Type to search

خبریں سیاست قومی

عامر لیاقت اور احسان اللہ احسان کے مبینہ اکاؤنٹ کے درمیان لفظی جنگ، ایک دوسرے پر گالیوں کی بوچھاڑ

  • 74
    Shares

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عامر لیاقت حسین اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے درمیان ٹوئٹر پر لفظی جنگ چھڑ گئی۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر عامر لیاقت نے کہا کہ احسان اللہ احسان! ایک احسان تو کرو، آڈیو پیغامات کے بجائے اپنی منحوس شکل کے ساتھ ایک ویڈیو پیغام بھی بھیجو نا، ہمیں کیا پتہ کہ آواز تمہاری ہے یا نکالی گئی ہے، زرا تھوبڑا تو دکھاؤ، اور تھوڑا سا مسکراؤ، تاکہ ابلیس دیکھ سکوں۔

اس پر احسان اللہ احسان نے کہا کہ تم جیسے منحوسوں کو دیکھ پاکستانی یقینی طور پر اُکتا چکے ہیں، میں اپنا چہرہ دیکھاؤں گا مگر اس کے بعد تم اور تم جس کے لیے بھونک رہے وہ اپنا چہرہ چھپائے پھرتے رہیں گے۔

جواب میں عامر لیاقت نے کہا حرام الدہر، آرمی پبلک اسکول کے بچوں کے قاتل، نطفہ ناتحقیق۔ ٹوئٹر ٹوئٹر تو نے بہت کھیل لیا، اب ذرا ویڈیو پیغام کے ساتھ سامنے آ، ترکی میں ہے نا تو، اپنے ہی ایک قولِ آڈیوکے مطابق۔ تو آنا ذرا، آ ویڈیو پر بات کرتے ہیں خارجی۔

اس پر احسان اللہ احسان نے کہا خبیث الخلقت انسان تم جیسے مسخروں کی کیا اوقات ہے، میں جو کہتا ہوں وہ الحمدللہ کر کے بھی دیکھاتا ہوں، تم جیسا درباری نہیں ہوں کہ لوگوں کی چرنوں میں پڑا رہتا ہوں، اپنی آقاؤں سے کہہ دینا میں تمھاری نیندیں حرام کرنے والا ہوں۔

عامر لیاقت نے کہا نکل ہی گیا نہ منہ سے لفظ “چرنوں” تم تو ساکشار شدھی بھارت واسی نکل آئے، مریادا کی سیما پار نہیں کی نا تم نے۔ سالے تو ایک بھارتی ایجنٹ کے سوا کچھ نہیں، چائے پیے گا چائے؟ چل پھر آجا (اگر تو ہے) کیونکہ تو ہے ہی نہیں۔

احسان اللہ احسان نے کہا کہ ہندوؤں کی اولاد تو تم ہو میرے اجداد نے تو تمھارے اجداد کو محکوم بنا کر بتایا تھا کہ یہی تمہاری اوقات ہے اور میں آیا تو تھا اور الحمدللہ نکل بھی آیا ہوں۔

بظاہر لگتا ہے کہ عامر لیاقت حسین ٹوئٹر پر احسان اللہ احسان سے ہی لفظی تکرار کر رہے ہیں، یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ احسان اللہ احسان کا ہی ہے یا پھر کسی نے پیروڈی اکاؤنٹ بنایا ہوا ہے۔ تاہم، ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے احسان اللہ احسان کے نام والا یہ اکاؤنٹ بند کر دیا گیا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *