Type to search

بلاگ بین الاقوامی سیاست تجزیہ

بین الافغان مذاکرات: ایسی خانہ جنگی ہو گی کہ تاریخ دانوں کے لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپیں گے

نائن الیون (9/11) کے بعد افغانستان میں دو دہائیوں تک خون کی ہولی کھیلنے کے بعد امریکہ اس بات پر آمادہ ہو گیا کہ وہ اپنی فوج کا انخلا افغانستان سے کرے گا۔ یہ خونریزی کا کھیل افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور طالبان قیدیوں کی رہائی پر تمام ہوا۔ معاہدہ ہوتے ہی امید کی نئی کرن نظر آنے لگی اور اگلے ہی روز افغانی کرنسی کی قدر میں ۳ روپے اضافہ ہوا۔ گویا ایک نئی زندگی کی شروعات ہونے کو ہے۔ موت اور زندگی کے اس کھیل میں ہزاروں بچے یتیم جب کہ ہزاروں ماؤں کے گھر اُجڑ گئے۔

معاہدہ کی شرائط بخوشی تمام سٹیک ہولڈرز یعنی طالبان، افغان حکومت کے اتحادیوں، بشمول عبداللّٰہ اور طالبان کے بارے سخت ردعمل رکھنے والے شمال کے بے تاج بادشاہ دوستم کے، سب نے یک زباں اور یک جاں ہو کر مان لیے۔ ان کے ماننے نہ ماننے سے فرق نہ پڑتا تھا کیونکہ امن عمل لانا اب کی بار ٹرمپ سرکار کا الیکشن نعرہ ہیں اور یہ اس نے بزور بازو یا بہ لہجہ شیریں کرنا تھا اور کر لیا۔

ٹرمپ کے پاس اس الیکشن میں اس سے زیادہ اور کچھ نہ تھا اور نہ بہتر مل پائے گا۔ اس نے اپنے پتے کھیل لیے اور اس میں وہ کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ مگر اصل امتحان مندرجہ بالا قوتوں اور افغان حکومت کا ہے۔ عین اس وقت جب اقتدار کی جنگ میں ملک کی تین بڑی قوتیں آپس میں دست و گریباں ہیں، اندرونی مذاکرات ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ان تمام قوتوں کو افغانستان کی سالمیت کے لئے ایک دوسرے کی طرف تھوڑا نہیں بلکہ بہت جھکاؤ کرنا پڑے گا۔

معاہدے کی پہلی خلاف ورزی معاہدہ طے پانے کے دوسرے روز ہی ہوئی جس کا خدشہ تاریخ دانوں اور ماہرین کو تھا۔ تاریخ نے اپنے اوراق پلٹائے اور سوؤیت یونین کے انخلا کے بعد جن قوتوں نے افغانستان میں خون کی ہولی کھیلی وہ پھر سے متحرک ہو گئیں اور مسلمان افغان افواج کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ اگر یہ معاہدہ جس میں امریکہ بظاہر جاں خلاصی کروا رہا ہے، ناکام رہا تو دنیا روس کے انخلا کے بعد ہونے والی خونریزی کو بانگاہ قدر دیکھی گی۔

اب کی بار خدا نخواستہ ایسی خانہ جنگی ہوگی کہ تاریخ دانوں کے لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپنے لگیں گے۔ یہ آگ صرف افغانستان تک نہیں بلکہ یہ ایک بار پھر ہمسایہ ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے گی اور ڈیورنڈ لائن کےاطراف پر یہ وہ تباہی مچائے گی کہ بُجھانے کے لئے 33 ارب ڈالر ایک ڈکار میں ہضم ہو جائیں گے۔

لیکن دنیا اُمید پر قائم ہے اور خدائے واحد سے یہی اُمید ہے کہ چار دہائیوں سے جنگ زدہ اور بارودی فضا میں امن کے پرندے چہچہائیں اور عام باشندے سُکھ کا سانس لیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *