Type to search

سیاست فیچر

جب انہوں نے سیاست سے توبہ کرنے کے لئے مجھے قرآن پر حلف لینے کو کہا

  • 26
    Shares

یہ 2019 کا واقعہ ہے جب مجھے پشتون تحفظ موومنٹ کے ایک احتجاج کے دوران اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ مجھے کہاں رکھا گیا ہے۔ سرکاری حکام نے کچھ گھنٹے مجھ سے پوچھ گچھ کی اور مجھ سے سوالات کیے کہ آپ لوگ ریاست کے کیوں خلاف ہو جس پر میں نے جواب دیا کہ بھائی ہم تو ریاست کے خلاف نہیں، بس ریاست کا جو آئین ہے، اس پر عملدآرمد اور اس کو پورے ملک میں یقینی بنانے کے لئے احتجاج کر رہے ہیں اور اسی آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس مرحلے کے بعد تحریک کی فنڈنگ کے حوالے سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا کہ اپ لوگوں کو کونسی غیر ملکی ایجنسی فنڈز کر رہی ہے جس پر میں نے کہا کہ کوئی بھی فنڈ نہیں کر رہا، آپ لوگوں کے پاس اگر ثبوت ہیں تو آپ ثبوت سامنے لا کر عدالت میں ہمارے خلاف قانونی جنگ لڑیں، ہم آئین اور قانون کو ماننے والے لوگ ہیں، اگر عدالت میں ہم پر الزامات ثابت ہوئے تو ہم عدالتی فیصلے کا احترام کریں گے اور کوئی فریاد نہیں کریں گے۔

یہ واقعہ پشتون تحفظ موومنٹ کے ایک بااثر راہنما کے ساتھ پیش آیا تھا جنہوں نے مجھے اپنی کہانی بتائی۔

کچھ وقت کے بعد انہوں نے مجھ سے تحریک کے حوالے سے باقی تفصیلات جاننے کی کوشش کی اور پھر کہا کہ ہم آپ کو چھوڑ سکتے ہہں، اگر آپ ہمارے ساتھ ایک وعدہ کریں۔ کچھ لمحے بعد انہوں نے میرے سامنے قرآن مجید پیش کیا اور مجھے حکم دیا کہ اللہ کے کتاب پر حلف لو آج کے بعد نہ تم احتجاج میں شریک ہو گے اور نہ ہی سیاست   میں حصہ لو گے جس پر میں بڑا حیران ہوا۔

میں نے جواب دیا کہ میں کوئی ڈرگز تو نہیں بیچ رہا، نہ ہی کرائے کا قاتل ہو کہ آپ مجھ سے حلف لے رہے ہو کہ آئندہ نہیں کرو گے، جس پر وہ غصہ ہو گئے۔ انہوں نے حکم  دیا کہ آپ حلف لو گے۔ اس کے بغیر آپ کی رہائی ناممکن ہے۔ اس پر میں نے بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے جواب دیا کہ میں آئین پاکستان کو مانتا ہوں جو نہ صرف مجھے سیاست میں حصہ لینے کی پوری پوری اجازت دیتا ہے بلکہ مجھے پُرامن احتجاج کا بھی پورا پورا حق دیتا ہے اور ہم پرامن احتجاج اور پرامن سیاست کرتے ہیں۔ باقی آپ کی مرضی، آپ لوگوں نے جیل میں ڈالنا ہے یا پھانسی پر لٹکانا ہے لیکن میں نہ تو قرآن پر حلف لوں گا اور نہ ہی سیاست اور احتجاج میں حصہ لینے سے انکار کروں گا، باقی آپ کی مرضی۔

اس کے بعد مجھے اسلام آباد مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور پھر وہاں سے مجھے اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ اڈیالہ جیل میں جو کمرہ نما پنجرہ ہمیں ملا تھا، اس میں نہ تو ہم سو سکتے تھے، نہ صحیح طرح بیٹھ سکتے تھے۔ بس پھر کچھ ہفتے بعد ہمیں رہائی نصیب ہو گئی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *