Type to search

Coronavirus خبریں

پمز اسپتال: سکیورٹی اہلکار عوام کے غم و غصے کے سامنے بے بس

وفاقی دارالحکومت میں واقع پاکستان انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اور شہر کے تین دیگر سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں نے دو روز پہلے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو دھمکی دی کہ اگر حکومت نے اسپتال کے ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کو حفاظتی کٹس فراہم نہیں کیں تو وہ منگل کے روز سے تمام او پی ڈی بند کر دیں گے۔ پریس کانفرنس کے بعد اسی روز گورنر پنجاب چودھری محمد سرور اور ہلال احمر پاکستان کے نئے چیئرمین ابرار الحق نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے حفاظتی کٹس فراہم کرنے کے لئے آرڈر دیا ہے اور آئندہ ہفتے تمام اسپتالوں کو فراہم کردی جائیں گی۔

پمز اسپتال کی میں ایمرجنسی پر جمعے کے روز بہت رش تھا اور رش میں موجود تقریباً دو سو لوگوں میں سوائے چار لوگوں کے کسی نے حفاظتی ماسک کا استعمال نہیں کیا تھا جب کہ وہ ایمرجنسی کی پرچی لینے کے لئے رش میں کھڑے تھے اور دروازے پر کھڑے تین سکیورٹی گارڈز میں سے کسی کے پاس بھی کورونا وائرس چیک کرنے کے لئے کوئی آلہ موجود نہیں تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے لئے قائم کیے گئے سنٹر میں خاطر خواہ حفاظی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔ سکیورٹی گارڈ کے پاس ایک چھوٹا لاؤڈ سپیکر تھا جس سے وہ بار بار اعلان کر رہے تھے اور لوگوں کو ہدایات دے رہے تھے کہ ایک دوسرے کے قریب نہ بیٹھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کاؤنٹر پر پرچی لینے کے لئے کھڑے لوگوں میں کافی فاصلہ رکھا گیا تھا۔

سنٹر میں داخل ہونے کے بعد ایک حفاظتی ماسک فراہم کیا گیا اور سنٹر میں موجود عملے اور مریضوں نے حفاظتی تدابیر اختیار کی ہوئی تھیں۔ سنٹر کی انچارج ڈاکٹر نے نیا دور میڈیا کو بتایا کہ ہمارے پاس کورونا وائرس چیک کرنے کے لئے کوئی لیبارٹری نہیں۔ تاہم، جب کسی مریض میں کوئی اثرات پائے جائیں تو یہاں ہم ان کے خون کے نمونے NIH بیجھوا دیتے ہیں اور نتیجہ آنے تک مشتبہ مریض کو isolation میں رکھا جاتا ہے تاکہ دوسرے لوگ متاثر نہ ہوں۔

وارڈ کی انچارج سے جب دیگر سوالات پوچھے گئے تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کیا۔

پمز کے دیگر وارڈز میں حفاظتی انتظامات انتہائی ناقص تھے اور موقع پر موجود سکیورٹی اہلکار لوگوں کو منتشر کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آئے کیونکہ لوگوں کا رویہ بہت سخت تھا اور سکیورٹی اہلکاروں کی بار بار تنبیہہ کے باوجود کوئی بھی ان پر عمل پیرا نظر نہیں آ رہا تھا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *