Type to search

تجزیہ

میں نے کل عورت مارچ میں کیا دیکھا

عورت مارچ شاید حالیہ تاریخ میں  پاکستان کا سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والا موضوع ہے۔ اس حوالے سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان میں آپ عورت مارچ کی مخالفت کر سکتے ہیں یا حمایت مگر اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ایک طرف حمایتیوں کی صف بندی تو دوسری جانب کٹر مخالفین۔ جنہیں عورت مارچ کے تحت ہونے والی ہر سر گرمی اور اس سے جڑی ہر شخصیت سے نفرت ہے جس کا اظہار کرنے سے وہ قطعاً پیچھے نہیں رہتے۔ بہر حال میں بھی گذشتہ روز تاریخی عورت مارچ میں شامل ہونے اور اس تاریخی سرگرمی کا مشاہدہ کرنے کی ٹھانی۔

چائنہ چوک کے راستے مال روڈ پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ احتجاج کے مقام کو جانے والے مال روڈ سے ملحقہ راستے مکمل طور پر کنٹینر رکھ کر بند کر دیئے گئے ہیں۔ پولیس کی بھاری نفری یہاں تعینات تھی۔ الحمرا میں سرکار کی زیر پرستی خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے”مینابازارٹائپ”تقریب جاری تھی جس تک آنے جانے کی کھلی اجازت تھی۔ پولیس سے پارکنگ کی جگہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ جب ان سے استفسار کیا کہ آیا پیدل یہاں سے (ایجرٹن روڈ)  مارچ پر جانے کی اجازت ہوگی؟ جس پر وہاں موجود ہر پولیس ایلکار سے اثبات میں سر ہلایا۔ بہر حال الحمرا کی پارکنگ میں ہی ایک جگہ پر گاڑی”اڑائی”اور واپس آکر جب پارکنگ سے ملحقہ اسی اینٹری پوائنٹ پر واپس لوٹا تو پولیس اہلکار جنہوں نے کچھ دیر قبل وہاں سے پیدل گزرنے کے حوالے سے  اجازت دی تھی پوچھنے لگے ، کہ کہاں جائیں گے ؟ جواباً کہا کہ عورت مارچ ، سوال آیا کہ کوریج کرنی ہے؟ عرض کیا کہ نہیں،شرکت کروں گا۔  ساتھ ہی مجھے وہاں سے جانے کا کہہ دیا گیا۔ بحث کو فضول گردانتے ہوئے میں نے پیدل ہی گورنر ہاوس کے عقب سے ڈیویس روڈ سے ہوتے ہوئے پریس کلب کے مقام پر سے اندر جانے کی ٹھانی۔

 2 سے 3 کلومیٹر کے اس راستے میں کئی مرد و خواتین پلے کارڈز اٹھائے  مارچ میں شمولیت کے لئے رواں دواں تھے۔  ایک فیملی کے قریب سے گزرا تو میں نے 14،15 سال کی  بیٹی اور اسکی ماں ک سوشل کنسٹرکشن آف جینڈر پر بحثتے ہوئے سنا۔ آگے نکلا تو ایک نوجوان جوڑا شرعی حقوق اور مارچ کے مطالبات میں مطابقت پر مصروف بحث تھے۔ گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا ساتھ ہی سگریٹ کی طلب بھی تھی۔ ڈیویس روڈ مکمل طور پر بلاک تھی ۔ دور دور تک گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں۔ جنگ کے دفتر کے پاس پرانی پان شاپ سے سگریٹ اور کولڈ ڈرنک لینے رکا۔ اتنے میں وہاں کھڑے دو مزدور سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے عورت مارچ پر ہی تبصرہ کرتے سنائی دیئے۔ دونوں میں ادھیڑ عمر مذاق کرتے ہوئے کہنے لگا ” بیبیاں شڑکاں تے نکل آئیاں نے۔ سب پھڑے جان گے، سب پھڑے جان گے” جوابا بھاری سی گالی نے بحث کو جیتنے یا کم از کم ختم کرنے کی کوشش کی۔ 

میں آگے بڑھا۔ مارچ کے وقت کو آدھا وقت گزر چکا تھا اور اکا دکا فیمیلز واپس بھی آرہی تھیں، چھوٹی بچیوں کو میں نے بے حد پرجوش دیکھا۔ انکے چہروں پر اک چمک تھی جو انکی معصومیت اور خوبصورتی میں مزید اضافہ کئے ہوئے تھی۔ اچھی بات یہ تھی کہ انکے ساتھ انکے بھائی بھی اتنے ہی خوش اور پر جوش تھے۔

مارچ میں پہنچا تو اکثر میڈیا نمائندے مارچ سے دور بیٹھے مارچ کے ہر نعرے میں سے قابل اعتراض زاویئوں کو اکھٹا کرنے میں مصروف تھے۔ ایک معروف میڈیا ہاوس کے نمائندے جو کہ میرے ساتھ کام کر چکے ہیں مجھے دیکھ کر فرمانے لگے ، یار وہ میرا سٹیٹس نہ دیکھنا!میں نے کہا کیوں ؟ کہنے لگے وہ اس سب اسکے خلاف ہے تم پر گراں گزرے گا” میں نے ہنس کر جواب دیا کہ حضور کوئی رپورٹنگ کی ہے یا پھر بس اپنی نفرت کا ہی اظہار کیا ہے؟ وہ اس پر مصر رہے کہ انکی رپورٹنگ اور رائے الگ ہے۔ اتنے میں ایک دوست خاتون صحافی سےملاقات ہوئی۔ پوچھنے لگیں تمہاری اس سب کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا کس کے بارے میں ۔ جھنجھلا کر کہنے لگیں یہی عورت مارچ ۔ میں نے کہا کہ ہونا چاہئے مکمل حمایت ہے اس کے ساتھ ۔ کہنے لگیں لیکن میرا جسم میری مرضی؟ میں نے جھٹ کہا تو کیا آپ کے جسم پر میری مرضی چلے گی؟ وہ بے دھڑک اور کڑک انداز میں بولیں نہیں! میں نے کہا پھر کس کی؟ کہنے لگیں میری! انہیں عرض کی کہ وہ نعرہ آپکے اسی قول و فعل کا مظہر ہے۔

ابھی بات جاری تھی کہ سٹیج پر ڈاکٹر عالیہ حیدر کا خطاب شروع ہوا۔ انہوں نے جب جبری گمشدہ کردی جانے والی خواتین پر بات شروع کی تو وہاں موجود مارچ کے مخالفین بھی ان سے متفق تھے۔ ابھی تقریر جاری تھی کہ عقب سے کسی نے پکارا مڑ کر دیکھا تو یونیورسٹی کے دو جونئیرز تھے جن سے 5 سال بعد ملاقات ہو رہی تھی۔ مجھ سے مارچ میں آنے کی وجہ دریافت کی تو عرض کی کہ حضور خواتین کے حق میں انکے ساتھ ہیں اس لئے۔ کہنے لگے ہم اس لئے آئے کہ ایک دوست سے بحث ہوئی تھی۔  اس وقت تو ہم مارچ کے مخالف جواب نہیں دے سکے تاہم اب دیکھنے آئے ہیں کہ اصل میں مارچ میں ہوتا کیاہے۔

کئی اور دوستوں سے ملاقات کے دوران ہی  زبرد ست پرفارمنسز دیکھیں۔ اور پھر فیض کی لازوال نظم "ہم دیکھیں گے” پڑھی گئی۔ مارچ میں شریک ہر عور اور مرد اس نظم کے ساتھ یوں جڑا کہ ہر طرف سے ہم دیکھیں گے کی گونج سنائی دینے لگی،  ناقابل بیان تجرنے کے ساتھ ہی  مارچ اختتام پذیر ہوا۔

دن ڈھل رہا تھا اور شرکا پنڈال سے واپس نکل رہے تھے۔ لیکن یہ سب اختتام پذیر نہیں ہوا تھا۔ وہاں سے نکلنے والے ہر فرد کا موضوع بحث صنفی تفریق تھا۔  خاص کر نواجوان نسل، جو کسی گروپ میں تو عورت مارچ کے انعقاد اور اس میں ہونے والی سرگرمیوں کو ریٹ کر رہے تھے تو دوسری جانب وہ صنف کے معاشرتی پہلووں پر بات کر رہے تھے جبکہ دیگر مارچ کے ساتھ نچلے طبقات کی ہم آہنگی اور تعلق پر اظہار خیال کر رہے تھے۔

واپسی پر جیل روڈ کے پٹرول پمپ پر پٹرول بھروانےرکا تو میری گاڑی کے برابر آکر گاڑی سے پیچھے کھڑے رکشے کا ڈرائیور اور پمپ کا کیشئیر بھی معاشی پہلو سے "مائیاں دے احتجاج” یعنی عورت مارچ پر بات کرنے میں مصروف دیکھے۔ رکشے والے کا اصرار تھا کہ پیٹرول جلدی ڈال دیا جائے  کیونکہ "مائیاں دا مارچ مک گیا اے تے سواریاں لینیاں نے”۔ اور اسکے بعد ایک بے زار سا تبصرہ تھا۔ اتوار کے روز لاہور کی سڑکوں سے بہتر اور پرسکون وقت گزاری کہیں اور نہیں ہوسکتی۔ پیٹرول پمپ سے نکل کر جب نہر پر آیا تو یہی سوچ رہا تھا کہ عورت مارچ کے مخالفین نے جو بن پڑا کر لیا۔ مگر عورت مارچ اور عورتوں کے حقوق کی بحث ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی لپیٹ میں لیئے ہوئے۔ اور جب معاشرے میں اتنے بڑے پیمانے پر کسی معاملے پر بحث شروع ہوجائے تو اس معاشرے میں  بڑھوتی، نکھار اور ترقی لازم ہوجاتی ہے۔ 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *