Type to search

تعلیم عوام کی آواز معاشرہ

بچے جو بولتے ہیں انہیں بولنے دیجیے

سب بچے پیارے، شرارتی اور معصوم ہوتے ہیں۔ کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنستے ہیں تو کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر روتے بھی ہیں۔ بچوں کی یہی عادتیں مجھے پسند ہیں۔ بعض اوقات بچے ایسی ایسی باتیں کر جاتے ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہیں۔ اگر بڑا تعلیم یافتہ ہو یا بڑے کا commonsense اچھی طرح سے کام کرتا ہو تو پھر وہ ہر بچے کے الفاظ کو غور سے سنتا ہے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں اگر بچوں کی باتیں درمیان میں کاٹی جائیں تو پھر بچے کسی بڑے کے سامنے بات کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر بچے ایک دفعہ کسی اپنے یا اجنبی سے ڈر جائیں تو پھر ہمیشہ کے لئے ہی ڈر جاتے ہیں۔ آپ لاکھ کوششیں کر لیں پھر بچے نارمل حالت میں آسانی سے نہیں آتے ہیں۔ ویسے تو بہت سے بچوں کی بڑی بڑی باتیں، مذاق اور کئی طرح کی اور عادتیں ہر کسی کو دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں، بعض باتیں بچوں کی اتنی قیمتی ہوتی ہیں جو میرے خیال سے اگر لکھاری کو سننے کو ملیں تو لکھاری کاغذ کی جگہ پتھر پر محفوظ کر لے۔

میں جب کسی موضوع پر لکھتا ہوں تو سب سے پہلے میں کوشش کرتا ہوں کہ اس موضوع کے بارے میں اپنے ذہن میں کچھ ایسے واقعات، باتیں، عادتیں، مکالمے، کتابوں کی باتیں، ڈراموں اور فلموں کے سکرپٹ، اور اس طرح اور ہی چیزیں اگر میرے ذہن کے کسی کونے میں مجھے مل جائیں تو وہ سب کچھ اپنے ذہن کے ایک کونے میں اکٹھا کر لیتا ہوں۔ تاکہ پھر میں آسانی کے ساتھ اس موضوع پر لکھ سکوں۔

جب میں نے بچوں کے موضوع پر لکھنے کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے مجھے "میرے ابو اور میری بھانجی” کا دلچسپ مکالمہ یاد آیا۔ یہ مکالمہ چند ہی مہینوں قبل کا ہے۔ میری بھانجی (ایمن وفا) جو تقریباً اس وقت پانچ، چھ سال کی ہو گئی ہے۔ ایک دفعہ ہم سارے گھر والے ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے۔ باتوں باتوں میں میرے ابو اور میری ننھی سی بھانجی کے درمیان کسی بات یا کام پر تھوڑی سی تلخ کلامی شروع ہوئی۔ جو تھوڑی ہی دیر بعد ایک دلچسپ مکالمے کی شکل اختیار کر گئی۔ میرے ابو نے میری بھانجی سے کہا؟ ہاہا مجھے پتہ ہے۔ آپ سکول کے وقت اپنی کلاس کی صفائی کرتی ہو ناں! تو اس کا جواب میری بھانجی نے فوراً دیا۔ اس کا جواب کچھ اس انداز میں تھا "ارے ارے ابو کو تو یہ بھی پتہ نہیں کہ سکول میں کلاس کی صفائی کون کرتا ہے”۔ تو میرے ابو نے پھر کہا ہاں مجھے پتہ ہے آپ کرتی ہو ناں! تو میری بھانجی نے جواب دیا کہ نہیں میں کلاس کی صفائی نہیں کرتی ہوں، جب ہم کلاس میں پہنچتے ہیں تو اس سے پہلے ہمارے سکول کی خالہ ہماری کلاس کی صفائی کرچکی ہوتی ہیں۔

کلاس کی صفائی پر میرے ابو اور میری بھانجی کے درمیان یہ مکالمہ تقریبا چھ، سات منٹوں تک جاری رہا۔ میرے ابو بار بار میری بھانجی سے کہتے رہے کہ آپ ہی سکول میں کلاس کی صفائی کرتی ہو۔ میری بھانجی ہر بار غصے کے ساتھ روتی ہوئی جواب دیتی۔ ہم گھر والے ان کے درمیان ہونے والے مکالمے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اگر میرے ابو میری بھانجی سے کہتے کہ بس کرو اتنی باتیں مت کیا کرو یا ان سے یہ کہتے کہ بچے اتنی باتیں نہیں کیا کرتے۔ تو مجھے یقین تھا کہ وہ خاموش ہو جاتی لیکن ہمیں اس کے Mind level کا پتہ نہیں چل سکتا تھا۔ اس لئے بچے جو بولتے ہیں انہے بولنے دیجیے۔ کبھی ان سے مت کہیں اپنی عمر سے بڑی بڑی باتیں مت کیا کریں۔ بچوں کے ذہن "فرش” ہوتے ہیں۔ ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اکثر اوقات ہم بڑوں سے زیادہ ہوتی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *