Type to search

تجزیہ حکومت سیاست

منظور پشتین کی گرفتاری: یہ الٹے مشورے دیتا کون ہے؟

پیر کی صبح پشتون تحفظ تحریک کے بانی منظور پشتین کو پشاور پولیس نے گرفتار کیا تو سوشل میڈیا پر ہاہا کار مچ گئی۔ منظور پشتین پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ وہ آئینِ پاکستان کو نہیں مانتے اور اس موقع پر ریاست کے خلاف کچھ کلمات بھی ادا کیے تھے۔ انہیں ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کی درخواست پر پشاور کے یونیورسٹی ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا اور تھانہ شرکئی میں بند کر دیا گیا۔ یہ اطلاع سب سے پہلے پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی محسن داؤڑ کی جانب سے ٹوئیٹ کی گئی۔ خبر کے آتے ہی پی ٹی ایم کے حامیوں اور ہمدردوں کی جانب سے اس گرفتاری کی شدید مذمت کی جانے لگی۔

دنیا بھر میں مظاہروں کی کال

پیر کی شام پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے دونوں ایم این ایز محسن داؤڑ اور علی وزیر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ منگل کو پوری دنیا میں پشتون تحفظ تحریک کے ہمدرد منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کریں گے۔ اس موقع پر ان کے ساتھ سینیٹر عثمان خان کاکڑ، پیپلز پارٹی رہنما فرحت اللہ بابر، سینیئر سیاستدان افراسیاب خٹک اور دیگر سیاسی و سماجی کارکن بھی موجود تھے۔ علی وزیر نے کہا کہ منظور پشتین گرفتاری پر ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس ریاست کے خلاف نہیں ہیں، منظور پشتین کے خلاف آئین کے خلاف بات کرنے کا الزام غلط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب سے دو دن پہلے ہی وزیرِ دفاع پرویز خٹک نے مذاکرات کی بات کی تھی اور ایسے موقع پر منظور پشتین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سینیٹ میں منظور پشتین کو دعوت

واضح رہے کہ گذشتہ برس سینیٹ میں بھی علی وزیر، منظور پشتین اور محسن داؤڑ کو مدعو کیا گیا تھا اور اس موقع پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے نہ صرف پی ٹی ایم کے مطالبات کی حمایت کی تھی بلکہ منظور پشتین نے بھی سینیٹ کی خصوصی کمیٹی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا اور مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے اس کی تجاویز کو خوش آمدید کہا تھا۔ تاہم، اس کے چند ہی روز بعد خڑ قمر کا واقعہ پیش آیا تھا اور اس کے الزام میں علی وزیر اور محسن داؤڑ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اب خاصے عرصے کے بعد پی ٹی ایم اور ریاست کے درمیان معاملات معمول کی طرف بڑھ رہے ہیں تو ایک بار پھر منظور پشتین کو گرفتار کر کے ایک نیا محاذ کھول لیا گیا ہے۔

عالمی حقوق کی تنظیمیں اب ہندوستان کی بجائے پاکستان کی طرف توجہ دیں گی؟

یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں لائی گئی ہے جب پوری دنیا میں گذشتہ کئی دنوں سے بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی پر مودی حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ڈیووس کے حالیہ دورے میں وزیر اعظم عمران خان نے بھی بھارتی حکومت کے خوب لتے لیے اور عالمی میڈیا نے ان کی باتوں کو سنجیدگی سے بھی لیا۔ 26 جنوری کو بھارت کے یومِ جمہوریہ پر دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم اور مسلم دشمن شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج ہوئے جن میں لوگوں نے کالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔ ایک ایسے موقع پر منظور پشتین کو گرفتار کر کے خیبر پختونخوا پولیس نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں کا رخ اپنی جانب موڑ لیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیا نے بیان جاری کیا ہے کہ منظور پشتین کو آزادی اظہار اور پرامن مجلس کا بنیادی انسانی حق استعمال کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ایمنسٹی نے مطالبہ کیا کہ منظور پشتین کو فوراً اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔

منظور پشتین کو دو ہفتے کے جوڈیشل ریمانڈ پر ڈیرہ اسماعیل خان جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اب دنیا بھر میں منظور پشتین کی حمایت میں مظاہرے کیے جائیں گے۔ افغان صدر اشرف غنی پہلے ہی اس معاملے میں ٹوئٹر پر اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بلاشبہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملے میں مداخلت ہے مگر یہ بھی یاد رہے کہ مغربی ممالک میں منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف مظاہروں کو بھی افغانستان بھرپور طریقے سے اچھالنے کی کوشش کرے گا۔ یہ ایک نیا محاذ ہوگا جس سے حکومتِ پاکستان کو نبرد آزما ہونا پڑے گا۔

منظور پشتین نے آئین کو ماننے سے انکار کیا؟

جہاں تک پشتین کے مبینہ جرم کی صحت کی بات ہے، یہ قرینِ قیاس نہیں کہ انہوں نے بغیر کسی بھی قسم کے سیاق و سباق کے پاکستان کے آئین کو ماننے سے انکار کرنے کا بیان دے دیا ہو۔ ان کی جماعت کے دو ممبران اس وقت بھی قومی اسمبلی کے رکن ہیں، اور پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ بیٹھنے والے افراد بھی اسی ریاست کی سینیٹ کے ممبران ہیں۔ منظور پشتین غیر مسلح جدوجہد میں یقین رکھتے ہیں اور ان کی جماعت کا انتخابات میں حصہ لینا، اپنے مطالبات کو آئینی طریقوں سے منوانے کے لئے قانونی جدوجہد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ریاستِ پاکستان اور اس کے آئین کے دائرہ کار سے باہر کچھ بھی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ خود وزیر اعظم عمران خان ماضی میں پی ٹی ایم کے مطالبات کی نہ صرف حمایت کر چکے ہیں بلکہ ان کے جلسوں میں بنفسِ نفیس شرکت فرما چکے ہیں۔ وزیر اعظم اور وزیرِ دفاع پرویز خٹک کو اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لے کر تحقیقات کو جلد از جلد مکمل کروانا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ملک میں سیاسی فضا مزید کشیدہ نہ ہو اور پشتون نوجوانوں کے جذبات مزید نہ بھڑکیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *