چیمپئن ٹرافی 2025کا میلہ ۔۔۔پاکستان تیار ہے!

 آج سے ٹھیک 19روز کے بعد پاکستان تقریبا 28سال بعد  کسی بھی آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کرنے جارہا ہے ، آخری مرتبہ 1996کرکٹ ورلڈ کپ  میں سری لنکا اور آسٹریلیا کے مابین فائنل میچ قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا ،28سال کا عرصہ کافی ہوتا ہے اس دوران دو نسلیں جوان ہوگئیں ، مگر بدقسمتی سے پاکستان کوانٹرنیشنل کرکٹ  سے محروم رکھا گیا اور پاکستان کے کرکٹ کے میدانوں پر کسی آئی سی سی ایونٹ کا انعقاد نہ ہوسکا

07:34 PM, 30 Jan, 2025

ارسلان سید

چیمپئن ٹرافی کا میلہ سجنے میں اب بس چند ہی روز کا انتظاز باقی ہے یعنی  آج سے ٹھیک 19روز کے بعد پاکستان تقریبا 28سال بعد  کسی بھی آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کرنے جارہا ہے ۔ آخری مرتبہ 1996کرکٹ ورلڈ کپ  میں سری لنکا اور آسٹریلیا کے مابین فائنل میچ قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا ۔28سال کا عرصہ کافی ہوتا ہے اس دوران دو نسلیں جوان ہوگئیں ، مگر بدقسمتی سے پاکستان کوانٹرنیشنل کرکٹ  سے محروم رکھا گیا اور پاکستان کے کرکٹ کے میدانوں پر کسی آئی سی سی ایونٹ کا انعقاد نہ ہوسکا ۔ آخر کار چئیر مین پی سی بی محسن نقوی کی انتھک کوششوں سے پاکستان آج فخر سے دنیا کو دیکھا سکتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر آئی سی سی  چئمپئن ٹرافی 2025 (جو کرکٹ کی میں منی ورلڈ کپ کی حیثیت رکھتا ہے ) کی میزبانی کرنے جارہا ہے ۔

https://youtu.be/IqRCPgvxa2A?si=EZn2o5s6pyRUcMzL

آئی سی سی کی جانب سے جاری کیا گیا آفیشل پرومو

پی سی بی کی موجودہ انتظامیہ کو اس بات کو کریڈٹ جاتا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ پی سی بی نے نہایت متحرک ٹیم کے ہمراہ  صرف 6ماہ کی قلیل مدت میں ناصرف اسٹڈیمز کے تعمیراتی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا یا بلکہ اس کیساتھ ساتھ آئی سی سی کی سطح پر بھارت کی پاکستان کے کرکٹ میدانوں کو ویران کرنے کی پالیسی کو ناکام بناتے ہوئے چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد کو یقینی بنادیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ چئیر مین محسن نقوی اور ان کی ٹیم نے یکسوئی کیساتھ دن رات ایک کردیا تاکہ کرکٹ ورلڈ میں کسی کو یہ موقع ہی نہ مل پائے کہ وہ پاکستان کو ملنے والی  چئمپئن ٹرافی کی میزبانی سے محروم کرسکے ، یہ انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ گذشتہ سال 24دسمبر کو آئی سی سی صدر جئے شاہ  (جوآئی سی سی صدر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے  بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری تھے ) کو چیمپئنز ٹرافی کیلئے 'ہائبرڈ ماڈل' ہی سہی لیکن بہر صورت  پاکستان میں ہونیوالی چیمپئن ٹرافی 2025 کے شیڈول کا اعلان کرنا ہی پڑا، اس دوران بھارتی میڈیا نے جس انداز میں پروپیگنڈا کرکے(اگرچہ اس میں کچھ حصہ  نادان پاکستانی صحافیوں نے بھی بھرپورڈالا )  پاکستان کو چیمپئیز ٹرافی کی میزبانی سے محروم کرنے کی کوشش کی وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔

https://youtu.be/_mSin6pcIcU?si=akGBb7wI0skbuMyJ

کیا پاکستان چیمپئن ٹرافی 2025 کیلئے تیار ہے؟

چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کے وژن کو سراہا جانا چاہئے  کہ انھوں نے مستقبل کی کرکٹ کو سامنے رکھتے ہوئے گذشتہ سال اگست میں لاہور ، کراچی اور راولپنڈی اسٹڈیمز کی تعمیر و مرمت کا کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ، اگرچہ اس وقت محسن نقوی کے اس فیصلے پر کرکٹ حلقو ں کی جانب سے انھیں  شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا  کہ محض 6ماہ قبل اسٹڈیمز کی تعمیر کیسے مکمل ہوپائے گی اور کیا یہ فیصلہ پاکستان میں ہونے والی چئمپئن ٹرافی 2025 کے انعقاد کو تو نہیں التواء میں ڈالنے کا باعث بن جائے گا ؟ لیکن آج جنوری کا مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے لیکن اس کیساتھ ہی اسٹڈیمز کی تعمیر و مرمت کا کام بھی مکمل کرلیا گیا ہے ۔'سب سے پہلے پاکستان' کی پالیسی کو سامنے رکھتے ہوئے چئیر مین پی سی بی محسن نقوی نے  ناصرف قذافی اسٹڈیم بلکہ کراچی اور راولپنڈی اسٹڈیمز  کے تعمیراتی کام کی خود نگرانی کی بلکہ اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام تعمیراتی کام اپنے مقرر کیے گئے اہداف کے اندر تکمیل کو پہنچے ۔ 

 قذافی اسٹڈیم ۔۔۔پاکستان کا لارڈز  

آج دنیا بلخصوص بھارت دیکھ رہا ہے کہ پاکستان نے جو کہا وہ کردیکھا یا ، 12ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کرنے کے بعد اور سینکڑوں مزدوروں کی دن رات محنت کی بدولت آج پاکستان میں کرکٹ کے میدان دور حاضر کے جدید  تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے  ایک بلکل  نئی تصویر پیش کررہے ہیں قذافی اسٹڈیم جو پاکستان کرکٹ کا ہیڈکواٹر بھی ہے دنیائے کرکٹ کےکسی بھی عالمی اسٹڈیم سے کم  نہیں دکھائی دے رہا ، جہاں عالمی معیار کی سہولیات کیساتھ ساتھ  کرکٹ شائقین  کیلئے کرکٹ کے مقابلوں کو انجوائے کرنے کیلئے  تمام جدید سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ۔ یاد رہے کہ قذافی اسٹڈیم میں آخری مرتبہ تعمیراتی کام 1996 کے ورلڈ کپ سے قبل کیا گیا تھا جس کے فائنل کی میزبانی قذافی اسٹڈیم نے کی تھی ۔آج کی نسل کو پہلے کبھی پاکستان میں کرکٹ کا عالمی میلہ یکھنے کے مواقع میسر نہیں آسکے لیکن آج کے قذافی اسٹڈیم کو دیکھنے کے بعدیہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج کا قذافی اسٹڈیم پاکستان کا لارڈز ہے جس کی یاد یں موجودہ نسل  کی زندگیوں کا حصہ بننے جارہی ہیں ۔

 تمام تر پروپیگنڈ ا مہم کو نظر انداز کرتے ہوئے پی سی بی نے فروری کے دوسرے ہفتے سے شروع ہونے والی سہہ فریقی کرکٹ  سیریز کے میچز کو ملتان سے لاہور اور کراچی میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جو ظاہر کرتا ہے کہ پی سی بی انتظامیہ اسٹڈیمز کے تعمیر و مرمت کے کام کو اپنے مقررہ وقت میں مکمل کرنے میں  ناصرف سنجیدہ تھی بلکہ آج اسٹڈیمز   ان دعوں کا عملی نمونہ بھی پیش کررہے ہیں ۔ قذافی اسٹڈیم کو ہی لے لیں جہاں  پیولین بلڈنگ کا اسٹرکچر دوبارہ سے کھڑا کیا گیا ہے ، جو نہایت شاندار تصویر پیش کررہا ہے اس کیساتھ قذافی اسٹڈیم میں سیٹوں کی تنصیب کا کام بھی  مکمل ہوچکا ہے  (جس میں قومی پرچم کے رنگوں میں رنگی سبز و سفید سیٹیں قومی جذبے سے سرشار کردیتی ہیں)، اس کے علاوہ امریکہ سے منگوائی گئیں جدید ری پلے اسکرینز کرکٹ شائقین کو اس بار  کرکٹ میچ کے دوران ری پلے مناظر سے بھرپور انجوائے کرنے کا موقع فراہم کریں گی ، جدید فلڈ لائٹس کی تنصیب نے عملا قذافی اسٹڈیم کو چار چاند لگادئیے ہیں ، ان سب کے درمیان جو چیز مجھے متاثر کررہی ہے وہ انکلوژرز کے سامنے لگے دیو قامت کھڑے سٹیل کے جنگلوں کا خاتمہ ہے ، جنہوں نے دہائیوں تک کرکٹ شائقین کو کرکٹ  اور کھلاڑیوں کو براہ راست دیکھنے سےعملی طور پر محروم کیے رکھا ، اب کرکٹ کا لائیو ایکشن شائقین حقیقی معنوں میں کھلی آنکھ سے دیکھ سکیں گے ۔

 پاکستان میں کرکٹ میچز کی ٹکٹس کی فروخت  کا آغاز شروع

پاکستان میں کرکٹ شائقین کی بے صبری کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ پی سی بی کو چیمپئن ٹرافی 2025 کے 10میچز اور ایک سیمی فائنل  میچ کی  ٹکٹس کی  30فیصد فروخت میں 10 فیصد کا  مزید اضافہ کرنا پڑگیا ، پی سی بی  کے چیف آپریٹنگ آفیسرجو آئی سی سی  کے ٹورنامنٹ ڈائریکٹر بھی ہیں ، ان کیمطابق کرکٹ میچز کے ٹکٹس کی کم سے کم  قیمت ایک ہزار روپے رکھی گئیں ہیں  جس کے بعد پریمئیم کیٹگڑی  آتی ہے جس کی قیمت پندرہ سو روپے سےشروع ہوتی ہے۔ اگرچہ آئی سی سی نے  ابھی تک دبئی میں کھیلے جانیوالے میچز کی ٹکٹس کی فروخت کا اعلان نہیں کیا ، جس میں سب سے زیادہ دیکھا جانیوالا پاک  بھارت میچ بھی شامل ہے جو 23 فروری کو دبئی میں کھیلا جانا ہے ۔جبکہ چیمپئنز ٹرافی 2025کا فائنل جو 9مارچ کو شیڈول ہے اس کے حوالے سے آئی سی سی  کا کہنا ہے کہ 4مارچ کو کھیلے جانیوالے سیمی فائنل میچ کے بعد  فائنل میچ کےٹکٹس کی فروخت   شروع کی جائگی ، جس سے  ظاہر ہے کرکٹ شائقین  کو ایک طرح سے مایوسی  بھی ہوئی ہے کیونکہ فائنل میچ کے ٹکٹس کی فروخت میں تاخیر کی بنیادی وجہ چیمپئن ٹرافی 2025کا 'ہائبرڈماڈل' کے تحت انعقاد ہی ہے۔

 چیمپئن ٹرافی 2025:پاکستان تیار ہے! 

 چیمپئن ٹرافی کے انعقاد سے محض تین ہفتے قبل روز قبل آئی سی سی کے سی ای او Geoff Allardiceکا استعفی حیران کن ہے اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بی سی سی آئی لابی آہستہ آہستہ آئی سی سی میں اپنے قدم جما رہی ہے ۔Geoff Allardice کا استعفی یقینا جئے شاہ کیلئے اپنے فیورٹ کو آئی سی سی میں لانے کا  ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے مستعفی سی ای او Geoff Allardice کے حوالے سے بھارتی لابی ذرائع ابلاغ میں یہ  خبریں چلوائی جاری ہے کہ ان کے استعفی کی وجہ چیمپئن  ٹرافی2025 کے انتظامات کے حوالے سے غیر تسلی بخش کارکردگی کو قرار دے رہی  ہےاسکے علاوہ  سابق سی ای او کے حوالے سے کہا جا رہا تھا کہ وہ امریکہ میں  گذشتہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا کامیاب  انعقاد کروانے میں ناکام رہے ، Geoff Allardice نے2012میں  آئی سی سی میں بطور آپریشن مینجر کام شروع  کیا ، اسکے بعد2021میں 8ماہ تک قائمقام سی ای او  کے عہدے پر فائز رہنے کے بعد انھیں آئی سی سی کے مستقل  سی ای او کے عہدے پر نامزد کیا گیا  ۔  جئے شاہ کی موجودگی میں آئی سی سی میں بی سی سی آئی کی لابی اب ہر گزرتے دن کیساتھ مضبوط ہوتی جائے گی لیکن اسےتوڑنے اور اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کیلئے   چیمپئن ٹرافی 2025 کی صورت پاکستان کو  ایک نادر موقع ملا ہے کہ پی سی بی چیمپئن ٹرافی کے انعقادکو کامیاب بنا ئے اور یقینا پاکستانی عوام اس مرتبہ اس آئی سی سی ایونٹ کی کامیابی کیلئے پرچوش نظر آرہی ہیں  جس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ دنیا ئے کرکٹ میں پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام ایک مرتبہ پھر حاصل کرنے میں کامیاب ہوپائے گا ۔

 ایک اہم پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا وہ آئی سی سی کا موجودہ اکنامک ماڈل  ہےجس کا سالانہ ریونیو 600ملین ڈالر سالانہ ہے جس میں بھارت کا حصہ سب سے زیادہ یعنی 38.5فیصد، اسکے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ 6.89فیصد ،پھر کرکٹ آسٹریلیا6.25فیصد اور چوتھے نمبر پر پی سی بی کا نمبر آتا ہے جس کا آئی سی سی کے سالانہ ریونیو میں حصہ 5.75فیصد ہے (اگرچہ پی سی بی نے آئی سی سی بورڈ میٹنگز میں اپنے ریونیو میں 2فیصد اضافے کا مطالبہ بھی کیا تھا ، جو پاکستان کی کرکٹ ورلڈ میں پوزیشن کے اعتبار سے جائز شرط تھی لیکن بگ تھری لابی نے یہ مطالبہ مسترد کردیا )۔  اس تناظر میں چئیر مین پی سی بی نے ”Fusion formula“کو تسلیم کرکے دوراندیشی کا ثبوت دیا ہے ، بگ تھری کی تو شروع سے خواہش تھی کہ کسی طرح پاکستان سے چئمپئن ٹرافی 2025 کے ہوسٹنگ رائٹس واپس لے لیے جائیں لیکن پی سی بی نے اس چال کو بھانپتے ہوئے  بروقت فیصلے  کے ذریعے اسے ناکام بنادیااور آج اسٹڈیمز کی اپنے مقررہ وقت پر تکمیل  نے دنیا ئے کرکٹ کو دیکھا دیا ہے کہ پاکستان چیمپئن ٹرافی 2025 کے کامیاب انعقاد کیلئے ہر طرح سے تیار ہے ! 

مزیدخبریں