نئے صوبے، پرانے مسائل: سندھ میں اختیارات کی اصل بحث

سندھ کو نئے صوبے، نئے ضلع، نئے ٹاؤن یا نئے انتظامی نام سے زیادہ نئی سوچ کی ضرورت ہے۔ ایسی سوچ جس میں مقامی حکومت بااختیار ہو، مگر ساتھ جواب دہ بھی ہو۔ ایسا کونسلر ہو جو اپنے علاقے کے لوگوں کو جانتا ہو اور جس کے پاس مسائل حل کرنے کے لیے حقیقی اختیار اور وسائل ہوں۔ ایسی منصوبہ بندی ہو جو نقشے پر نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی سے شروع ہو۔

12:15 AM, 30 Sep, 2026

محمد توحید

عوام دوست منصوبہ بندی، بااختیار مقامی حکومت اور نئے صوبے

محمد توحید

آج کوئی صوبے بنانے کی بات کر رہا ہے تو کوئی نئے انتظامی یونٹس کی، جب کہ اس بحث میں شامل اکثر لوگ ان کے معنی و مفہوم سے آشنا بھی نہیں۔ جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ اس کا کیا مطلب ہے تو کہتے ہیں، یہ بعد میں بتائیں گے۔ یاد رکھیں کہ انتظامی ڈھانچہ کوئی بھی ہو، اگر عوام دوست منصوبے، ماحول اور موسمیاتی تحفظ حکمرانی کا مرکزی حصہ نہ بنیں تو محض اختیارات کی منتقلی شہر کے بنیادی مسائل حل نہیں کر سکتی۔ موجودہ ترتیب و حالات میں صوبے بنانے سے کیا فائدہ مل سکتا ہے؟ یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے۔

فرض کریں سندھ میں تین صوبے بنا دیے جاتے ہیں، شمالی سندھ، وسطی سندھ اور جنوبی سندھ۔ اب تین وزرائے اعلیٰ ہوں گے اور موجودہ ترتیب کے تحت تمام اختیارات و وسائل پر وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت کا قبضہ ہوگا۔ تو ایسی صورتِ حال میں سندھ کے ایک عام شہری کو کیا فائدہ ملے گا؟ سکھر ہو، لاڑکانہ ہو، بدین ہو، جیکب آباد ہو، حیدرآباد یا کراچی، لوگ اپنے بلدیاتی مسائل، یعنی پانی، سیوریج، کچرا، ٹرانسپورٹ سے لے کر بلڈنگ کنٹرول اور زمین کے استعمال تک کے حل کے لیے کیسے وزرا تک رسائی حاصل کریں گے؟ کیونکہ جو بھی لوکل حکومت کا وزیر ہوگا، وہ آبادیوں اور علاقوں میں کبھی گیا ہی نہیں ہوگا، اور ہر صوبے کا وزیر اعلیٰ کئی وزارتیں اپنے پاس رکھے، اسے کون پوچھنے والا ہوگا؟

پھر ایک جانب یہ بیانیہ آتا ہے کہ ہم صوبے بنانے کے حق میں نہیں، مگر نئے انتظامی یونٹس بننے چاہییں، تو انتظامی یونٹس کی تو شروعات ہی صوبے سے ہوتی ہے، کیونکہ اگر آپ کہتے ہیں مزید ڈویژن بنا لیے جائیں اور موجودہ سات ڈویژنز کو بڑھا کر تیرہ کر دیا جائے اور تیس اضلاع کو بڑھا کر پینتالیس کر دیا جائے تو پورے سندھ میں تیرہ کمشنرز اور پینتالیس ڈپٹی کمشنرز تعینات کیے جائیں گے۔

نئے ڈویژنز بنانا یا نئے اضلاع بنانا ایک معمول کی بات ہے، جیسا کہ قیامِ پاکستان (1947ء) کے وقت صوبہ سندھ میں موجودہ دور کی طرح متعدد انتظامی ڈویژنز (Divisions) موجود نہیں تھے، بلکہ صرف آٹھ اضلاع تھے، جن میں کراچی، حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر، لاڑکانہ، دادو، تھرپارکر اور اپر سندھ فرنٹیئر (جیکب آباد) شامل تھا، جب کہ خیرپور ایک نوابی ریاست تھی اور بعد میں پاکستان کا حصہ بنی۔ تو قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک سات ڈویژنز بنائے گئے اور آٹھ اضلاع کی جگہ آج تیس اضلاع سندھ میں موجود ہیں، مگر عوام کے مسائل جوں کے توں موجود ہیں، یعنی بنیادی حل اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ہے، جس کے لیے حکمران کسی طور تیار دکھائی نہیں دیتے۔

سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی کی بات کی جائے تو کراچی کو ہم نے ہمیشہ ایک ایسے شہر کے طور پر دیکھا ہے جہاں مسائل بہت ہیں، ادارے بہت ہیں، اختیارات بہت ہیں، لیکن ذمہ داری واضح نہیں۔ پانی کا مسئلہ ہو، کچرے کا، ٹریفک کا، شہری سیلاب کا، تجاوزات کا، پارکوں کا، سڑکوں کا یا زمین کے استعمال کا—شہر میں ایک سے زیادہ ادارے موجود ہیں، مگر عام شہری کے لیے یہ جاننا مشکل ہے کہ اس کے مسئلے کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ اس کا مسئلہ حل کہاں سے ہوسکتا ہے؟ اور کراچی کے مسائل حل ہو بھی نہیں سکتے، کیونکہ شہر کے بارے میں فیصلے اکثر شہریوں کے بغیر کیے جاتے ہیں۔

لوگ کراچی کے مستقبل پر بحث کرتے ہوئے کبھی نئے صوبے کی بات کرتے ہیں، کبھی خصوصی انتظامی یونٹ کی، کبھی نئے اضلاع یا ٹاؤنز کی، کبھی میئر کے اختیارات کی اور کبھی صوبائی و بلدیاتی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی۔ یہ بحثیں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان سب سے پہلے ایک بنیادی سوال پوچھنا ضروری ہے۔ کیا ہم ایسا شہر بنانا چاہتے ہیں جو حکومت کی خواہش کے مطابق ہو یا ایسا شہر جس میں شہری اپنی ضروریات، ترجیحات اور سوچ کے مطابق زندگی گزار سکیں؟

میرے نزدیک شہری منصوبہ بندی کا اصل مقصد صرف زمین کو تقسیم کرنا، سڑکیں بنانا، عمارتوں کے نقشے منظور کرنا یا نئے ترقیاتی منصوبے تیار کرنا نہیں۔ شہری منصوبہ بندی دراصل اس بات کا فیصلہ ہے کہ شہر میں کون کہاں اور کیسے زندگی گزارے گا، کس کو سہولت ملے گی، کس کی آواز سنی جائے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے ہم کیسا شہر چھوڑیں گے؟

اسی لیے کراچی کو ایک ایسے عوام دوست شعور کی ضرورت ہے جہاں منصوبہ بندی اوپر سے نیچے نہ آئے بلکہ محلے، یونین کونسل، ٹاؤن اور شہر کی سطح سے اوپر کی طرف جائے۔ کیونکہ شہری منصوبہ بندی کو محض انفراسٹرکچر کی تعمیر کے بجائے شہریوں، ماحول اور روزمرہ زندگی سے جوڑنا ضروری ہے۔ کراچی کی منصوبہ بندی میں شہریوں کی آواز اور ترقیاتی منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات کو شامل کرنا ضروری ہے، جبکہ چھوٹے سے چھوٹے منصوبے کو بھی تحقیق اور متعلقہ شہریوں و اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جانی چاہیے۔

ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ شہر صرف سڑکوں، عمارتوں، پلوں اور تجارتی مراکز کا مجموعہ نہیں۔ شہر ایک زندہ سماجی، معاشی اور ماحولیاتی نظام ہے۔ اسی طرح ایک محلہ صرف رہائشی پلاٹوں کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ وہاں بچے کھیلتے ہیں، بزرگ بیٹھتے ہیں، خواتین روزمرہ کام کرتی ہیں، لوگ پیدل چلتے ہیں، چھوٹے کاروبار کرتے ہیں، اسکول جاتے ہیں، مسجد تک پہنچتے ہیں، پانی حاصل کرتے ہیں، کچرا باہر نکالتے ہیں اور بارش کے دوران اسی گلی اور اسی سڑک سے گزرتے ہیں۔

اس لیے جب کسی رہائشی علاقے کو تجارتی علاقے میں تبدیل کیا جاتا ہے تو مسئلہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ ایک عمارت پر رہائشی کے بجائے تجارتی بورڈ لگ گیا۔ اس تبدیلی کے ساتھ گاڑیوں کی تعداد، پارکنگ، پانی، سیوریج، بجلی، ٹریفک، شور، کچرے اور آس پاس کے انفراسٹرکچر پر دباؤ بھی تبدیل ہوتا ہے۔ کیونکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی کو محض نقشے کی تبدیلی نہیں بلکہ شہری زندگی اور انفراسٹرکچر پر اس کے مجموعی اثرات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اور یہی عوام دوست منصوبہ بندی کا بنیادی تصور ہے۔

اگر ایک محلہ رہائشی ہے تو وہاں رہنے والوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ اپنے محلے کا مستقبل کیسا چاہتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں پارک موجود ہے تو یہ نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ اس زمین سے کتنی تجارتی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے؛ پہلے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ اس پارک کی شہری، ماحولیاتی اور سماجی قدر کیا ہے۔ اگر کوئی سڑک بنائی جارہی ہے تو صرف یہ نہیں دیکھا جانا چاہیے کہ اس سے کتنی گاڑیاں گزریں گی؛ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس سے پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں، دکانداروں، رہائشیوں اور ماحول پر کیا اثر پڑے گا۔ یہی منصوبہ بندی کو عوام دوست بناتا ہے۔

سندھ کو نئے صوبے، نئے ضلع، نئے ٹاؤن یا نئے انتظامی نام سے زیادہ نئی سوچ کی ضرورت ہے۔ ایسی سوچ جس میں مقامی حکومت بااختیار ہو، مگر ساتھ جواب دہ بھی ہو۔ ایسا کونسلر ہو جو اپنے علاقے کے لوگوں کو جانتا ہو اور جس کے پاس مسائل حل کرنے کے لیے حقیقی اختیار اور وسائل ہوں۔ ایسی منصوبہ بندی ہو جو نقشے پر نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی سے شروع ہو۔ ایسی ترقی ہو جو ماحول کو قربان کرکے حاصل نہ کی جائے۔ ایسے شہر ہوں جہاں ساحل، پارک، درخت، نالے اور کھلی زمینیں رکاوٹ نہیں بلکہ شہری اثاثے سمجھے جائیں۔

اور سب سے بڑھ کر ایسا شہر ہو جس کے بارے میں منصوبہ ساز یہ نہ کہیں کہ "ہم نے شہر کے لیے فیصلہ کیا" بلکہ شہری یہ کہہ سکیں کہ ہم نے اپنے شہر کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے میں حصہ لیا ہے۔ یہی عوام دوست منصوبہ بندی ہے۔ یہی حقیقی مقامی حکومت کا مقصد ہونا چاہیے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر نہ صرف کراچی بلکہ ہر شہر صرف بااختیار شہر نہیں بلکہ محفوظ، منصفانہ، ماحول دوست، موسمیاتی طور پر لچکدار اور لوگوں کا شہر بن سکتا ہے۔

مزیدخبریں