Type to search

تجزیہ

کرونا وائرس اور پاکستانیوں کی ’مسلمانیاں‘

بہت ہی افسوس کا مقام ہے۔ سب مسلمانوں کی بات تو نہیں کرونگا البتہ پاکستان والوں کی ضرور کرونگا۔ ہم پاکستانی، لوگوں سے پکا مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ تو ضرور مانگ لیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسلمان ہونے کے سرٹیفیکیٹ ضروری ہیں؟ یا مسلمان کو انسان بننا ضروری ہے۔ جب تک ہم انسان نہیں بن سکتے تو اس وقت تک صرف برائے نام مسلمان ہوں گے۔
 
ہمارے مسلمان ہونے کا ایک ٹیسٹ کورونا وائرس نے ہم سے لے لیا اور اس ٹیسٹ کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں جس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کتنے مسلمان ہیں اور ہم اندر سے کتنے انسان ہیں۔
 
انسان ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ایک ایسی مخلوق جو دنیا میں پائی جانے والی دیگر تمام تر انواع حیات سے برتر دماغ رکھتی ہو۔ لیکن کرونا وائرس کو لے کر پاکستانیوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ دیگر قوموں کے انسانوں سے زیادہ عقل مند ہیں۔ جب بھی دنیا میں کوئی بھی وباء، وائرس چاہیے کوئی بھی مصیبت دنیا کے انسانوں پر آجائے یہ دماغ کا تھوڑا سا استعمال کرکے اس وبا اور مصیبت کو ختم کریں نہ کریں اس مصیبت کے مارے لوگوں کو ختم کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔
کورونا وائرس کی مثال لے لیں ۔ اس نے دنیا بھر میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ دنیا کے تمام بڑے ڈاکٹرز سر جوڑ کر بیٹھ گئے وائرس کو کنڑول کرنے کے لئے ویکسین بنانے پر کام جاری ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی کامیابی نہیں ہو سکی۔
لیکن جب کورونا وائرس نے پاکستان میں سر اٹھانے کی ہمت کی تو دیکھیئے کہ کس جواں مردی سے پاکستانی کاروباری حضرات یکجا ہو کر کورونا وائرس کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے مصروف عمل ہوگئے۔
 
میڈیا اطلاعات کے مطابق پاکستانی کاروباری حضرات نے کرونا کے خلاف جنگ میں سب سے پہلے ماسک کی قیمت پر توجہ دی جس سے مارکیٹ میں ماسک کی عام قیمت پانچ، دس روپے سے بڑھ کر سو سے دو سو روپے تک جا پہنچی۔ لیکن یہی ایک فیصلہ کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لئے کافی نہیں تھا اور پاکستانی تاجر برادری نے بھی کوئی کمی نہ کی ۔بس اگلے مرحلے میں مارکیٹ سے ماسک کے سٹاک کو بھی غائب شروع کردیئے تاکہ یہ ماسک سنگین حالات میں مہنگے داموں فروخت کیے جاسکیں۔ یوں کرونا وائرس کے مریض باقی نہ بچیں گے۔ نہ ہوں گے مریض اور نہ پھیلے گا کرونا۔
ساتھ ہی ساتھ اپنی مسلمانی کا پکا ثبوت دنیا کے سامنے رکھ دیا جائے گا کہ دیکھئے ایسے ہوتے ہیں مسلمان اور انکی اپنے بھائیوں کے لئے مدد! ۔ لیکن اب بھی کچھ کم مسلمان ہیں جو اپنے کرونا سے متاثرہ مریض بہن بھائیوں کی مدد میں سامنے آئے ہیں اور سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے ماسک بنانے کے طریقے سکھائے ہیں جس سے وہ اپنے تاجر بھائیوں کی ذخیرہ اندوزیوں سے بچ سکیں گے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوشل میڈیا والا طریقہ اپنانا چاہیے اور ایک ٹشو پیپر اور ایک چھوٹے سا باریک ربڑ سے بڑے آسانی اور کم وقت میں ایک ماسک بنایا جاسکتا ہے۔ جس پر زیادہ سے زیادہ خرچہ فی ماسک ایک روپیہ آئے گا۔ جبکہ ماسک کی ذخیرہ اندوزی کے حوصلہ شکنی کا یہ آسان طریقہ ہے۔
آخر میں بطور مسلمان میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہمیں اپنے احوال پر نظر ثانی کرنا ہوگی ۔ اگر ہم مصیبت کے وقت اپنے منافع بڑھانے کے لئے نت نئی ترکیبیں سوچ سکتے ہیں تو ہم اس قابل بھی ہیں کہ اس کا حل نکال کر دنیا کو اس سے نجات دلائیں اور اپنے دین اور ملک کا نام روشن کریں ۔
Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *