Type to search

عوام کی آواز

بہا غریب کا خون تو شہادتیں نہ ملیں

یہ غالباً 2017 کی نومبر کی بات ہے۔ مجھے ایک انجان نمبر سے کال آئی۔ میں نے رسیو کی تو نوجوان نے اپنا تعارف کچھ یوں کرایا کہ میرا نام مسفر جمال ہے، مفتی شوکت اللہ خٹک کا بھانجا ہوں۔ مفتی صاحب کا ایک حلقہ ہے۔ بہت کم لوگ ہی ایسے ہوں گے جو انہیں نہیں جانتے۔ میں گھر سے دفتر کے لئے نکل رہا تھا سو میں نے ان سے کہا کہ آپ پارلیمنٹ ہاؤس آ جائیں، وہیں ملتے ہیں۔

یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔ جماعتی امور پہ ہماری مختصر نشست رہی اور پھر جمعہ کے بعد ہم دونوں دفتر سے باہر نکلے۔ رخصت ہوتے ہوئے وٹس ایپ نمبر کے تبادلے ہوئے اور میں بائیک پہ لاجز کے گیٹ پہ پہنچا ہی تھا کہ مجھے اسلام آباد پریس کلب کے سینیئر صحافی احمد نواز کی کال آئی۔ علیک سلیک کے بعد انہوں نے کہا کہ بھائی جان کہاں ہیں۔ میں نے کہا لاجز ہوں تو انہوں نے کہا کہ نوابزادہ نصراللہ خان کی یاد میں پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس ہے، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے آنا ہے، آپ اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ساتھ آ جائیں۔

پروگرام کے اختتام پہ ایک مرتبہ پھر ہم دونوں پریس کلب سے نکل کر ایک دوسرے سے رخصت ہوئے۔

اس کے بعد وٹس ایپ مسنجر پہ رابطہ رہتا تھا۔ کبھی کسی مزاحیہ ویڈیو کا لنک ہمیں بھیجتا تو کبھی ہم شعر وشاعری ان کو بھیجتے رہتے تھے۔ سال اور مہینے گزرتے گئے اور اس دوران وہ جب بھی اسلام آباد آتے تو ملاقات کر کے ہی جاتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ان کو مزید تعلیم کے لئے اسلام آباد آنا پڑا۔ اسلام آباد کی اقراء یونیورسٹی میں انہوں نے ایڈمیشن لیا۔

اکثر شام کے وقت میں، مسفر اور 24 نیوز کے صحافی دوست عثمان خان کوئٹہ ہوٹل پہ ملتے تھے۔ طنز ومزاح اور دیگر موضوعات سے بھر پور مجلس ہوتی تھی۔ کبھی ہم ان کو اپنے پاس روک لیتے تھے تو کبھی کلاسز کی وجہ سے وہ ساتھ نہیں آ پاتے تھے۔ جماعتی امور پہ کم عمری میں ہی ان کو دسترس حاصل تھی، خاص کر ٹوئٹر پہ وہ ہمیشہ ہمیں سمجھاتے رہتے تھے۔

ہمیں کیا پتہ تھا کہ اس ہیرے کے ہمارے پاس کچھ مہینے اور ہفتے ہی رہتے ہیں۔ وہ اپنے خلوص میں یکتا تھے۔

کچھ خواب تھے ان کے جو وہ پورا کرنا چاہتے تھے، کچھ کر دکھانا چاہتے تھے۔ مگر اللہ پاک نے اس جماعت کے لئے ان سے جتنا کام لینا تھا، لے لیا، اور ان کو اپنے پاس بلا لیا۔

یہ ہفتے کا دن تھا۔ صبح 11 بجے مولانا فیض محمد صاحب کو ائرپورٹ چھوڑ کر آیا تو لمبی تان کر سو گیا، اس خیال سے کہ آج چھٹی ہے۔ کوئی تین بجے آنکھ کھلی نماز پڑھ کر بیٹھا تھا کہ عثمان بھائی کی کال آئی اور کچھ ہی دیر بعد میں، عثمان بھائی اور دی نیشن کے صحافی بھائی منصور کوئٹہ کیفے پہ ملے۔ ان سے رخصت ہونے کے بعد میں جی نائن کسی کام سے نکلا۔ بائیک سے اتر کر موبائل دیکھا تو صاحبزادہ اسجد محمود کی کال آئی تھی۔ میں نے کال بیک کی تو برادرم اسجد محمود صاحب نے کہا کہ آپ کے دوست مسفر جمال ٹریفک حادثے میں شہید ہو چکے ہیں اور ابھی پولی کلینک میں ہیں۔

یہ  خبر سنتے ہی جیسے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ابھی کل ہی تو ساتھ تھے۔ ممکن ہے انہوں نے ہمیں چھیڑنے کے لئے اسجد صاحب کو یہ کہا ہوگا کہ ان سے یہ کہہ دیں۔ میں نے موبائل میں سے ان کا نمبر نکالا۔ ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ نمبر ڈائل کروں۔ میرے ساتھ مشتاق لہڑی کھڑے تھے۔ ان سے کہا کہ یہ نمبر ملا دو۔ ابھی وہ نمبر ہی لکھ رہے تھے کہ حیدری صاحب کے پرسنل سیکرٹری نور احمد کاکڑ کی کال آئی۔ انہوں نے بھی واقعہ کی تصدیق کی تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔

کوئی دس منٹ تک میں پولی کلینک پہنچا۔ برادرم اسجد محمود صاحب وہیں موجود تھے۔ سب کچھ اتنا عجیب اور غیر یقینی تھا کہ ہم کسی کو نہ کچھ کہہ سکتے تھے اور نہ کسی سے پوچھ سکتے تھے۔ ہم نے کئی جنازے اٹھائے ہیں مگر اس جنازے نے ہمیں اندر سے چور کر دیا۔ گویا دل کرچی کرچی ہو گیا ہو۔

اس دن بھی وہ جماعت کے ہی کسی دوست کے ہاں جا رہے تھے جب اوبر بائیک کو پیچھے کسی مہران گاڑی نے ٹکر ماری۔ اس ٹکر سے وہ نیچے گرے اور ظالم ٹرک ڈرائیور اس کے معصوم جسم کو چیرتے ہوئے گزر گیا، جب کہ دوسری جانب ان کا میزبان ان کا انتظار کرتے رہے۔ ان کے سارے وائس کلپس برادرم مفتی شوکت اللہ کے ذریعے ملے۔ سن کر دل ڈوب جاتا ہے۔ میرے شعور کی دنیا میں یہ پہلی شہادت ہے جس پہ آج تک دل رنجیدہ ہے۔ ہمارا تعلق بنیادی طور پہ سوشل میڈیا ہی سے بنا تھا۔ ہزاروں میسجز، وٹس ایپ میسنجر، انسٹاگرام سے لے کر ٹوئٹر تک بس اب اس کی یادیں ہیں۔ ہم ان کو میسجز لکھتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی طرف سے جواب نہیں آنا۔ مگر دل مغموم کو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اب کے میسجز بار بار پڑھنا اور ان کو یاد کرنا.

ہمارا معاشرہ اس قدر بے حس ہو چکا ہے کہ وہ لوگوں کے اوپر سے گاڑیاں گزار کر بھاگ جاتے ہیں، پھر وہ سکون کی نیند کیسے سو سکتے ہیں؟ کیا ان کو نیند آتی ہوگی؟ ان کے گھر والوں، بھائی اور خاص کر ماں باپ پہ کیا گزری ہوگی، اس کا نہ ہم تصور کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس درد کو محسوس کرسکتے ہیں۔ ایک دوست کی حیثیت سے میں جس اذیت اور کرب سے گزرا ہوں تو اندازہ لگائیے جو ان کے بہت ہی قریبی دوست ہوں گے، جو ان کے گھر کے افراد ہوں گے وہ کس طرح ان کو بھول سکتے ہیں؟

ہماری قیادت، خصوصاً قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور فخر جمعیت مولانا عبدالغفور حیدری صاحب نے بھی اس غم کو محسوس کیا اور رنجیدہ ہوئے۔

ان کی یہ فکر تھی کہ میڈیا میں علمی صلاحیتوں سے لیس اپنے نوجوان ساتھیوں کی رہنمائی کی جائے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ان کے اس مشن اور کاز کو ہم آگے لے کر چلیں تاکہ ان کی روح کو ایصال ثواب پہنچے۔ آمین
امیر شہر کو کانٹا چبھا تو سارا شہر روئے
بہا غریب کا خون تو شہادتیں نہ ملیں

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *