Type to search

تجزیہ سیاست

کی نہ مرے قتل کے بعد بھی اس نے جفا سے توبہ

ستر سال سے پے در پے صدمات سہتے ہمت جواب دے چکی ہے۔ اپنے کاندھوں پر اپنی ہی لاش لیے پھرنا کسی قیامت سے کم نہیں لیکن کیا کیا جائے کہ یہی نصیب ٹھہرا ہے۔

روز مرتا ہوں روز جیتا ہوں
کوئی یوں مجھ کو آزماتا ہے

اپنا ایک گھر بنانے کے لئے جس قتل عام کا سامنا کرنا پڑا، الامان و الحفیظ لیکن اس امید کے سہارے جی گیا کہ رات بھر کا مہماں اندھیرا جلد ہی سحر طلوع ہو گی۔

وقت جیسے تیسے گزرتا رہا اور میں نامساعد حالات کے باوجود آنے والی بہار کے سحر میں کھویا رہا کہ ایک عشرے بعد اچانک ایک غاصب نے میرے گھر پر جبراً قبضہ کر لیا اور ایک نہ ختم ہونے والی سیاہ رات چھا گئی۔ میرے ہونٹ سی دیے گئے اور میری آواز گلے میں ہی گھٹ کر رہ گئی۔ ایک بار پھر حوصلہ پیدا کرنے کی کوشش کی اور سوچا یہ دن بھی جلد ہی کٹ جائیں گے۔ لیکن صرف 13 سال بعد ہی غاصبوں نے میرا دایاں بازو مروڑ کر الگ کر دیا۔

شدت غم سے چیخ نکل گئی کہ جس پر گزرتی ہے وہی تکلیف کی شدت بھی جانتا ہے۔ کچھ بہتری کے آثار پیدا ہوئے ہی تھے کہ ایک بار پھرمیرے قتل کا فرمان جاری کر دیا گیا اور پھر سے ایک طویل سیاہ رات چھا گئی۔ قدرت کے فیصلے وہی جانے کہ اس بار میرا قاتل بھی مارا گیا اور ایک مختصر وقفہ کے لئے ہی سہی، کچھ اجالا ہوا تو دیکھا کہ سیاہ رات نے اس دھرتی پر کیا ستم ڈھایا تھا۔

میں بھی تو نادان ہوں کہ صبح کاذب کو صبح صادق سمجھ بیٹھا لیکن جلد ہی میرے قاتل نے ایک بار پھر میری پیٹھ میں خنجر گھونپ کر میری غلط فہمی دور کر دی اور ایک بار پھر ظلم کی سیاہ رات مقدر ٹھہری۔ مجھے میرے ہی گھر سے بے دخل کر دیا گیا۔

دنیا بنانے والے نے وقت بھی خوب بنایا ہے کہ ٹھہرتا ہی نہیں۔ یوں وقت کی کروٹ نے میرے پژمردہ چہرے پر اپنی کرنیں پھیلائیں تو جانا کہ بہار آئی ہے۔ نادانی کا کوئی علاج نہیں کہ جس کو آتی ہوئی بہار سمجھا تو وہ تو پت جھڑ تھی۔

بار بار ٹھوکریں کھانے کے بعد اب حالات سے سمجھوتہ کرنا سیکھ گیا ہوں۔ بہار ہو کہ خزاں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ وقت نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا ہے اور جو چاہا تھا، وہ پھر بھی نہ ملا۔ بوڑھے کانپتے ہاتھ پھیلا کر بس یہی دعا کرتا ہوں کہ جو بہار میں نہ دیکھ سکا وہ میرے بعد آنے والے دیکھ لیں۔

میرے لئے یہ صدمہ بھی کچھ کم نہیں کہ چاہنے کے باوجود اپنے قاتل کی نشاندہی نہیں کر سکتا کہ بار بار قتل ہونے کے باوجود میں اپنے قاتل کے چہرے سے واقف نہیں کیونکہ میرا قاتل ہر بار مجھے ایک نئی نقاب پہنے ملتا ہے۔

جب بھی چاہیں اک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ
ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *