Type to search

تجزیہ خواتین

”محبت کسی ایک شخص سے کرنے کی چیز نہیں“

پچھلے ایک مہینے سے کافی لوگ اس ڈرامے کے مکالموں کو لے کر مذاق  میں مصروف ہیں تو تھوڑا سا تفنن اس ناچیز کی طرف سے بھی۔

جب ہمارا وزیراعظم صبح اٹھ کہ یہ دیکھتا ہے کہ ملک میں بہت مسائل ہیں، روپے کی قدر میں کمی آ رہی ہے، ہم کھربوں ڈالر کے مقروض ہیں، ایسے میں اچانک سے جب وزیراعظم کی نظر آرمی چیف پہ پڑتی ہے تو وزیراعظم کے دل سے آواز نکلتی ہے کہ یہ سب مسائل اپنی جگہ لیکن ‘میرے پاس تم ہو’۔

اب میں اس ڈرامے کی طرف آتا ہوں جو کہ معروف مصنف خلیل الرحمٰان قمر نے تحریر کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ڈرامہ انتہائی بلندیوں پہ گیا اور پچھلے کئی سالوں میں آئے سینکڑوں ڈراموں کو پیچھے چھوڑ گیا۔ اس کی وجہ خلیل الرحمان کی بہترین کہانی اور اداکاروں کی بہترین کارکردگی ہے۔

اس ڈرامے کی کہانی اور کردار اتنے دلچسپ ہیں کہ دیکھنے والے اس کو کئی زاویوں سے دیکھ سکتے تھے مگر پورا ڈرامہ مکمل ہونے سے پہلے ہی ڈرامے کے مصنف سے رہا نا گیا اور وہ ٹی وی پر آنا شروع ہو گئے۔ ٹی وی پہ آ کر اور اپنی آراء کا اظہار کر کے خلیل الرحمن قمر نے اپنے اچھے خاصے کامیاب ڈرامے کا ستیاناس کر دیا۔ جس کو مرد، عورت، بچے، بوڑھے سب پسند کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ یہ گمان ہونے لگا ہے کہ دانش کے کردار میں اصل میں خلیل الرحمن چھپا ہوا ہے۔

دانش ایک شریف، محنتی اور نیک انسان ہے جس کی ایک انتہائی خوبصورت بیوی ہے اور ایک پیارا سا بچہ ہے۔ دانش کے کوئی خاص دوست نہیں ہیں لیکن اس کے سب پڑوسی، چوکیدار اور ساتھ کام کرنے والے سب اس کی قدر کرتے ہیں کیونکہ وہ ایک بے ضرر انسان ہے۔ ایسے میں جب اس کی بیوی اس کی آنکھوں کے سامنے ایک امیر آدمی کی طرف راغب ہونا شروع ہو جاتی ہے تب بھی دانش اکثریت مردوں کی طرح اس کو اسی وقت نہیں نکالتا اور نا ہی مارتا ہے بلکہ اس کو موقع دیتا ہے کہ وہ راہ راست پر آ جائے۔

دانش اس قدر بے لوث محبت کرنے والا آدمی ہے کہ جب شہوار وہ شخص جس کے لیے اس کی بیوی اس کو چھوڑ دیتی ہے جیل چلا جاتا ہے تب بھی وہ اپنے رقیب کی تباہی پر جشن نہیں مناتا۔ نا ہی اس بات کا جشن مناتا ہے کہ وہ دولت جس کو دیکھ کے اس کی بیوی کی آنکھیں بدل گئی تھیں اب کہیں کی نہیں رہی۔

ان سب مختلف زاویوں سے ڈرامہ کو دیکھا جا سکتا تھا لیکن خلیل الرحمان قمر نے  ٹی وی پہ انٹرویو دینا شروع کر دیئے اور تمام دیکھنے والوں کی توجہ صرف ایک نکتے پہ لے آئے ‘عورت کی بے وفائی’۔  یہاں تک بھی بات ٹھیک تھی۔ بے وفائی چاہے مرد کرے یا عورت اس پر ڈرامے تو بنتے رہتے ہیں لیکن ایک انٹرویو میں انہوں نے پھر مزید کہا، "میں نے آج تک زندگی میں کسی پر ترس نہیں کھایا لیکن جو شخص عورت کے ہاتھوں تباہ ہو اس پر مجھے بڑا ترس آتا ہے”۔ ہر شخص کو اپنی رائے کا حق ہے لیکن اس حق کو استعمال کرتے ہوئے دھیان بھی کرنا چاہیے کہ کہیں کسی اور کے حقوق کے دائرے میں نا چلا جائے آدمی۔ یہی ہوا، کرتے کرتے بات عورتوں کے حقوق تک پہنچ گئی۔ پھر بات سے بات نکلی اور دیکھا دیکھی یہ ڈرامہ ایک مذاق بن گیا۔

لوگوں کی توجہ ڈرامہ سے ہٹ کر خلیل الرحمان قمر تک چلی گئی۔ اب لوگ ڈرامے کو خلیل الرحمان کی کہی ہوئی باتوں کی نظر میں دیکھنے لگے۔ ہمایوں سعید، آئزہ خان اور عدنان صدیقی نے اپنی اداکارانہ صلاحیئتوں سے اس ڈرامے کو چار چاند لگا دیئے مگر مصنف کی آمد چاند گرہن ثابت ہوئی۔

انٹرنیٹ اس ڈرامے کو لے کر ایک کے بعد دوسرا لطیفہ بنا رہا ہے۔ خلیل الرحمان صاحب نے پھر طھی رکنے کا نام نا لیا۔ عورت کی بے وفائی کو انتہائی بے ڈھنگے انداز میں وہ ہماری روایات اور مذہب کے ساتھ جوڑتے رہے۔ ان کے ایسا کرنے سے نا صرف کئی عورتوں کی دل آزاری ہوئی بلکہ مردوں کو بھی ان کی باتیں انتہائی بے ڈھنگی لگیں۔ مشہور کنئیرڈ کالج لاہور جو کہ خواتین کا کالج ہے اس نے خلیل الرحمن کو کسی تقریب میں مدعو کر رکھا تھا مگر ٹی وی پہ ان کی متنازع گفتگو سننے کے بعد انتظامیہ نے وہ تقریب ہی ختم کر ڈالی۔ میرے پاس تم ہو کی اپنی کاسٹ شدہ اداکارہ نے بھی سماجی رابطوں کی ایپ انسٹاگرام پر کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ مصنف کی اصل شخصیت ڈرامے کا کام ختم کرنے کے بہت بعد ان کے سامنے آئے۔ بے وفائی کا تعلق مرد یا عورت سے نہیں بلکہ انسانی دماغ کے ساتھ ہے۔

 خلیل الرحمن اگر میرے پاس تم ہو کو ڈرامہ ہی رہنے دیتے تو ٹھیک تھا۔ یہ ڈرامہ ان کا شاہکار ہوتا۔ یہ جو انہوں نے عظیم بننے کی کوشش کی ہے اس میں وہ عظمت کھو بیٹھے اور اب ان کے پاس صرف اس ڈرامے کی کاغذی کمائی رہ گئی ہے یعنی روپیہ۔

آخری قسط کے بعد خلیل الرحمان قمر اینکرپرسن عائشہ بخش کے پروگرام میں بطور مہمان آئے اور میزبان نے ان سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ تھی کہ ان کو ڈرامے کے مرکزی کردار دانش کو مارنا پڑا جو کہ بھرپور طریقے سے ایک نئی زندگی شروع کر سکتا تھا؟ خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ دانش کو اب مرنا ہی تھا۔ اس کے پاس جتنی محبت تھی وہ اپنی پہلی بیوی کو ایک ہی مرتبہ دے چکا تھا اور اب اس کے پاس کسی اور کو دینے کے لیے محبت بچی ہی نہیں تھی۔ یہ ان کی رائے ہے اور میں اس کا احترام کرتا ہوں۔ مگر میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ کیا کسی شخص کو دیکھنا پھر اس کے بارے میں سوچنا اور پھر اس کی خواہش کرنا، کیا یہ محبت ہے؟ اگر وہ مل جائے تو میں خوش نا ملے تو میں غمزدہ، کیا یہ محبت ہے؟

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اپنی بیوی کے چلے جانے پر دانش کو جشن منانا چاہیے تھا مگر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا محبت کسی ایک شخص کے لیے فنا ہو جانے کا نام ہے؟ صحیح معنوں میں محبت کچھ نہ مانگنے کا نام ہے، کچھ بھی نہیں۔

کیا آپ نے کبھی لوگوں کو اپنے نسلی مہنگے پالتو کتے یا بلی سے پیار کرتے دیکھا ہے؟ یہ لوگ آپ سے کہیں گے کہ ان کو جانوروں سے بہت پیار ہے۔ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ نا صرف لوگوں سے بلکہ اپنے آپ سے بھی۔ یہ صرف اس ایک کتے یا بلی سے پیار کرتے ہیں جس کو انہوں نے پالا ہوتا ہے،  اس کے ساتھ وقت گزارا ہوتا ہے، اس کی نسل کی ریسرچ کی ہوتی ہے۔

بے وفائی کا محبت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بے وفائی اس درد کا نام ہے جو انسان کو تب محسوس ہوتا ہے جب اس کا محبوب اس کے بجائے کسی اور کی طرف راغب ہونے لگے۔ خلیل الرحمان کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اس ڈرامے کے ذریعے معاشرے میں مردوں کو تنبیہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ان کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آئے تو وہ اپنی بیوی کو جانے دیں، غیرت کے نام پہ قتل نہ کریں۔ لیکن انہوں نے دانش کو تو قتل کر دیا۔

اس پس منظر میں دیکھا جائے تو دانش کی بظاہر مضبوط شخصیت کے پیچھے ایک انتہائی کمزور انسان چھپا ہوا تھا جس نے اپنی زندگی کا مرکز صرف ایک شخص کو بنا رکھا تھا۔ جب اس کو نظر آنے لگا کہ وہ شخص کسی اور میں دلچسپی لے رہا ہے تو اس کی زندگی تباہ وبرباد ہو گئی۔ وہ اس ایک شخص کی نگاہ سے ساری دنیا کو دیکھنے لگا۔ دولت مند ہونے کے بعد بھی ، اپنے بچے کے ارمان پورے کرنے کے بعد اور ایک دوسری اچھی عورت کی اس میں دلچسپی کے باوجود وہ سنبھل نہ پایا اور آخیر زندگی اس کے اندر سے خود چلی گئی۔

محبت کسی ایک شخص سے کرنے کی چیز نہیں۔ محبت ایک حالت ہے،  ایک سرور جو کسی کے طابع نہیں۔ دانش کو اگر محبت ہوتی تو وہ صدمے سے نہ مرتا۔ اور وہ محبت صرف مہوش کے لیے نہ ہوتی اور نہ ہی وہ اس کو بار بار یہ کہتا کہ ‘میرے پاس تم ہو’!

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *