اسلام آباد: بلوچستان میں صحافت ایک خطرناک پیشہ ہے، جہاں صحافیوں کو علیحدگی پسند اور مسلح گروہوں، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں، سیاسی و قبائلی اشرافیہ اور بعض مواقع پر ہجوم کی جانب سے شدید دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا سامنا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کی نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچستان میں کم از کم 40 صحافی قتل ہوئے، جن میں سے 30 صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے، جبکہ باقی بم دھماکوں یا دیگر حملوں میں مارے گئے۔
میڈیا کے نگران ادارے فریڈم نیٹ ورک کی ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں صحافی غیر معمولی خطرات، دباؤ اور سنسرشپ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث نہ صرف صوبے میں آزاد صحافت محدود ہو چکی ہے بلکہ مجموعی طور پر پاکستان میں میڈیا کی آزادی تنزلی کا شکار ہے۔
“بلوچستان میں صحافت: پریس فریڈم کی صورتحال، معلومات تک رسائی اور صحافیوں و میڈیا پروفیشنلز کی سلامتی اور پیش رفت” کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خضدار صحافت کے لیے سب سے خطرناک ضلع ہے، جہاں صحافی مسلسل جان کے خطرے میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں صحافی نہ صرف ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں ان پر مسلح گروہوں کے بیانات شائع کرنے یا سیکیورٹی اداروں کے لیے کالرز اور ذرائع کی نشاندہی میں مدد دینے کے لیے بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں انکار یا تعاون، دونوں صورتوں میں صحافیوں کو دھمکیوں اور ممکنہ تشدد کا سامنا رہتا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اگرچہ دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے صحافیوں کے ورثا کے لیے حکومتی سطح پر 40 لاکھ روپے تک معاوضے کی شق موجود ہے، تاہم بارہا یقین دہانیوں کے باوجود عدمِ سزا کا رجحان بدستور برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک بلوچستان میں صحافیوں کے قتل کے کسی بھی مقدمے میں کسی مجرم کو سزا نہیں دی جا سکی، جس کے باعث صحافی برادری میں خوف اور عدم تحفظ مزید گہرا ہو رہا ہے۔
بلوچستان میں صحافت ختم ہونے جا رہی ہے
رپورٹ کے اجرا کے موقع پر فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے کہا کہ بلوچستان میں عملی طور پر صحافت ختم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ صحافی اپنی جان اور سلامتی کے خوف سے خود کو سنسر کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رپورٹ کے نتائج تمام متعلقہ فریقوں کی توجہ حاصل کریں گے، تاکہ صحافیوں، میڈیا ورکرز اور معاون عملے کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور شہریوں کو قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی میسر آ سکے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی خدشات، کمزور طرزِ حکمرانی، خراب معاشی حالات اور آبادیاتی عوامل نے پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں میڈیا کے ماحول اور صحافیوں کی سلامتی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مقامی میڈیا مالی طور پر کمزور ہے، صوبے کے مسائل قومی یا مین اسٹریم میڈیا کے ایجنڈے میں جگہ نہیں پا رہے، اور ڈیجیٹل سہولیات کی کمی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ ان عوامل کا مجموعی نتیجہ عوامی مفاد کے مسائل کی کم کوریج، سیلف سنسرشپ میں اضافہ اور شہریوں کے حقِ معلومات میں مسلسل کمی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق 2002 کے بعد پیمرا کے تحت پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا میں تیزی سے توسیع ہوئی، تاہم بلوچستان میں علاقائی میڈیا کی موجودگی انتہائی محدود رہی۔ قومی ٹی وی چینلز اور اخبارات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ترجیح دیتے ہوئے کوئٹہ میں اپنے بیوروز مسلسل کم کر رہے ہیں، جبکہ صوبائی دارالحکومت سے باہر کوریج یا تو نہ ہونے کے برابر ہے یا مکمل طور پر غائب ہو چکی ہے۔ بلوچستان میں زمینی سطح پر کرنٹ افیئرز کا کوئی نجی ٹی وی چینل موجود نہیں، جبکہ سرکاری ادارے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان زیادہ تر شہری مراکز تک محدود ہیں۔
نجی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں قائم بلوچی زبان کا سیٹلائٹ چینل وش نیوز خود کو بلوچ ناظرین کے لیے 24 گھنٹے کا چینل قرار دیتا ہے، تاہم صوبے کے اندر ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز کی کوریج پیمرا کی 35 سے 40 کلومیٹر کی حد کے باعث شدید طور پر محدود ہے، جو بلوچستان جیسے وسیع صوبے کے لیے غیر مؤثر ہے۔ پرنٹ میڈیا زیادہ تر کوئٹہ تک محدود ہے اور لاگت، فاصلے اور دیہی علاقوں میں کم شرحِ خواندگی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبائی ڈی جی پی آر میں رجسٹرڈ 120 سے زائد اخبارات و جرائد میں سے صرف ایک درجن کے قریب ہی حقیقی قارئین رکھتے ہیں، جبکہ متعدد ادارے سرکاری اشتہارات کے حصول کے لیے محض ’ڈمی‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ بلوچی اور پشتو اخبارات کی تعداد نہایت کم ہے، اردو اخبارات غالب ہیں، جبکہ انگریزی زبان کی موجودگی انتہائی محدود ہے۔
ڈیجیٹل خلا اور انٹرنیٹ بندشیں
رپورٹ کے مطابق 2025 کے آغاز پر پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 11 کروڑ 60 لاکھ (45.7 فیصد) تھی، تاہم بلوچستان میں انٹرنیٹ تک رسائی صرف 15 فیصد ہے اور صوبے کے 60 فیصد علاقے فائبر کنیکٹیویٹی سے محروم ہیں۔ طویل اور مقامی سطح پر انٹرنیٹ بندشیں—جو بعض اوقات ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہتی ہیں، جیسے پنجگور میں مئی 2025 سے اور خضدار میں حملوں کے بعد بلیک آؤٹس—مقامی آبادی کو ڈیجیٹل دنیا سے مکمل طور پر کاٹ دیتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال ایک ہی ملک میں دو مختلف ڈیجیٹل حقیقتوں کی عکاسی کرتی ہے۔
اگرچہ سوشل میڈیا خبروں کے حصول اور ترسیل کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، تاہم اسی کے ساتھ صحافیوں اور سٹیزن رپورٹرز کو نگرانی، مواد ہٹانے کے مطالبات اور انتقامی کارروائیوں کے سنگین خطرات کا بھی سامنا ہے۔
بلوچستان میڈیا میں صنفی پہلو
رپورٹ کے مطابق صوبے میں خواتین صحافیوں کی تعداد نہایت کم ہے، جو زیادہ تر کوئٹہ تک محدود ہیں۔ انہیں نقل و حرکت، مخاصمانہ فیلڈ حالات، نیوز روم میں صنفی امتیاز، اجرت میں فرق، بنیادی سہولیات کی کمی (ٹرانسپورٹ، واش رومز، بچوں کی نگہداشت) اور ہراسانی جیسے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایڈیٹرز اکثر ’حفاظت‘ کے نام پر خواتین کو ضلعی اسائنمنٹس دینے سے روک دیتے ہیں، جس سے دقیانوسی تصورات مضبوط ہوتے ہیں، جبکہ ان سے بغیر معاونت کے بہتر کارکردگی کی توقع برقرار رہتی ہے۔ خواتین اکثر کیمرے کے پیچھے کام کرتی ہیں، یا ان کی تیار کردہ رپورٹس مرد ساتھی آواز دے کر نشر کرتے ہیں۔
میڈیا کی تنزلی کا سفر جاری، صحافیوں کے خلاف حملوں میں 60 فیصد اضافہ
فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے نومبر میں جاری کی گئی سالانہ امپیونٹی رپورٹ 2025 نے پاکستان میں میڈیا کی آزادی کی مجموعی طور پر بگڑتی ہوئی صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے خلاف حملوں، دھمکیوں، قانونی کارروائیوں اور دیگر جرائم میں تشویشناک طور پر 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ رپورٹ انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (IMS) کے تعاون سے تیار کی گئی اور 2 نومبر 2025 کو منائے جانے والے “صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا سے استثنا کے خاتمے کے عالمی دن” سے قبل جاری کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2024 سے ستمبر 2025 کے دوران صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف 142 واقعات دستاویزی شکل میں رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف نفرت انگیزی میں واضح اضافہ ہوا، جس کے باعث ملک کے تقریباً تمام خطے صحافت کے لیے غیر محفوظ بنتے چلے گئے۔ موجودہ وفاقی حکومت کے پہلے سال کے دوران صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف پیکا قانون کے تحت 36 مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے 22 پیکا اور 14 پاکستان پینل کوڈ کے تحت تھے، جبکہ بعض صحافیوں کو ایک سے زائد مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 2025 کے اوائل میں پیکا قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد صحافیوں کے خلاف سزاؤں سے متعلق دفعات مزید سخت کر دی گئیں، جس پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
نومبر کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اور اسلام آباد صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک علاقے قرار پائے، جہاں 28 فیصد خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔ اس کے بعد خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کا نمبر آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نشانہ الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافی بنے، اس کے بعد پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا، جبکہ ایک ریڈیو صحافی کے متاثر ہونے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔