Type to search

انسانی حقوق انصاف جرم خبریں خواتین

پاکستان میں جنسی زیادتی ثابت کرنے کے لئے خواتین کا شرمناک ٹیسٹ،پابندی کی درخواست

پاکستان میں ریپ اور جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین پر  کئے جانے والے متنازع ٹیسٹ کے حوالے سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے اور اس متنازع ٹیسٹ جسے ورجینیٹی ٹیسٹ یا کنوار پن جانچنے کا ٹیسٹ کہا جاتا یے اس  پر پابندی عائد کرنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کردی گئی ہے۔

ورجنیٹی ٹیسٹ کے دوران پردہ بکارت کے زائل ہونے اور ٹو فنگر کے ذریعے جنسی زیادتی کو ثابت کرنے کے طریقہ کار پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس ٹیسٹ کے استعمال کو غیر ضروری قرار دیتی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کے ورجنیٹی ٹیسٹ پر پابندی کے لیے دائر ہونے والی آئینی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت متعلقہاداروں سے جواب طلب کرلیا ہے۔

درخواست میں اعلیٰ عدالت سے استدعا کی گئی کہ ورجنیٹی ٹیسٹ طبی اعتبار سے ناقابل اعتماد ہے اور اس کی کوئی ٹھوس سائنسی بنیاد نہیں۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ورجنیٹی ٹیسٹ ناصرف خواتین کے بنیادی حقوق کے منافی ہے بلکہ یہ ٹیسٹ خواتین کے لیے تضحیک آمیز ہے. پٹیشن دائر کرنے والے وکلا کا عدالت کے سامنے یہ بھی کہنا تھا کہ ورجنیٹی ٹیسٹ کا طریقہ کسی بھی متاثرہ خاتون کے لیے شدید ذہنی، جسمانی، جذباتی اذیت سے کم نہیں ہے اور یہ ٹیسٹ آئین کے مطابق خواتین کے بینادی حقوق کے منافی ہے۔

درخواست گزار کے وکلا نے نشاندہی کی کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کا ورجنیٹی ٹیسٹ ایک دقیانوسی طریقہ کار ہے جو انگریز دور میں رائج کیا گیا تھا.درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ورجنیٹی ٹیسٹ ایک گمراہ کن مفروضے پر قائم ہے اور اس کا واحد مقصد خاتون کے کردار کے بارے میں رائے قائم کرنا ہے۔ورجنیٹی ٹیسٹ ناصرف خواتین کے بنیادی حقوق کے منافی ہے بلکہ یہ ٹیسٹ خواتین کے لیے تضحیک آمیز اور تکلیف دہ ہے۔

 

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *