Type to search

حقوقِ نسواں عوام کی آواز معاشرہ

بچپن کا نکاح، ناجانے کتنی خواتین کی زندگیاں تباہ

بطور معاشرہ نہ ہم ایسے موضوعات پر بات کرتے ہیں، اور نا ہی اس پر بحث کی پسماندہ معاشروں میں اجازت ہوتی ہے۔ لیکن ایسی فرسودہ رسم کا خاتمہ کرنا بہت ضروری ہے جو آج کے جدید دور میں بھی زندہ ہے۔ اور یہ رسم عام طور دیہاتوں میں عام سی بات تصور کی جاتی ہے۔ میں نے اس رسم (بچپن کا نکاح، ونی اور ایوزا) سے مثاثرہ بہت ساری خواتین سے رجوع کیا مگر انہوں نے اس حوالے سے بات کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ شائد ان میں اتنی ہمت نہیں تھی یا پھر اپنا نام ظاہر ہونے کے خوف سے۔

تاہم ایک چالیس سالہ خاتون اور دوسری ایک نوجوان لڑکی نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس موضوع سے متعلق اپنی اپنی کہانی سنائی۔ ریحانہ بی بی (فرضی نام) نے سکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا، البتہ مقامی مسجد کے مولوی سے قرآن کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ جوان ہوتے ہی پردے کی وجہ سے چاردیواری میں بند کر دی گئی۔ ان کی عمر تقریباً 24 سال ہے اور ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے ایک گاؤں سے ہے۔ ریحانہ بی بی کہتی ہیں کہ میرے پیدا ہوتے ہی والدین نے میرا نکاح ایک کزن کے ساتھ کر دیا تھا، اور یہ اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ میرے بھائی نے میرے ہونے والے شوہر کی بہن کے ساتھ شادی کی تھی جس کا ایوزا (بدلہ) مجھے بنایا گیا۔ بچپن سے ہی مجھے یہ سننے کو ملا کہ آپ بہت خوش نصیب ہیں جو بھائی کے ایوزے (بدلے) میں فلاں کی منگیتر ہیں، بہنیں بھائی پر قربان مگر یہ قربانی تو میری بدقسمتی بن گئی۔ اور وہ یوں کہ میری بھابھی کا شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد انتقال ہو گیا۔ اس واقعے نے ہمارے خاندانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کر دی۔ لیکن، باوجود اس سب کے مجھے رشتہ سے اعتراض نہیں تھا کیونکہ میرے پاس اب کوئی اور راستہ ہی نہیں تھا۔ مرتی کیا نا کرتی۔ سوچا کے اب ہمارے خاندانوں میں نفرت کی آگ ختم کرنے کا واحد ذریعہ میں ہی ہوں کیونکہ جب میری شادی ہو جائے گی تو معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ پر یہ میری خام خیالی نکلی، لڑکے والے بار بار میرے والدین کے پاس رشتہ مانگنے آئے مگر انہیں انکار کر دیا گیا تو پھر انہوں نے بھی اس ضد میں میرے منگیتر کی شادی دوسری جگہ طے کر دی اور وہ اب تین بچوں کے باپ ہیں۔ لیکن، میں ایک بانجھ کی طرح منگیتر کے روپ میں نکاح کے ایندھن میں کنواری جلنا شروع ہو گئی۔ اب میرے رشتے کیلئے بھلا کون اور کیوں آتا کیونکہ سب گاؤں والوں کو تو پتا تھا کے میں کسی کے نکاح میں ہوں۔ عدالت سے خلا بھی مل جائے تو تب بھی میرا رشتہ نہیں ہو گا کیوں کہ کچھ لوگوں نے بابا کو کہا کہ تم لڑکا والوں سے صلح کے ذریعے بیٹی کو طلاق دلوا دو۔ پھر ہم آپ کی بیٹی کا رشتہ لے لیں گے لیکن بابا لڑکے والوں کے پاس چل کر جانے کو تیار نہیں اور وہ ایسے طلاق دینے کو راضی نہیں۔ اب بس ہر روز دعا کرتی ہوں کہ میری ابھی اس مسئلہ سے جان چھوٹ جائے، ورنہ ساری عمر کنواری گزر جائے گی۔

بختو مائی (فرضی نام) بالکل ان پڑھ ہے اور ان کی عمر تقریباً چالیس سال سے زائد ہے۔ ان کا تعلق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک گاؤں سے ہے۔ اور یہ بھی کم و بیش 20 سال سے جس شخص کے نکاح میں ہیں اس نے دوسری جگہ شادی کر لی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ میرے بھائی قاسم (فرضی نام) کی پڑوسن لڑکی میرو بی بی کے ساتھ معاشقہ تھا جس کا لڑکی کے گھر والوں کو پتہ چل گیا۔ یہ بات جانی دشمنی تک پہنچ گئی تو پھر بالآخر گاؤں کے وڈیروں نے اس مسئلہ کو ختم کرنے کیلئے دونوں فریقین کے درمیان ایک صلح نامہ کرایا، جس کے تحت بھائی کے گناہ کی سزا پر بطور ونی میرو بی بی کے بھائی کیساتھ میرا نکاح کر دیا گیا۔ سب گھر والے خوش ہو گئے کہ اب ہماری دشمنی ختم ہو گئی، میں بھی خوش ہوئی کہ بہتر ہوا میری قربانی نے بھائی کی جان بچا لی۔ مگر آگے جو ہوا وہ میری سوچ میں بھی نہیں تھا۔

بختو مائی نے بتایا کہ میرے دماغ میں ہمیشہ ایک سوال آتا کہ شادی کے بعد لوگ طعنے دیں گے کے تم بھائی کی گندی حرکت کے بدلے ونی دی گئی۔ مگر یہ تو گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ بدلہ ساری زندگی نکاح ہونے کے باوجود بھی کنوارے پن میں گزارنا پڑے گا۔ میرے خاندان والے ان کے پاس گئے کہ اول تو شادی کر لیں یا پھر طلاق دے دیں مگر انہوں نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ تم نے ہماری عزت خراب کی تھی مگر اب تمہارے لئے ساری زندگی کیلئے یہی بےعزتی کافی ہے۔ بس پھر میں نے بھی صبر شکر کر لیا۔ اپنا گھر نہیں اس لیے بھائیوں کے ساتھ رہتی ہوں۔ اور ان کے مال مویشی کو چارہ ڈالنے سمیت مختلف گھریلو کام کرتی ہوں جو دیہاتی عورت کی زندگی کا عام معمول ہے۔

اگر قارئین کے دماغ میں سوال آ رہا ہے کہ یہ تو کوئی دو دہائی پہلے کی بات ہے، لیکن یہ سب آج بھی زندہ ہیں۔ گذشتہ دنوں کی بات ہے جب گاؤں سے بھائی نے فون کیا کہ ہمارے اپنے قریبی رشتہ دار ایک چند ماہ کی بچی کا دوسرے معصوم بچے کیساتھ نکاح کر رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی مجھ پر جیسے کپکپی سی طاری ہو گئی۔ فوراً گاؤں کا رخ کیا، عین وقت پر اس جاہلانہ رسم کو ہونے سے روک لیا اور انہیں بتایا کہ یہ کسی بھی لحاظ سے صحیح نہیں کیونکہ ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود تھیں۔ جن بچیوں کے بچپن میں نکاح کیے گئے تھے، ان کے ساتھ آج تک کسی نے شادی نہیں کی، کیونکہ وہ دوسرے مرد کے نکاح میں ونی یا ایوزا وغیرہ کی شکل میں پابند ہیں۔ جو قانونی و شرعی لحاظ سے بالکل ناجائز ہے۔ اس حوالے سے اسلامی تعلیمات واضح ہیں لیکن مقامی مولوی گاؤں کے سادہ لوح ان پڑھ لوگوں کو ان مسائل سے آگاہ نہیں کرتے تاکہ ان کا دھندہ پانی چلتا رہے۔

دوسری جانب 2018 میں چائلڈ میرج ایکٹ کے نام سے جو بل پاس ہوا اس میں تو 18 سال سے کم لڑکی لڑکے کی شادی بارے وضاحت کی گئی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گاؤں کے لوگ 12 سال والے بچوں کی بھی شادی کر دیتے ہیں اور ایسے کہ وہ نادرا کو 12 سال والے کو 18 سال کا ثابت کر کے شادی کر دیتے ہیں۔ یوں وہ کسی بھی قانونی کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔ 2018 میں بنائے گئے چائلڈ ایکٹ میں دوبارہ ترمیم کے ذریعے مزید وضاحت کی جانے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ 18 سال (صحیح عمر) سے قبل ناصرف کسی بھی لڑکے لڑکی کی شادی ممکن ہو بلکہ نکاح اور مگنی پر بھی مکمل پابندی لگائی جائے۔

دریں اثنا بچوں کی پیدائش پر نادرا میں تاریخ پیدائش کا اندراج لازمی قرار دیا جائے، جس سے ہر بچے بچی کی عمر کا درست تعین واضح ہوسکے۔ تب جا کر کہیں ہم چائلڈ میرج ایکٹ سے مکمل طور پر مستفید ہوسکیں گے۔ دوسری صورت میں بچپن کا نکاح نا جانے کب تک اور کتنی خواتین کی زندگیاں تباہ کرتا رہے گا۔ کیونکہ مرد تو دوسری تیسری اور چوتھی شادی بھی کر لیتا ہے لیکن اس چکی میں صرف معصوم خواتین پستی ہیں اور دیہاتی خواتین تو اپنی زندگی اور عزت کے ڈر سے اس ظلم کیخلاف بول تک بھی نہیں سکتی۔ لہذا حکومت سے استدعا ہے کہ اس بارے سخت سے سخت قانون سازی کرے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *