Type to search

تجزیہ کورونا وائرس

پنجاب میں تعداد 78 ہو گئی۔ کوئی حکمرانوں کو جگائے، کہیں کورونا ’کاٹ‘ نہ لے

Buzdar-Imran-Sarwar

کرونا وائرس کے خلاف اس وقت پوری دنیا کی حکومتیں اور انکے سربراہان برسر پیکار ہیں۔ ایسے میں ان تمام سربراہان نے ماہرین سے بریفنگ لیں ہیں اور جدید سائنسی بنیادوں پر اس موذی وائرس سے جنگ کر رہے ہیں۔

مگر کیا کہنے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے جن کی معصومیت اور معاملات سے بے خبری اب مجمرمانہ رنگ اپناتی چلی جا رہی ہے۔ ویسے تو وہ اپنی ٹریننگ لینے کی صلاحیت کا بار ہا اظہار کر چکے ہیں اور جب بھی ان سے انتظامی نا اہلی سے متعلق سوال ہوتا ہے وہ اپنے مخصوص لہجے میں بولتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ ابھی تو میں ٹیرین ہورہا ہوں۔

لیکن اب کرونا وائرس پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی صلاحیتوں کی ایک اور ہوشربا داستان سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق عثمان بزادر کو کرونا وائرس سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران بریفنگ دی گئی۔ تمام تر بریفنک لے چکنے کے بعد انہوں نے بریفنگ دینے والے افسر سے معصومیت سے پوچھا ’یہ کرونا کاٹتا کیسے ہے‘؟

اس واقعے کی تفصیل سینئیر صحافی فہد حسین اپنے کالم میں سامنے لائے ہیں۔ اور پاکستان میں کورونا سے متعلق لاعلمی کی اس سے بہتر عکاسی ہو ہی نہیں سکتی۔ عثمان بزدار اکیلے نہیں۔ اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں ہر طرف یہی صورتحال ہے۔

گورنر پنجاب ہی کو دیکھ لیجئے۔ اب سے چند روز پہلے ایسی افواہیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں کہ کورونا وائرس معدے میں جا کر مر جاتا ہے لہٰذا پانی زیادہ سے زیادہ پئیں۔ لیکن یہ افواہیں اب سے آٹھ دس روز قبل ہی دم توڑ گئی تھیں۔ جب کہ یہاں صورتحال یہ ہے کہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور آج بھی یہی کہتے پائے گئے ہیں کہ پانی پئیں، اس سے وائرس آپ کے پیٹ میں چلا جائے گا اور وہاں جا کے مر جائے گا۔

پھر ہمارے وزیر اعظم صاحب ہیں جن کا فرمان ہے کہ جمعہ کی نماز جلدی سے پڑھ کر واپس آ جائیں۔ شاید انہیں بھی ابھی تک کسی نے یہ نہیں بتایا کہ کورونا وائرس گھات لگا کر نہیں بیٹھتا کہ آپ اس کے اونگھتے میں نماز پڑھ کر واپس بھاگ آئیں گے۔ حالات ہمارے حکمرانوں کی سوچ اور سوچنے کی استطاعت سے کہیں زیادہ گھمبیر ہیں۔

اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنوری میں دنیا بھر میں چین میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے تشویش ظاہر کی جانا شروع ہو چکی تھی۔ فروری کے وسط میں حالات ایران میں بھی گھمبیر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ 26 فروری کو پاکستان میں بھی کورونا کا پہلا مریض سامنے آ گیا تھا۔

لیکن پاکستان میں اس حوالے سے پہلا اجلاس 13 مارچ کو جا کر ہوا۔

دوسری جانب میڈیا میں حقائق پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ لوگوں تک بنیادی قسم کی معلومات بھی نہیں پہنچ پا رہیں۔ جب کہ دنیا بھر میں جہاں سڑکوں پر ہو کا عالم ہے، پاکستان میں آپ کو ٹریفک، دکانیں، دفاتر بدستور چلتے دکھائی دے رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اصل حالات کو سامنے نہ لانے کی وجہ سے عوام میں معاملے کی سنجیدگی کا ادراک ہی نہیں ہے۔ نیا دور ہی پر ویڈیوز پر ایسے تبصرے اب تک کیے جا رہے ہیں کہ بلاوجہ panic پھیلا رہے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ 15 مارچ کی صبح پاکستان میں کورونا کے کل مریضوں کی تعداد 8 بتائی جا رہی تھی۔ 16 مارچ کی صبح یہ تعداد 52 تھی اور صرف تین دن کے اندر، 19 مارچ کو، اس وقت یہ تعداد 377 ہے اور جب تک آپ یہ ویڈیو دیکھیں گے، شاید یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو چکی ہو۔ اگر اب بھی panic نہیں ہوں گے تو آخر کب ہوں گے؟

وزیر اعظم صاحب پہلے ہی بیان دے چکے ہیں کہ اگر مسئلہ حد سے زیادہ بڑھا تو پاکستان کی صلاحیت اور وسائل اس سے نمٹنے کے لئے ناکافی ہیں۔ تو پھر خدارا عوام کو حقیقت بتائیے۔ حقائق چھپانے سے عوام کو کم از کم مسئلے کی گہرائی کا ادراک تو ہوگا۔ اور وہ شاید اپنے گھروں میں خود کو محفوظ کرنے کی کوشش کریں۔ جس حالت میں ہم اس وقت ہیں، یہاں خدانخواستہ حالات ایران جیسے ہو جائیں گے اور ہمارے پاس تو اس معیشت اور human resource کو دوبارہ سے کھڑا کرنے کے وسائل بھی نہیں ہیں۔ ہوش کے ناخن لیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *