سیمک بلوچ کون ہے؟

امداد بلوچ، جن کی ننھی پری کی سریلی آواز نے دنیا کو حیران کردیا، مجھے سیمک کے پچھلے ماہ ریلیز ہونے والے براہوی گانے کی سمجھ نہیں آئی مگر اس کے ساتھ انٹرویو کے کلپ نے اس ننھی پری کے حوالے سے جاننے کا تجسس پیدا کیا، اس میں انہوں نے ایک جملہ کہا کہ ”میں اس کو عبادت سمجھ کر کرتی ہوں “سن کر مجھے ڈر سا لگا کہ ایک بلوچ، اور پھر لڑکی اور ساتھ میں اس طرح کی بیان بازی، پتہ لگا کہ امداد بلوچ کا ہاتھ سر پر ہے، ہاں، پرانے درست کہتے تھے کہ جب بزرگوں کا سایہ سر پر ہو تو طوفان بھی ٹل جاتے ہیں

07:46 PM, 30 Jan, 2025

عبدالغفار بگٹی

امداد نام میں کوئی ایسی شے ضرور موجود ہے جو بچیوں کے حوالے سے نرمی برتی ہے۔ ایک امداد کو میں کئی سالوں سے جانتا ہوں جو میرے استاد ہیں۔ بہت اچھے ترقی پسند شاعر ہیں اور جب بھی خواتین کو درپیش مسائل پر بات ہوئی، تو ان کا نقطہ نظر یہی یہ ہے کہ خواتین کی آزادی ہی معاشرے کی حقیقی آزادی ہے۔ یعنی خواتین کی اپنی پسند کی تعلیم، ہنر، جاب اور جیون ساتھی۔ اور بتاتے ہیں کہ آئے روز کس طرح قدامت پرست معاشرتی سوچ ان کی زندگی چھین  لیتی ہے۔ جتنا وہ خواتین کی حق میں بولتے ہیں اس سے زیادہ ان کے کردار میں نظر آتا ہے۔ ان کی تمام بیٹیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بین الاقوامی اداروں میں کام کر رہی ہیں۔ جب بھی ان سے ملنے کا موقع ملا تو مجھے حوصلہ ملا، ایک امید ملی۔ اور دوسرے امداد بلوچ، جن کی ننھی پری کی سریلی آواز نے دنیا کو حیران کردیا۔ مجھے سیمک کے پچھلے ماہ ریلیز ہونے والے براہوی گانے کی سمجھ نہیں آئی مگر اس کے ساتھ انٹرویو کے کلپ نے اس ننھی پری کے حوالے سے جاننے کا تجسس پیدا کیا۔ اس میں انہوں نے ایک جملہ کہا کہ ”میں اس کو عبادت سمجھ کر کرتی ہوں۔“سن کر مجھے ڈر سا لگا کہ ایک بلوچ، اور پھر لڑکی اور ساتھ میں اس طرح کی بیان بازی۔ پتہ لگا کہ امداد بلوچ کا ہاتھ سر پر ہے۔ ہاں، پرانے درست کہتے تھے کہ جب بزرگوں کا سایہ سر پر ہو تو طوفان ٹل جاتے ہیں۔

بلوچستان، جہاں اپنی ثقافت اور روایات کے لیے مشہور ہیں، وہیں موسیقی بھی اپنی ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ بلوچستان کی موسیقی اور شاعری میں روایتی ساز، دھمال اور لوک گیتوں کا ایک الگ انداز ہوتا ہے، جن میں براہوی اور بلوچی زبان میں محبت اور جنگ کی داستانیں سنائی جاتی ہیں۔ مگر اب گائیکی کے حوالے سے بات کی جائے تو پچھلے پندرہ بیس برسوں میں گائیکی میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اب نوشین کمبرانی، فرہاد، نعیم دلپول جیسے گائیک سامنے آئے ہیں جن کی زبان تو بلوچی ہے مگر طرزِ گائیکی ماڈرن۔ اس کے ساتھ بارہ سالہ سیمک بلوچ سامنے آئی ہیں، جو اپنی منفرد آواز کے ذریعے بلوچ خطے کی ثقافت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

بارہ سالہ سیمک بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ضلع کچھی سے ہے۔ سیمک بلوچی اور براہوی دونوں زبانوں میں گاتی ہیں۔ سیمک نے گانا گانے کا آغاز سات سال کی عمر میں کیا اور یہ شوق انہیں اسکول کے ماحول سے ملا۔

سیمک بلوچ اپنے انٹرویو میں بتاتی ہیں کہ ’میں صبح اسکول جاتی ہوں پھر دوپہر کو واپس آنے کے بعد میرے استاد مجھے ٹریننگ دیتے ہیں، اوہ مجھے آواز کے اتار چڑھاؤ اور گانے کی تکنیک سکھاتے ہیں، چھ سال کی عمر سے گانا گاتے ہوئے جتنا نکھار میری آواز میں آیا ہے، وہ میرے استاد کی محنت کا نتیجہ ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’پہلی بار جب میں نے اسکول میں پرفارم کیا تب میرے اسکول ٹیچر نے مجھے احساس دلایا کہ میں گا سکتی ہوں، وہ دن ہے اور آج کا دن، اپنے شوق کو کبھی نہیں چھوڑا۔‘ ان کا ماننا ہے کہ بلوچی اور براہوی زبانوں میں گانا گنگنانا صرف ان کا شوق ہی نہیں بلکہ ایک عبادت اور قومی ذمہ داری ہے۔

سیمک کا کہنا ہے کہ ’وہ قدیم شاعروں کے گیتوں کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں۔ اس لیے ان کی شاعری اور لوک گیتوں کو ری کریٹ کرتی ہیں۔ مزید بتاتی ہیں کہ میری ہر وقت کوشش ہوتی ہے کہ بلوچی براہوی کلچر اور زبان کو پروموٹ کروں اور دنیا کو دکھاؤں، اس کے ساتھ میں صوفی اور انقلابی خیالات پر بھی فوکس کرنا چاہتی ہوں۔‘

اپنی پسندیدہ شاعر کا نام بتاتے ہوئے سیمک نے کہا کہ وہ استاد عظیم جان، استاد مراد پارکوئی اور استاد اختر چنال کو آئیڈیلائز کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے گاؤں یا فیملی میں گانے کا رواج نہیں ہے۔ یہ صرف ان کا شوق ہے جس میں ان کے والدین اور استاد نے بہت سپورٹ کیا ہے۔

جب سیمک سے اس سفر میں مشکلات کے حوالے سے سوال ہوا تو وہ جواب میں بتاتی ہیں کہ ’گانے سے پہلے میں بلوچ گانوں پر ڈانس کرتی تھی پھر لوگوں نے تنقید کرنا شروع کی کہ یہ ہمارا کلچر نہیں ہے، پھر جب گنگنانا شروع کیا تو لوگوں نے دوبارہ تنقید کی کہ ’لڑکی ہو کر گانا گا رہی ہو‘، ’یہ ہمارا مذہب ہمیں نہیں سکھاتا، یہ بلوچ کلچر نہیں ہے‘ وغیرہ وغیرہ لیکن میں نے لوگوں کی باتوں پر فوکس نہیں کیا کیونکہ میرے والدین میرے ساتھ تھے۔

وہ اپنی پہلی ویڈیو شوٹنگ کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ ’پہلی بار میرے ویڈیو کی شوٹنگ میرے اپنے گاؤں میں ہوئی تھی، وہاں کی خواتین خاص طور پر کم عمر بچیاں بہت خوش تھیں، بلوچستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے لیکن صرف تھوڑی سی مدد، حوصلہ اور توجہ کی ضرورت ہے۔

”لوگ تنقید کرتے کہ بچی کو اسلامی تعلیمات سکھائیے، ناچ گانا بلوچ کلچر کا حصہ نہیں“

 سیمک کے حوالے سے والدہ بتاتی ہیں ’بچپن میں سیمک جو گانا سنتی تھی، اسے بہت جلد یاد کر لیتی تھی اور پھر پورا دن گنگناتی رہتی تھی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’جب سیمک کے والد فیس بک پر اس کی کوئی ویڈیو پوسٹ کرتے، تو اکثر لوگ کمنٹس میں اعتراض کرتے کہ بچی کے سر پر دوپٹہ نہیں ہے۔ کوئی کہتا کہ بچوں کو اسلامی تعلیمات سکھائیے، گانے گانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ کلچر ایسے کاموں کی اجازت نہیں دیتا۔ ان سب باتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم نے اپنی بیٹی کو سپورٹ کیا۔

سیمک کے والد، امداد بلوچ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے تمام بچوں کو آزادی کے ماحول میں جینا سکھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’لوگوں کا کام باتیں بنانا ہے، لیکن میں نے ہمیشہ منفی باتوں کو نظرانداز کیا اور اپنے بچوں کو بھی یہی سبق دیا۔ بطور والد اور ایک سیاسی و ثقافتی کارکن، میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ اپنے بچوں کے خوابوں کو سپورٹ کروں۔‘ امداد بلوچ نے مزید بتایا کہ ’سیمک ابھی پروفیشنل سنگر نہیں ہے، وہ سیکھ رہی ہے اور اپنی ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہماری مادری زبانوں اور ثقافت کو محفوظ رکھنے اور ترقی دینے کے لیے حکومتی سطح پر خاص اقدامات نہیں کیے جاتے، جو کہ بہت ضروری ہیں۔‘ انہوں نے اپنی بیٹی کے بارے میں فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’میرے لیے سب سے زیادہ قابل فخر لمحہ وہ ہوتا ہے جب سیمک کسی چیز کی کوشش کرتی ہے اور اسے کامیابی سے انجام دیتی ہے۔ وہ بہت پراعتماد ہے اور دنیا کو جاننا اور ایکسپلور کرنا چاہتی ہے۔

مزیدخبریں