to search

بلاگ تجزیہ جمہوریت حکومت سیاست

جہانگیر ترین اور شیخ رشید بھی بزدار کو کوئی یقین دہانی کروانے سے قاصر، فیصلہ ہو چکا ہے

معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اپنے اقتدار کے پورے عرصے میں پہلی بار گھبراہٹ میں دیکھا گیا ہے۔ 25 جنوری کو ایک ڈرا سہما بزدار دیکھنے میں آیا کیونکہ اپنے خلاف خود ہی 20 ایم پی ایز کا پریشر گروپ بنوانے کا تاثر پوری طرح راسخ ہو چکا، عثمان بزدار جسے زائل کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔

ماضی میں ان کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل جس مؤثر انداز میں ان کے خلاف شکایات یا وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے کسی منفی تاثر کو زائل کرنے کے لئے ان کا دفاع کرتے رہے ہیں، وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان ایسا کوئی کردار ادا نہیں کر پائے، جس کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات سے محض 24 گھنٹے پہلے وہ ایوان وزیراعظم کی طاقتور شخصیت جہانگیر ترین اور پنڈی بوائے سے مدد طلب کرنے پر مجبور ہوئے۔

جہانگیر ترین کے ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب کی ملاقات انہی کی درخواست پر ہوئی جس میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے انہیں اپنی بپتا سناتے ہوئے ان سے مدد کی درخواست کی۔ بقول حبیب جالب:

حالات کا ماتم تھا، ملاقات کہاں تھی

تاہم ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین جو وزیراعظم کے آفس اور گھر، دونوں میں اثرورسوخ کے حامل سمجھے جاتے ہیں، عثمان بزدار کو کوئی کمٹمنٹ نہ دے سکے جبکہ وفاقی وزیر شیخ رشید کے ساتھ ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے ان سے کہا آپ مقتدر حلقوں کے بہت قریب ہیں، اگر وہاں سے میری مخالفت رک جائے تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار نے شیخ رشید سے درخواست کی کہ آپ مقتدر حلقوں میں خصوصی طور پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے وہاں میرے حق میں نرم گوشہ پیدا کریں اور میرے لئے اپروول حاصل کر کے دیں۔ تاہم، شیخ رشید نے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ کوئی کمٹمنٹ کرنے سے معذوری ظاہر کر دی۔ وفاقی وزیر ریلوے کے ساتھ ملاقات بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کی اپنی درخواست پر ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اصل میں پنجاب میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں انتہائی غیر مقبول ہو چکے ہیں جبکہ مقتدر حلقے پہلے ہی ایک عرصے سے ان کے حوالے سے شدید مایوسی کا اظہار، حتیٰ کہ انہیں ہٹا کر ان کی جگہ کسی اہل شخصیت کو لانے کا تقاضا کر چکے ہیں۔ البتّہ کپتان کو عثمان بزدار کے متبادل کے چناؤ اور پھر مقتدر حلقوں سے اس کی منظوری کا مرحلہ درپیش ہے۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب بھر میں ضلع اور تحصیل سطح پر کمپلینٹ سیل قائم کرتے ہوئے مقامی ٹکٹ ہولڈرز اور تنظیمی عہدے داروں کو مقامی شکائت سیل کا چیئرمین اور وائس چیئرمین مقرر کیا ہے۔ گذشتہ روز صوبہ بھر سے متذکرہ چیئرمین اور وائس چیئرمین حضرات کو بلا کر وزیر اعلیٰ نے ان کے ساتھ بھی ملاقات کی جس کا مقصد یہ تاثر دینا بتایا جاتا ہے کہ وہ صوبے میں پارٹی کو گراس روٹ لیول پر منظم کرنے کے لئے بھی بھرپور کام کر رہے ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *