ان کا کہنا تھا کہ 22 کروڑ پاکستانیوں میں سے صرف ایک فیصد پاکستانی ٹیکس فائلر ہیں، ایک فیصد پاکستانی 22 کروڑ عوام کا بوجھ اٹھا رہے ہیں،یہ نا ممکن ہے،کوئی بھی ملک اپنےعوام کی خدمت نہیں کر سکتا اگر لوگ ٹیکس نہ دیں، لوگ ٹیکس نہیں دیتے جس کے باعث نہ ہم اسپتال بنا سکتے ہیں نہ اسکول۔
وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں گارنٹی دیتا ہوں کہ آپ کا پیسا ملک پر خرچ ہوگا،چوری نہیں ہوگا، اثاثوں کی ڈیکلیریشن اسکیم 30 جون تک ہے،یہ آپکے پاس ایک موقع ہے، بے نامی پراپرٹی ،بینک اکاؤنٹس ڈیکلیر کر دیں،یہ موقع 30 جون کے بعد آپ کو نہیں ملے گا،آپ اپنے پاکستان کی خدمت کریں اور اپنے پیسے کو ڈیکلیر کر دیں، ہم بچوں کا مستقبل ٹھیک اور ملک کواپنےپیروں پرکھڑا کر سکتے ہیں،بے نامی اثاثے ڈیکلیر ہوں تو ہم اپنے غریب لوگوں کو اوپر اٹھا سکتے ہیں۔