Type to search

انسانی حقوق خبریں خواتین قومی

انسانی حقوق کی وکیل اور کارکن جلیلہ حیدر کیلئے امریکی ایوارڈ کا اعلان

  • 249
    Shares

امریکہ کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن جلیلہ حیدر سمیت دنیا بھر سے 12 خواتین کو سالانہ انٹرنیشنل ویمن کوریج ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

سٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان کے علاوہ افغانستان، ارمینیا، آذربائیجان، بولیویا، برکینا فاسو، چین، ملائیشیا، نیکارا گوا، شام، یمن اور زمبابوے سے غیرمعمولی خدمات انجام دینے والی خواتین کو ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو 12 غیر معمولی خواتین کو سٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں ایوارڈ سے نوازیں گے، جہاں خاتون اول میلانیا ٹرمپ مذکورہ خواتین سے ان کی خدمات کے اعتراف میں خطاب بھی کریں گی۔

سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق سیکریٹری آف سٹیٹ کی جانب سے دنیا بھر میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والی خواتین کے اعزا میں سالانہ ایوارڈ دیا جاتا ہے اور رواں برس اس روایت کو 14 سال ہوجائیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سیکریٹری سٹیٹ کی جانب سے امن، انصاف، انسانی حقوق، صںفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے اور دیگر خدمات پر یہ ایوارڈ دیا جاتا ہے۔

جلیلہ حیدر کو ایوارڈ کیوں دیا جا رہا ہے؟

جلیلہ حیدر پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی معروف وکیل اور کارکن ہیں۔ اور دنیا بھر میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والی 12 خواتین میں شامل ہیں۔

امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ کے ایوارڈ کے لیے جلیلہ حیدر کو انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے پر نامزد کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جلیلہ حیدر نے ‘وی دا ہیومنز- پاکستان’ کی بنیاد رکھی جو مقامی برادریوں، بچوں اور خواتین کو مواقع پیدا کرنے کے لیے کام کرنے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے۔

سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ جلیلہ حیدر غربت سے متاثرہ خواتین کو مفت قانونی معاونت فراہم کرتی ہیں اور ہزار برادری سے تعلق رکھنے والی پہلی وکیل ہیں اور انہوں نے اپنی برادری کے افراد پر ہدفی حملوں کے خلاف مہم چلائی اور بھوک ہڑتال کی قیادت کی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جلیلہ نے ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ بلوچستان کی صدر اور بلوچستان میں عورت مارچ کی شاخ کی صدر کی حیثیت سے عوامی مقامات، کام کی جگہ اور گھروں میں خواتین پر تشدد کے خلاف بھی کام کیا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *