Type to search

تجزیہ

منظر بدلنے کو ہے یارو، تیار رہو

مریم نواز قابل ذکر عرصے بعد اچانک سے متحرک ہوئی ہیں۔ اور متحرک ہوتے ہی انکی وہی کڑک اور وہی دھمک واپس آچکی ہے۔ یوں لگا ہے کہ جیسے کسی نے مریم کو فریز کر رکھا تھا جو کہ فریزر سے باہر نکلتے ہی سیدھے اسی حالت میں واپس آئیں ہیں جہاں انہیں فریز کیا گیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے میڈیا سے بھی بات کی اور اپنے تمام تر سابقہ عزائم دھرائے۔ اچنبھے کی بات یہ کہ انہوں نے کہیں محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ اپنے عرصہ خاموشی کو لے کر عوام سمیت کسی کو بھی وضاحت دینے بارے سوچ بھی رہی ہیں۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ آیا کیا ایسا ہوا کہ خاموشی کے فریزر میں سیاسی طور پر حنوط شدہ مریم  میں سیاسی زندگی کی توانیاں کوند گئیں ہیں۔ اگرچہ تجزیہ کار اسے اسٹیبشمنٹ کے ساتھ شہباز گروپ کی ڈیل ناکام ہونے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ تاہم شاید یہ اندازہ اتنا صائب نہیں ہے۔ چونکہ مریم نواز اور انکے والد جو اقتدار سے علیحدگی کےبعد سیاسی طور پر ‘نہ جھکنے والے نہ بکنے والے’ سیاسی موقف اپنائے ہوئے تھے اچانک یو ٹرن لے کر بیرون ملک بھی نکل لئے اور خاموش بھی ہو گئے۔ اگر شہباز ڈیل ناکام بھی ہوجاتی ہے تب بھی انکی طویل خاموشیوں کی صورت میں سیاسی نقصان اٹھالینے کے بعد اب مزاحمت کے لئے شور مچا لینے سے کیا ہوجاتا؟ کامیابی کی بجائے مزید نقصان ہی انکا مقدر بنتا۔

تو اب پس پردہ کچھ اور ہے۔ یوں لگتا ہے کہ  سٹیج پر جاری ڈرامے کے کرداروں کو ناظرین کی طرف سے داد نہ ملنے کی وجہ سے ڈائریکٹر اب تنگ آچکا ہے۔ گو کہ ڈرامہ ریٹنگ کے بغیر ڈائریکٹر کیطرف سے کافی دیر چلایا گیا ہے  لیکن  اب اسکی بس ہوچکی ہے۔اور اسنے حتمی فیصلہ کرلیا ہے کہ یہ ڈرامہ روکدے اور نئے کرداروں کو سٹیج پر چڑھا کر ڈرامہ نئے سرے سے شروع کرائے۔

اب چونکہ عوام اس سیاسی سیزن کے گزشتہ ورژن کو مس کر ہے ہیں اس لیئے اس کے کرداروں کو ہی کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب اس کاسٹ کی لیڈ ایکٹریس تو مریم نواز ہی ہیں۔

تو بس یہ بھاگم دوڑ جو ہے یہ کہہ رہی ہے کہ  منطر بدلنے کو ہے یارو، تیار رہو۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *