Type to search

تجزیہ

جنسی تشدد پر پھانسی کی قرارداد ایک جذباتی فیصلہ ہے، ماہرین

جمعے کے روز پارلیمانی امور کے وزیر علی محمد خان کی جانب سے ایک قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی گئی جن میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا جس کو اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ بچوں کے تحفظ پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ساحل کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2019 کے پہلے چھ مہینوں میں 1304 بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے جن میں 729 لڑکیاں اور 575 لڑکے شامل ہیں۔

ساحل کے اعداد و شمار کے مطابق بچوں پر جنسی تشدد کے سب سے زیادہ واقعات آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پیش آئے جن کی تعداد 652 ہیں۔ بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں سندھ کا نمبر دوسرا ہے جن میں کل تعداد 458 ہے جبکہ تیسرے نمبر پر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد ہے جہاں 90 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ صوبہ خیبر پختون خوا چوتھے نمبر پر ہے جہاں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے 51 واقعات  رپورٹ ہوئے۔

اعداد و شمار مزید بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں 32، آزاد کشمیر میں 18 اور گلگت بلتستان میں 3 واقعات رپورٹ ہوئے۔

قومی اسمبلی میں مجوزہ قرارداد کی روشنی میں ہم نے یہ سوال بچوں کے تحفظ پر کام کرنے والے ماہرین کے سامنے رکھ دئیے کہ کیا کسی کو پھانسی پر لٹکانے سے اس ناسور پر قابو پایا جاسکتا ہے یا نہیں؟

ممتاز گوہر اسلام آباد میں چائلڈ رائٹ موومنٹ سے وابستہ ہیں اور کئی برسوں سے بچوں کے تحفظ پر کام کر رہے ہیں۔ نیا دور کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم جذباتی قوم ہیں اور ہر بات کا جواب جذبات سے دیتے ہیں جن کی وجہ سے مسئلہ ادھر کا ادھر ہی اٹکا رہتا ہے اور بچوں پر جنسی تشدد کرنے والوں کو سرعام پھانسی کی سزا دینے کی کی قرارداد پاس کرنا بھی ایک جذباتی فیصلہ ہے جس سے نہ تو بچوں کے خلاف جرائم میں کمی ہو گی اور نہ ہی ہم اس مسئلے کا سنجیدگی سے ادراک کرسکیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پھانسی لگانے سے نہ صرف ہم حقائق سے منہ چھپائیں گے بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے قوانین کی خلاف ورزی بھی کرینگے۔ انھوں نے سوال اُٹھایا کہ کیا زینب انصاری کے قاتل عمران کو پھانسی لگانے سے بچوں کے ساتھ جنسی تشدد میں کمی واقعہ ہوئی یا اضافہ تو ہم اس نتیجے پر پہنچ سکیں گے کہ ہاں کسی کو پھانسی پر لٹکانے سے مسئلے حل نہیں ہونگے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کیا موجودہ حکومت یا اس سے پہلے حکومتوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات کئے ہیں تو جواب ہو گا نہیں۔۔ کیونکہ ہمارے ملکی اداروں کے پاس کوئی باقاعدہ اعداد و شمار ہی نہیں ہیں کہ کتنے لوگ جنسی طور پر تشدد کا شکار ہوئے اس کے ساتھ ہم نے آج تک کوئی کھوج نہیں لگائی کہ بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کیوں ہوتا ہے۔ کیا ہم نے ان لوگوں کا ڈیٹا جمع کیا ہے جو بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرتے ہیں نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ بچوں پر جنسی تشدد کرنے والوں میں ستر فیصد وہ لوگ شامل ہے جو خود سکول، مدرسے، محلے یا پھر کام کی جگہ پر جنسی تشدد کا شکار ہوتے رہے اور اب یا تو وہ انتقام کی وجہ سے یہ کر رہے ہیں یا پھر شوق کی وجہ سے۔

گوہر نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر انسانی رویوں کو بدلنا ہو گا کیونکہ ہم گلی محلوں اور گھروں میں بچوں کو ایسے ناموں سے پکارتے ہیں جو جنسی لذت سے منسلک ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہم واٹس ایپ گروپوں میں بچوں کی قابل اعتراض ویڈیوز ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں اور ہم لطف اندوز ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں اس کا ادراک نہیں کہ یہ چائلڈ پورنوگرافی میں آتے ہیں اور باہر کی دنیا میں نہ صرف یہ جرم ہے بلکہ یہ جرم کرنے کی پاداش میں ایف آئی درج ہونے کے ساتھ وہ موبائل نمبر ہمیشہ کے لئے بلاک بھی ہو جاتا ہے۔

عمران ٹکر خیبر پختون خوا میں گزشتہ ایک دہائی سے بچوں کے تحفظ پر کام کررہے ہیں انھوں نے نیا دور کے ساتھ اپنے گفتگو میں کہا کہ جو لوگ قتل کرتے ہیں ان کے لئے تو پہلے سے ملکی قانون میں سزائے موت ہے لیکن پتہ نہیں یہ کیسی قرارداد ہے۔ انھوں نے کہا کہ سال 2010 میں خیبر پختون خوا میں بچوں کے تحفظ کا ایکٹ پاس ہوا لیکن اس پر بیس فیصد کام بھی نہیں ہوا کیونکہ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ قانون پاس کرو اور پھر پوری ذمہ داری عدالتوں پر ڈالو اور خود کو ذمہ داریوں سے الگ کرو حالانکہ ایسا نہیں ہے اور حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کو بچائے بلکہ ان کو بھی بچائے جو بچوں پر جنسی تشدد کرتے ہیں کیونکہ دونوں کو مدد کی ضرورت ہے۔

ٹکر نے مزید کہا آگاہی کے ساتھ ساتھ پولیس اور عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے جس سے مسائل کم ہونگے۔ انھوں نے مزید کہا کے چائلڈ کورٹس بنانے کے وعدے ہوئے تھے کیونکہ یہ بچوں کے خلاف جرائم کی خصوصی عدالتیں ہیں اور ان میں جلدی فیصلے آتے ہیں مگر ابھی تک پیش رفت غیر تسلی بخش ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *