Type to search

بین الاقوامی خبریں ریاستی دہشت گردی مذہب

’بھارت ماتا کی جے کہنے والے ہی بھار ت میں رہیں گے‘

Delhi mosque set on fire

بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ جے رام ٹھاکر نے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرے لگانے والوں کو ہی بھارت میں رہنے کا حق دار قرار دے دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق شملا میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ جے رام ٹھاکر نے کہا کہ جو بھارت ماتا کی جے کہیں گے، وہی بھارت میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ بھارت میں چیزیں درست انداز میں نہیں چل رہیں، ان کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہیے۔

جے رام ٹھاکر کا کہنا تھا کہ بھارت ماتا کی جے کہنے والے ہی بھارت میں رہیں گے اور ہمیں اس بارے میں اب سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے جو یہ نہیں کہیں گے، وہ بھارت کے مخالف ہوں گے اور وہ بھارت کے آئین کا احترام بھی نہیں کریں گے۔

نئی دہلی فسادات پر بات کرتے ہوئے ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ اس معاملے کو حل کر لیں گے، مجھے یقین ہے کہ اس معاملے کو بہتر طریقے سے حل کرنے کے لیے اور کوئی شخص نہیں، ہمارے وزیرداخلہ موجود ہیں۔

واضح رہےکہ بھارت میں متنازع شہریت کے قانون کے خلاف نئی دہلی میں احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر بھارتی ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے غنڈوں نے حملہ کیا جس کے بعد نئی دہلی میں فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔ بھارتی دارالحکومت میں ہونے والے فسادات میں 20 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ متعدد زخمی ہیں، اس دوران ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ مساجد کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

متنازع شہریت کا قانون

11 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ نے شہریت کا متنازع قانون منظور کیا تھا جس کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔ اس قانون کے ذریعے بھارت میں موجود بڑی تعداد میں آباد بنگلا دیشی مہاجرین کی بے دخلی کا بھی خدشہ ہے۔

بھارت میں شہریت کے اس متنازع قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ احتجاج میں شریک ہیں۔ پنجاب، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش سمیت کئی بھارتی ریاستیں شہریت کے متنازع قانون کے نفاذ سے انکار کرچکی ہیں جب کہ بھارتی ریاست کیرالہ اس قانون کو سپریم کورٹ لے گئی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *