Type to search

عوام کی آواز معاشرہ

انسانی تعلقات میں عمدہ قیادت کا کردار

  • 9
    Shares

ہر انسان اہمیت کا حامل ہے۔ وہ ہر حال میں چاہتا ہے کہ دوسرے اس کی قدر کریں۔ ایک کمپنی اسی وقت بحسن و خوبی چل سکتی ہے جب ملازمین کے مشوروں کو اہمیت دی جائے اوران کی پریشانیوں کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کو حوصلہ دیا جائے۔ دوسروں کے سامنے ان کی کمزوریوں کی نشاندہی نہ کی جائے۔ ان سے ان کی رائے پوچھی جائے۔ ان کی ترقی کے بارے میں انہیں اطلاع دی جائے اور کسی ایک کی طرف داری نہ کی جائے۔

دنیا میں وہی لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں جو دوسروں کو اپنا وقت دیتے ہیں۔ سب سے ناخوش لوگ سوچتے رہتے ہیں کہ دنیا انہیں کیسے خوش کر سکتی ہے۔ ماہرِ نفسیات کے مطابق جو لوگ تنہائی کی وجہ سے ناخوش ہیں انہیں ایسے لوگوں کی تلاش کرنی چاہئے جو پریشان حال ہیں۔ خود کو بھول کر اداس افراد کودوسروں کی مدد کرنی چاہئے۔

ہم ان لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس سے دل میں گرمی پیدا ہوتی ہے۔ ہم ان لوگوں کے قریب جانا پسند کرتے ہیں جو ہمیں آگے جانے میں ہمت دیتے ہیں۔ جو لوگ ہمیں ذلیل کرتے ہیں ہم ان کے ساتھ مضبوط رشتہ نہیں بنا پاتے۔ ایسے لوگوں کی صحبت سے اجتناب کیا جاتا ہے اور ایسے لوگوں کو تلاش کیا جاتا ہے جو دوسروں کی صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں آگے جانے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

دوسروں کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کریں جیسا کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ برتاؤ کیا جائے۔ کسی سے ملاقات کرتے وقت شروع کے تیس سیکنڈ میں انہیں دکھائیں کہ آپ ان کی قدر کرتے ہیں۔ اس سے آنے والی بات چیت سازگار رہتی ہے۔ ان کو اہمیت دیں۔ اکثر ہم دوسروں کے بارے میں نیک خیالات رکھتے ہیں لیکن انہیں ظاہر نہیں کرتے۔

بعض اوقات ہمارے جذباتی مسائل اور تناؤ ایسے بحث و مباحثے کی دین ہیں جن کو سلجھائے نہیں گئے ہوں۔ ہم ایک دوسرے سے مناسب رشتہ بنانے سے قاصر رہتے ہیں۔ مضبوط رشتے کی بنیاد کے لئے معاف کرنا ضروری ہے۔ درگزر کرنے سے احساس جرم ختم ہو جاتا ہے اور ہم مثبت رویہ اختیار کرتے ہیں۔ معاف نہ کرنے سے ہم دوسروں سے زیادہ خود کو تکلیف دیتے ہیں۔ اپنے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کا حساب رکھنا بند کریں۔ دوسروں کو معاف کرنے سے ہی من ہلکا ہوتا ہے۔

دوسروں کی باتوں پر غور کریں۔ ان کو غور سے سنیں۔ ہم ان لوگوں کے پاس رہنا پسند کرتے ہیں جو ہمارا حوصلہ بڑھاتے ہیں، ہماری قدر کرتے ہیں، ہمیں معاف کرتے ہیں، ہماری باتوں پر کان دھرتے ہیں اور ہمیں سمجھتے ہیں۔ زندگی میں ہماری کامیابی اور خوشیوں کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ ہم کس حد تک دوسروں سے اچھے تعلقات استوار کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے لئے خود کو دوسروں کی جگہ میں رکھ کر سوچیں کہ مجھے کون سی چیز دوسروں کے قریب کر سکتی ہے۔ لوگوں کو اپنی طاقت مانیں، مخالف نہیں۔ اشتراک اکیلے سفر کرنے سے بہتر ہے۔ ایسے کام انجام دیں جس سے دوسروں کو مدد ملے۔

ملاقات کے دوران خوشی کا اظہار کریں اور رخصت کے وقت دکھ کا اظہار کریں۔ دوسروں کے فائدے کے بارے میں سوچیں۔ جب لوگ آپ کو اپنا غم بیان کرتے ہیں، ان سے کہیں کہ مصیبت کو دور کرنے میں وقت لگتا ہے۔ ان کی پریشانی کو سنیں۔ انہیں یقین دلائیں کہ آپ کو ان پر بھروسہ ہے۔ حل تلاش کرنے میں مشورہ دیں۔ تاریکی میں امید کی روشنی جلائیں۔ خود غرض انسان اپنی طاقت سے دوسروں پر زور آزماتا ہے۔

مصروفیت کے وقت اپنے حالات بیان کرنے کا ایک انوکھا طریقہ اپنائیں۔ خود اعتمادی سے کام کرنے کا ایک منفرد انداز بھی اپنائیں۔ اس طرح دوسروں کی نظر ہم پر جاتی ہے۔ ایک قائداپنی طاقت کو پہچانتا ہے اور اپنی طاقت سے دوسروں کی مدد کرتا ہے۔ دوسرے اس کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔ وہ بدلتے حالات کے مطابق حساس رہتا ہے۔ کسی بھی حالت کو بخوبی محسوس کرتا ہے اور اس کا اظہار کرنا جانتا ہے۔ قائد کے پاس خود اعتمادی ہوتی ہے۔ جو اپنی خود اعتمادی سے دوسروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔

مقناطیسی شخصیت پانے کے لئے دوسروں کے بارے میں بہترین سوچ اپنائیں۔ بہترین چیزوں پر اپنی رائے قائم کریں اور دوسروں سے بہترین چیزوں کا اظہار کریں۔ اس طرح ہم دوسروں کی ذاتی نشونما میں اہم کردار ادا کریں گے۔ دوسروں کوپسندکرنے سے پہلے خود کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا بھی اشد ضروری ہے۔

ایک مغرور آدمی دوسروں کو تذلیل کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور خود کو اعلیٰ مانے گا۔ جو شخص اپنے عہدے اور اپنی حیثیت کی وجہ سے مغرور ہے لوگ اس سے دور رہتے ہیں۔ خوف زدہ لوگ آگے نہیں بڑھ پاتے اور ایک ہی جگہ پر رہتے ہیں۔ جس انسان کا مزاج موسم کے حساب سے بدلتا ہے لوگ اس پر اعتبار نہیں کر پاتے۔ کچھ لوگ اپنے کام میں غلطی قبول نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے پاس کوئی نہیں جاتا کیونکہ ہر کام بہتر طریقے سے کرنے کے دباؤ سے شخصی آزادی چھن جاتی ہے۔ حساس انسان ہمیشہ اپنے زخموں پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں اور لوگوں کا خیال نہیں کرتے۔ اس لئے لوگ ان کے آس پاس نہیں رہتے۔ جو انسان ہر وقت منفی رویہ اور خیالات اپناتا ہے اس کے پاس بھی لوگ نہیں ہوتے۔

خود اعتمادی سے دوسروں کی رہنمائی کرنا، ان کو آگے جانے کا راستہ دکھانا اور ان کو اپنی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔ خود اعتمادی کو رہنمائی، ماضی کی کامیابی اور حوصلہ سے ملایا جائے تو یہ انسان کی شخصیت میں طاقتور چاشنی پیدا کرتی ہے۔ جس انسان کو معلوم ہے کہ وہ زندگی میں کہاں جا کر رہا ہے لیکن اس کے پاس خود اعتمادی نہیں تو وہ دوسروں کو ان کی صلاحیت کا یقین نہیں دلا سکتا۔ خود اعتمادی سے زندگی کی ڈور کو مضبوطی سے تھام کر استحکام کی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ خود اعتمادی سے خود سے خوش ہونے کی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ خود اعتمادی کا دار و مدار اس علم پر ہے کہ فی الحال مجھے جس چیز کی ضرورت ہے وہ میرے پاس موجود ہے۔

موجودہ حالات میں ہم پریشانیوں سے ہم گزر رہے ہیں۔ نامساعد حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مشکل حل ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ہمارے خواب چکنا چور ہو رہے ہیں اور ہم پیچھے کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہمت چور ہو رہی ہے، پھر بھی جدوجہد جاری ہے۔ سکونِ قلب اسی سے آتا ہے۔

مایوسی ضرور ہے لیکن ناامیدی نہیں۔ دباؤ پر رہا ہے لیکن احساس شکست خوردگی کو پاس آنے نہیں دیتے۔

لوگوں کو اپنا کام جاری رکھنے کے لئے تعریف اور ستائش کی ضرورت ہے۔ ان کے لئے نکتہ چینی اور منفی خیالات سے زیادہ ضروری تعریف اور ستائش کے ذریعے مثبت رائے دینی ہے۔ دوسروں کے بارے میں مثبت سوچ رکھیں۔ کام اور تعریف توانائی کا پروردہ ہے لیکن تعریف کے بغیر کام کی کارکردگی میں کمی آتی ہے۔ انسان خدا پر ایمان لا کر مضبوط بنتا ہے۔ اپنے حالات پرنہیں۔ مشکل کے وقت خدا سے مدد مانگیں جو اس کی کمزوری کو طاقت میں بدل سکتا ہے۔

دوسروں سے اپنا مقابلہ کرنا بند کر دیں۔ مقابلہ کرنے سے ہم خود کو پسند نہیں کر پاتے۔ خود اعتماد بننے کے لئے ایک شعبہ تلاش کریں جس میں آپ اچھے ہیں اور اس میں ماہر بنیں۔ چاہے کھیل کود ہو، کوئی قدرتی صلاحیت یا ہنر۔ اس طاقت کا مسلسل استعمال کریں۔ اس طرح ہم دوسروں کو ان کے ہنر کا انکشاف کرنے میں مدد کر پاتے ہیں، اس کی نشوونما میں ان کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں اور اس کا استعمال کرنے میں ان کی تربیت کر سکتے ہیں۔

کامیابی کا دار و مدار پندرہ فی صد کام کی معلومات پر ہے اور پچاس فی صد انسان کی معلومات پر ہے۔ کام اور منسلک لوگوں کی جانکاری سے ہم ان کی ضروریات کو پورا کر پاتے ہیں جس سے خود اعتمادی پنپتی ہے۔ پر اعتماد بننے کے بعد خود پر یقین کو بڑھانا چاہئے کیونکہ کامیابی اور ناکامی کے باعث عروج اور زوال آتا رہتا ہے۔ اگر آپ اس حقیقت کا استقبال کریں کہ آپ ہر چیز میں بہتر نہیں ہونگے، آپ کی اہمیت بالکل پست نہیں ہوگی۔ لوگ پُر اعتماد لوگوں کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں کیونکہ اس محبت سے ان کی بھی خود اعتمادی بڑھتی ہے۔ ہماری خوداعتمادی سے احباب اور اہلِ خانہ بھی زیادہ پر اعتماد ہونگے۔

تعریف میں بخل نہ کریں۔ اپنے اقوال سے ہم کام کی قدر کریں اور دوسروں کے سامنے تعریف اور خلوت میں کڑوی باتیں بیان کریں۔ پر اعتماد کردار، علم یا مہارت کی تلافی نہیں لیکن وہ ان چیزوں کی آب و تاب بڑھاتا ہے جس سے آپ اپنی چھاپ چھوڑ سکتے ہیں۔ خود اعتمادی علم یا مہارت کو جو آب و تاب بخشتی ہے اس سے رشتے زیادہ سازگار بنتے ہیں اور فرق نظر آنے لگتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *