Type to search

بین الاقوامی خبریں سیاست

ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد اپنے عہدے سے مستعفی، وجہ کیا بنی؟

ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے، انہوں نے اپنا استعفیٰ ملائیشیا کے بادشاہ کو بھجوایا۔

دوسری جانب ان کی سیاسی جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے محض 2 سال سے بھی کم عرصے میں حکمراں اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلی۔ امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دفتر وزیراعظم سے جاری تفصیلی بیان میں کہا گیا کہ مہاتیر محمد نے اپنا استعفیٰ بادشاہ کے محل دوپہر ایک بجے بھجوایا، اس کے علاوہ کوئی معلومات نہیں بتائی گئی۔

واضح رہے کہ یہ سیاسی ہلچل ایسے وقت میں سامنے آئی کہ جب مہاتیر محمد کے حمایتیوں نے ان کے نامزد جانشین انور ابراہیم تک اقتدار کی منتقلی ناکام بنانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

مہاتیر کی جانب سے استعفیٰ دینے کی پیشکش سے چند لمحوں قبل ہی ان کی جماعت بیراستو کا یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو چھوڑ دے گی اور مہاتیر محمد کی بطور وزیراعظم حمایت کرے گی جبکہ متعدد کابینہ وزیروں سمیت دیگر 11 قانون سازوں نے بھی انور ابراہیم کی پارٹی چھورنے کا اعلان کردیا ہے۔ یوں بیراستو کے 50 قانون سازوں اور انور ابراہیم کی پارٹی کے حکمراں اتحاد سے علیحدگی اختیار کرنے کی صورتحال نے اس حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کردیے کہ کیا انور اقتدار سنبھالنے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ مہاتیر محمد کے پہلے دورہ اقتدار کے دوران مہاتیر اور انور ابراہیم ملائیشیا کے 2 اعلیٰ ترین رہنما تھے جنہوں نے مئی 2018 کے انتخابات میں ایک بدعنوان حکومت کو ختم کرنے کے سیاسی معاہدے کے تحت اتحاد کرلیا تھا۔ انتخابات سے قبل ہوئے سمجھوتے کے تحت اتحادی جماعتوں میں اقتدار منتقل کرنے کا معاہدہ ہوا تھا لیکن مہاتیر محمد کی جانب سے اقتدار سے دست برداری کی تاریخ دینے سے انکار پر ان کے تعلقات میں دراڑ آگئی تھی۔

یاد رہے کہ 94 سالہ مہاتیر محمد اور ان کی اتحادی جماعت نے مئی 2018 میں حریف جماعت بریسن نیشنل (بی این) اور اس کے اتحادیوں کے 60 سالہ دور اقتدار کا خاتمہ کر کے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *