Type to search

تجزیہ معاشرہ میڈیا

ایک اور اداکارہ کی تصاویر لیک: ذمہ دار علیزے شاہ نہیں، یہ معاشرہ ہے

  • 24
    Shares

چند ماہ قبل گلوکارہ رابی پیرزادہ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ رابی پیرزادہ کے بقول ان ویڈیوز کے بعد انہوں نے خودکشی تک کرنے کا سوچا۔ بعد ازاں انہوں نے پے در پے ٹوئیٹس میں اس شرمندگی کا اظہار کیا جو سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز جاری ہونے کے بعد انہوں نے محسوس کی تھی اور حال ہی میں انہوں نے عمرہ بھی کیا۔ ٹوئٹر پر انہوں نے اپنی ایک ویڈیو اپلوڈ کی جس میں وہ خانہ کعبہ کے سامنے موجود تھیں اور ان لوگوں کے لئے بددعا کر رہی تھیں جنہوں نے ان کی تصاویر اور ویڈیوز لیک کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ ویڈیوز لیک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ جواب میں انہیں لوگوں نے گالیاں بھی دیں۔ ایک اکاؤنٹ سے کہا گیا تھا کہ یہ تصاویر اور ویڈیوز بناتے اور بنواتے ہوئے یہ سب سوچنا چاہیے تھا۔ یہی سوچ ہے جو انسانی جسم کو معاشرے میں ایک stigma بناتی ہے اور غیرت، بیغیرتی جیسے معاملات درمیان میں لا کر مظلوم کو ہی قصوروار قرار دینے پر تل جاتی ہے۔

اب ایک اور پاکستانی اداکارہ علیزے شاہ کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ وٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ افواہ گرم ہے کہ یہ تصاویر اور ویڈیوز علیزے شاہ کے سابقہ بوائے فرینڈ نے لیک کی ہیں۔ علیزے کے لئے بھی سوشل میڈیا پر اسی قسم کے کلمات ادا کیے گئے۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ بوائے فرینڈز کو ایسی تصاویر بھیجی جائیں گی تو یہ تو ہوگا۔

یہ سوچ کوئی نئی نہیں۔ جب سے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ عام ہوا ہے، دنیا بھر میں متعدد فنکاراؤں کے ساتھ ایسے حادثات پیش آتے رہے ہیں اور عام خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ایسے گھناؤنے جرائم کا تو حساب ہی کوئی نہیں ہے۔

اس حوالے سے عوام کو کچھ بنیادی باتوں کو لازمی سمجھ لینا چاہیے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ لڑکیاں ایسی تصاویر یا ویڈیوز کسی کو بھیجتی ہی کیوں ہیں؟

پیار، محبت ازل سے دنیا کے ساتھ ہیں۔ یہ انسانی جذبات ہیں، مذہب بھی جن پر روک نہیں لگاتا۔ یہ سچ ہے کہ ایسی تصاویر یا ویڈیوز کسی سے بھی شیئر کرنا اپنے لئے خطرات کو دعوت دینے والی بات ہے لیکن اپنی محبت پر یقین رکھنے اور پھر اس محبت میں فراق کی اذیت سے بچنے کے لئے بہت سی لڑکیاں بلیک میل ہو جاتی ہیں۔ اس خوف سے کہ کہیں ان کا دوست ان کو چھوڑ نہ دے، وہ اس کے وہ مطالبات بھی تسلیم کر لیتی ہیں جو ان کے اپنے لئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ بھی لازمی نہیں کہ ان پر زور زبردستی کر کے ہی ان سے ایسی تصاویر لی گئی ہوں۔ محبت اور کچھ خطرناک کرنے میں جو ایڈونچر شامل ہے، وہ بھی یہاں کارفرما ہوتا ہے۔ تاہم، اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ تصاویر یا ویڈیوز آگے پھیلائی جا سکتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کو Consent یعنی رضامندی کا تصوّر ہی نہیں دیا جاتا۔ کسی لڑکی کا کسی ایک لڑکے یا لڑکی کو اپنی تصاویر بھیجنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسے لائسنس دے دیا گیا ہے کہ یہ تصاویر جہاں مرضی پھیلا دے۔ یہ رضامندی صرف اس مرد کی حد تک ہوتی ہے جسے وہ تصاویر بھیجی جا رہی ہیں۔ یہ تصاویر نہ تو سوشل میڈیا پر عوام کو جاری کرنے کے لئے ہوتی ہیں اور نہ ہی اس لئے کہ بریک اپ کے بعد لڑکیوں کو ان کی مدد سے بلیک میل کیا جائے۔

ویسے بھی سائبر کرائم قانون کے مطابق کسی بھی شخص کی کوئی بھی تصویر بلا اجازت انٹرنیٹ پر استعمال کرنا یا ان کے ذریعے سے کسی کو بلیک میل کرنا ایک قابلِ گرفت جرم ہے۔

اب آتے ہیں دوسرے سوال کی جانب۔

لڑکیوں کو ایسی تصاویر سے بلیک میل کیوں کیا جاتا ہے؟

اکثر لڑکیوں کو لڑکے بلیک میل اس لئے کرتے ہیں کہ وہ انہیں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اور چونکہ ہمارے معاشرے میں کبھی بھی بلیک میل کرنے والے مجرم کو نہیں بلکہ اس لڑکی ہی کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے جس کے ساتھ یہ ظلم ہو رہا ہوتا ہے، لہٰذا یہ پدر شاہی پر مبنی معاشرہ لڑکی کو کمزور اور بلیک میلر کو طاقتور کرتا ہے۔ ان لڑکیوں کے خاندان، ان کے بہن، بھائی، یا شوہر یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے ہیں کہ ان کی بہن، بیٹی یا ماضی میں بیوی بھی کبھی کسی ایسے فعل میں ملوث ہو سکتی ہے۔ جب وہ یہ تسلیم ہی نہیں کر سکتے تو ایسے فعل کو قبول کرنا تو ممکن ہی نہیں۔ ایسے میں یہ خواتین اپنے گھر والوں کو بتا ہی نہیں پاتیں کہ انہیں کوئی بلیک میل کر رہا ہے۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مجرم بلیک میلر ہے، وہ شخص نہیں جس نے اسے بھروسہ کر کے یہ تصاویر بھیجی ہوتی ہیں۔ لہٰذا معاشرے کو ان لڑکیوں اور فنکاراؤں کے کردار پر انگلی اٹھانے کے بجائے ان مردوں پر انگلی اٹھانی چاہیے جو نہ صرف اس فعل میں برابر کے شریک ہوتے ہیں بلکہ بعد ازاں اسی بھروسے کو توڑ کر اپنی مردانگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑکی کو ہی اس بھروسے کی سزا دینے لگتے ہیں۔ پہلے انہیں اپنے جال میں پھانستے ہیں اور پھر انہیں ہی بلیک میل کرتے ہیں۔

بطور معاشرہ، ہمارے غصے، طعن و تشینع اور نفرت کا نشانہ وہ بلیک میلر مجرم ہونا چاہیے، وہ لڑکی نہیں جس کی تصاویر اس کی مرضی کے بغیر سارے جہان میں پھیلائی جا رہی ہوتی ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *