Type to search

تاریخ فیچر

کیا کشمیر پر پاکستان کا حق ہے؟ برطانوی تاریخ دان نے حقائق کھول کر بیان کر دیے

آج 5 فروری ہے۔ ہر سال اس تاریخ کو پاکستان میں یومِ یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے۔ گذشتہ برس بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو غیر مؤثر بنا کر کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا اور اسے بھارتی یونین ٹیریٹری کا حصہ قرار دے دیا۔ آج جب کہ پاکستان اور بھارت ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں، مسئلہ کشمیر کی اہمیت دنیا بھر کے امن کے لئے اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا اس مسئلے کی تاریخ کو سمجھنا آج ماضی کی نسبت کہیں زیادہ اہم ہے۔

کشمیر کا تنازع کب اور کیوں کھڑا ہوا، اس حوالے سے برطانوی محقق ایلکس فان تنزلمان کی کتاب The Indian Summer: The Secret History of the End of an Empire سیر حاصل بحث کرتی ہے۔ ’کشمیر‘ کے نام سے پورا ایک باب اس کتاب میں موجود ہے جو ان حالات و واقعات پر روشنی ڈالتا ہے جو 15 اگست 1947 سے لے کر 1948 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک محدود جنگ کی شروعات کے دوران ہوئے جس کا اختتام بالآخر اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے کشمیر کے معاملے کو اقوامِ متحدہ میں لے جانے پر ہوا۔

کشمیر 1846 میں گلاب سنگھ کو بیچا گیا

انگریزوں نے سکھوں کے ساتھ اپنی پہلی جنگ میں کشمیر فتح کیا تھا لیکن اس وقت نہ تو ان کو کشمیر پر حکمرانی کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور نہ ہی ان کے پاس اتنے وسائل تھے۔ لہٰذا 1846 میں کشمیر معاہدہ امرتسر کے تحت گلاب سنگھ کو 750000 روپے کے عوض بیچ دیا گیا۔ گلاب سنگھ ایک ڈوگرا ہندو تھا اور اس وقت کے انگریز وائسرائے لارڈ ہارڈنج کے الفاظ میں ’ایشیا کا سب سے بڑا راسکل‘ تھا۔

تقریباً اگلے 100 سال کشمیر ڈوگرا راج کے اندر جیسے تیسے چلتا رہا لیکن 1947 کے ہنگامے جہاں باقی برصغیر میں چند ماہ جاری رہنے کے بعد دم توڑ گئے، کشمیر میں کشت و خون کا بازار آج بھی گرم ہے۔

برطانویوں کے خیال میں کشمیر پر پاکستان کا حق تھا

تنزلمان لکھتی ہیں کہ برطانوی حکمرانوں، مسلم لیگ اور نہرو کو چھوڑ کر تقریباً باقی ساری کانگریس کا خیال تھا کہ کشمیر بالآخر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ کشمیر پاکستان کا ’ک‘ تھا۔ اس کی تجارتی راہداریاں پاکستان کی طرف نکلتی تھیں۔ مسلمان واضح اکثریت میں تھے۔ کشمیر کے کل revenue کا ایک چوتھائی لکڑی کی فروخت سے حاصل ہوتا تھا جو جہلم اور چناب دریاؤں کے ذریعے پاکستانی شہروں میں پہنچایا جاتا تھا اور وہیں اس کے خریدار بھی تھے۔ دیگر بڑی برآمدات پھل اور سبزیاں تھے اور یہ بھی راولپنڈی کے راستے برآمد ہوتے تھے۔ یہاں کے مشہور اونی کپڑے اور پشمینہ اور کشمیرے کی شالیں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بکتی تھیں۔ صرف تین سڑکیں تھیں جو کشمیر کو باقی ہندوستان سے جوڑتی تھیں، ان میں سے دو پاکستان کی طرف جاتی تھیں اور ایک ہندوستان کو، اور یہ بھی مہاراجہ کا ذاتی راستہ تھا جس پر بمشکل جیپ ہی چل سکتی تھی۔ اور ویسے بھی یہ سڑک سال کے پانچ مہینے برف سے ڈھکی رہنے کے باعث ناقابلِ استعمال ہوتی تھی۔

بھارت نے کشمیر پر حملے میں پہل کی

اکثر کہا جاتا ہے کہ کشمیر پر پاکستان نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا جب کہ تنزلمان سمجھتی ہیں کہ ایسا نہیں تھا۔ 27 ستمبر 1947 کو نہرو نے بھارتی وزیر برائے ریاستی امور سردار پٹیل کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستان بہت جلد کشمیر میں فوجیں داخل کر سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ برف پڑنے سے پہلے ہی پوری ریاست پر قبضہ کر لے گا اور برف پڑنے کے بعد وہاں فوج کشی ممکن ہی نہیں رہے گی، لہٰذا کشمیر کی بھارت میں شمولیت کو پہلی فرصت میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

مہاراجہ نے کشمیر میں مسلمانوں کا قتلِ عام شروع کر دیا

اسی طرح کہا جاتا ہے کہ قبائلی پشتونوں نے کشمیر میں گھس کر کارروائی کا آغاز کیا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تنزلمان لکھتی ہیں کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ستمبر، اکتوبر کے درمیان ہی مسلمانوں کا قتلِ عام شروع کر دیا تھا۔

وہ لکھتی ہیں کہ 15 اگست کو مہاراجہ کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ کرنا اس خوش فہمی کا شاخسانہ تھا کہ شاید وہ آزاد رہ سکتے ہیں۔ پاکستان اور برطانوی حکومت دونوں ہی کا اندازہ تھا کہ مہاراجہ جلد ہی ہوش میں آ جائیں گے اور پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیں گے۔ لیکن مہاراجہ کے ہوش کسی صورت ٹھکانے پر نہیں آ رہے تھے بلکہ تمام قرائن یہی بتا رہے تھے کہ وہ اپنے حواس کھو بیٹھنے کے قریب ہیں۔ ان کی بیوی اور سالے دونوں کی جانب سے ان پر بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کا دباؤ تھا۔ اسی بنا پر مہاراجہ نے اپنے اعتدال پسند وزیر اعظم کو برطرف کر دیا تھا جنہوں نے بظاہر پاکستان کے ساتھ الحاق کا مشورہ دیا تھا۔

ستمبر اور اکتوبر کے درمیان مہارجہ کے ڈوگرا سپاہیوں نے مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ ان کا نشانہ پونچھ کا علاقہ تھا جو کہ پاکستان کی سرحد کے بالکل ساتھ تھا اور شمالی جموں میں بھی کارروائیاں کی گئیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق جموں کی تقریباً تمام مسلم آبادی جو قریب 5 لاکھ نفوس پر مشتمل تھی، اسے وہاں سے نکال دیا گیا، اور ان میں سے 2 لاکھ کا کوئی سراغ تک نہ لگایا جا سکا، جنہیں یا تو قتل کر دیا گیا تھا یا پھر کشمیر کے سخت موسم میں وہ بیماریوں کا مقابلہ نہ کرتے ہوئے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

مہاراجہ نے دفاعی حکمتِ عملی کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی کا حکم دے دیا تھا۔

بھارت اس تمام قضیے میں خاموش تماشائی نہیں تھا

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مہاراجہ یہ تمام فیصلے خود لے رہا تھا لیکن تنزلمان کا کہنا ہے کہ اسے اس حوالے سے بھارتی حکومت کی مدد حاصل تھی۔

’’مہاراجہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ تقریباً تین میل چوڑا ایک buffer zone قائم کرنا چاہتا تھا۔ مسلمانوں کو پاکستان کی طرف دھکیلا جا رہا تھا یا پھر قتل کر دیا جاتا تھا۔ ہندوؤں کو دوسری جانب، کشمیر کے اندر بھیجا جا رہا تھا۔ بھارتی حکومت نے کسی قسم کی نسل کشی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، جس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وہ اندر خانے ڈوگرا فوج کو ہتھیار پہنچا رہی تھی۔ تعداد پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن اس حوالے سے کوئی بحث نہیں کہ مہاراجہ کے سپاہی مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے تھے‘‘۔

اس کے بعد ہی آفریدی اور محسود قبائل کشمیر میں داخل ہونا شروع ہوئے تھے کیونکہ ان تک کشمیر سے لٹ پٹ کر پنجاب اور خیبر پختونخوا پہنچنے والے مسلمانوں کی داستانیں پہنچتی تھیں تو ان کا خون کھولتا تھا۔

مہاراجہ کی فوج نے پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی میں پہل کی

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ پشتون قبائل نے کشمیر پر حملے میں پہل کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہاراجہ کی سپاہ نے پاکستانی سرحد کی خلاف ورزی میں پہل کی تھی۔ یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ 20 اکتوبر کو ڈوگرا فوج کے پاکستانی سرحد عبور کرنے سے پہلے تک کوئی قبائلی لشکر کشمیر میں داخل نہیں ہوا تھا لیکن مہاراجہ کی سپاہ کی سرحدی خلاف ورزی ایک ریاست کی حکومت کا عمل تھا جسے عام قبائلیوں کی کارروائیوں کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور یہی وہ موقع تھا جب قبائلی فوجوں نے وادی جہلم کے رستے کشمیر میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔


بھارتی حکومت اور اقوامِ متحدہ کی لاکھ کوششوں کے باوجود آج تک ایسا کوئی ثبوت نہیں مل سکا کہ قبائلی لشکروں نے کشمیر میں کارروائی قائد اعظم محمد علی جناح کے حکم پر کی تھی۔

قبائلیوں نے مہاراجہ کو اپنی چال چلنے کا موقع دے دیا

تنزلمان کے اس حوالے سے الفاظ درجِ ذیل ہیں:

قبائلی لشکر ایک کے بعد ایک وادی اور شہر پر قبضہ کرتے ہوئے سری نگر کی طرف روانہ تھے اور ساتھ ساتھ راستے میں مقامی مسلمان فوجیوں کو اپنے لشکر میں شامل کرتے جا رہے تھے۔ 25 اکتوبر کو انہیں مہاراجہ کی فوج نے بارہ ملا پر روکا۔ لیکن محسود قبائل نے ڈوگرا فوج کو تاریخی شکست دینے کے بعد پورے شہر کو جلا کر راکھ کر دیا۔ اپنے جنون میں محسود قبائلیوں کو کشمیری مسلمانوں اور کشمیری کافروں کی تمیز بھی نہ رہی۔ مرنے والوں میں ایک مسلمان لڑکا بھی تھا جس کی لاش ایک صلیب کے ساتھ ٹاؤں سکوئر میں لٹکا دی گئی تھی۔ خورشید انور نے قبائلیوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن اس اثنا میں وہ ان پر قابو کھو بیٹھے۔ قبائلی لشکر دو دن اسی شش و پنج میں مبتلا رہے کہ انہیں محض برطرف کر دینا کافی ہوگا یا قتل کر دینا چاہیے۔ اس دوران مہاراجہ کو اپنی چال چلنے کا موقع مل گیا۔

بھارت کے ٹاپ سول سرونٹ وی پی مینن کو مہاراجہ اور ان کے وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے فوراً سری نگر بھیجا گیا۔ برطانوی ہائی کمشنر کےبقول مینن نے ان کو اتنا ڈرا دیا کہ وہ یقین کر بیٹھے کہ بھارت کے ساتھ الحاق کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔‘‘

کیا مہاراجہ کے پاس واقعتاً الحاق کا اختیار تھا؟

تنزلمان یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ مہاراجہ کے پاس الحاق کا اختیار ہی کیا تھا؟ وہ تو اس وادی پر کنٹرول ہی کھو چکے تھے جس کے الحاق کے کاغذات وہ بھارت کے ساتھ سائن کر رہے تھے۔ وہ اور ان کے وزیر اعظم تو جموں کی طرف کوچ کر چکے تھے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ جب مہاراجہ نے بھارت سے فوج بھیجنے کی درخواست کی تو ماؤنٹ بیٹن نے انہیں جواب دیا کہ ایسا اسی صورت میں ممکن ہے اگر وہ کشمیر کا الحاق بھارت سے کر دیں۔ لیکن ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تنزلمان لکھتی ہیں کہ:

’’یہ ایک عجیب و غریب مطالبہ تھا۔ ایک آزاد ریاست کے سربراہ کے طور پر اگر مہاراجہ نے فوج بھیجنے کی درخواست کی تھی تو یہ قانونی طور پر بالکل درست تھا۔ اور بھارت اس مطالبے پر عمل کرتا تو اس کا عمل بھی قانوناً درست ہوتا۔ ماؤنٹ بیٹن کے اس مطالبے نے پاکستانیوں کو سازش کا واضح اشارہ دے دیا تھا‘‘۔

وہ لکھتی ہیں کہ یہ واضح نہیں کہ بھارتی افواج الحاق کے مسودے پر دستخط سے پہلے کشمیر مین داخل ہوئیں یا اس کے بعد۔ بلکہ یہ بھی واضح نہیں کہ الحاق کے کاغذات پر کبھی کوئی دستخط ہوئے بھی تھے یا نہیں، کیونکہ بھارتی archives میں سے اصل مسودہ کہیں گم ہو چکا ہے۔ اور ان کے نزدیک چونکہ مہاراجہ وادی پر اپنا کنٹرول ہی کھو چکے تھے تو وہ مہاراجہ تھے بھی یا نہیں، یہ بھی ایک بحث طلب معاملہ ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *