Type to search

Coronavirus فیچر

آیت اللہ خامنہ ای کی ’اجتہادی غلطی‘ ایران کے لئے عذاب بن گئی۔ پاکستان کے لئے سبق کیا؟

  • 6.5K
    Shares

کورونا وائرس نظریہ ارتقا کا جیتا جاگتا ثبوت ہے

دسمبر 2019 میں چین کے ساٹھ لاکھ آبادی والے صنعتی شہر ووہان کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو ایسے مریضوں کا سامنا ہوا جن کی بیماری روایتی زکام اور سر درد سے شروع ہو کر کچھ دنوں میں نمونیہ کی شکل اختیار کر لیتی تھی اور مریض کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہونے لگتا تھا۔ بعد ازاں کچھ افراد کے پھیپھڑوں میں خون بھی بھرنے لگ جاتا تھا۔ جنوری 2020 میں چینی سائنسدانوں نے اس بیماری کو نظریہ ارتقا کے قوانین کی روشنی میں سمجھ لیا۔ یہ جراثیم کرونا وائرس کی نسل سے تعلق رکھتا تھا جس کے ہم نوع 2003 میں سارس کرونا چھپکلی سے اور 2012 میں میرس کرونا اونٹوں سے ارتقا پا کر انسانوں کو منتقل ہو چکے تھے۔

یہ وائرس ان جانوروں تک چمگادڑ کی ایک مخصوص نسل پر رہنے والے وائرس سے ارتقا پا کر منتقل ہوئے تھے۔ دستیاب معلومات کے مطابق دسمبر 2019 میں سامنے آنے والا وائرس چمگادڑ کے وائرس سے ارتقا پا کر پنگولین (چیونٹی خور) میں منتقل ہوا اور وہاں سے ارتقا پا کر انسان میں منتقل ہوا ہے۔ چمگادڑ کا وائرس اس تبدیلی کے بغیر انسانی جسم کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ اس نئے وائرس کا نام ”کویڈ – 19“ رکھا گیا اور اس کی تخلیق میں کارفرما ارتقائی تبدیلیوں کو سمجھنے اور اس کا علاج دریافت کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔

چین نے کورونا وائرس کا مقابلہ کیسے کیا؟

چین نے ساٹھ لاکھ آبادی والے اس صنعتی شہر میں جہاں پہلے ہی بہت سارے ہسپتال موجود تھے، اس وبا کے پیش نظر ایک ہفتے کی کم مدت میں ایک ہزار آئی سی یو کمروں پر مشتمل ہسپتال تعمیر کر کے اور شہریوں کو گھروں میں محدود کر کے وہیں ضرورت کی چیزیں مہیا کرنے کا فیصلہ کر کے اس بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار کو بہت کم کر دیا۔ اعداد و شمار کے مطابق چینی معیار کی نگہداشت میسر ہونے کی صورت میں اس بیماری کی شرح اموات دو فیصد تک ہے۔

کیا مسلمان ممالک میں بھی شرح اموات یہی رہے گی؟

مسلمان ممالک چونکہ علمی لحاظ سے پسماندہ ہیں، لہٰذا ان میں اگر یہ وبا پھیلے تو شرح اموات بڑھ بھی سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں افرادی قوت کی کمی سے شدید معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے اور بعض ممالک میں ریاست ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ لیبیا، شام اور افغانستان جیسے جنگ زدہ علاقوں کے لئے یہ وبا بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔

[نوٹ: یہاں یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کویڈ-19 جراثیم تبھی ایک فرد سے دوسرے فرد کو منتقل ہوتا ہے جب مریض کی چھینک، بلغم یا پیشاب کو اپنے ناک، آنکھ، کان، یا منہ میں پہنچایا جائے۔ اسی طرح اگر مریض کے بہت قریب (دو فٹ سے کم فاصلے پر) بیٹھ کر باتیں کی جائیں کہ اس صورت میں اس کی سانس میں شامل نمی فرش تک پہنچنے سے پہلے آپ کے منہ یا ہاتھوں کو لگ جائے۔ لہٰذا اگر آپ کے گھر میں کوئی فرد مریض ہو جائے تو اس کو بستر پر آرام کرنے کا کہیں اور وہیں کھانا اور نیم گرم پانی مہیا کریں۔ اس کے کمرے کومرطوب رکھیں۔ آپ کو مریض سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن جب بھی اس کے پاس جائیں تو اپنے ہاتھوں کو قابو میں رکھیں اور انہیں اپنے چہرے کے قریب لانے سے پہلے اچھی طرح صابن سے دھو لیں۔ اس جراثیم کی جلد چکنائی سے بنی ہے، لہٰذا صابن اس کی جلد کو ختم کر کے اس کو مار دیتا ہے اور صابن استعمال کیے بغیر یہ منہ اور ہاتھوں سے الگ نہیں ہوتا۔ انسانی جسم سے باہر یہ جراثیم دس دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ اگر آپ بھی بیمار ہو گئے تو مریض کی خدمت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ صحت یاب ہونے والے شخص کو چند ماہ تک یہ بیماری نہیں لگتی لیکن اسے صفائی کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ وہ اس جراثیم کو کسی آلودہ جگہ سے اٹھا کر ان لوگوں تک نہ پہنچائے جنہیں ابھی یہ بیماری نہیں لگی]۔

پاکستان میں کورونا وائرس کیسے آیا؟

ہمارے ملک میں یہ مرض چین، ایران، سعودی عرب اور یورپی ممالک سے آیا ہے۔ یورپی ممالک میں یہ بیماری اٹلی کے شہر وینس میں 23 فروری کو ہونے والے میلے سے پھیلی کہ جہاں پوری دنیا سے سیاح آئے تھے۔ ایران میں البتہ یہ مرض جنوری کے مہینے میں ہی پھیلنے لگ گیا تھا لیکن اس کے باوجود ایرانی حکومت اس کے خلاف بروقت قدم اٹھانے میں ناکام رہی اور ایرانی عوام کو ایک بڑی دلدل میں پھنسا دیا۔

ایران کا نظامِ حکومت

بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ایران کے نظامِ حکومت کو سمجھنا ضروری ہے۔ علم اور مذہب میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ علم کی تفسیر نہیں ہوا کرتی۔ تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ کسی متن سے قاری کیا مراد لیتا ہے۔ مذہبی کتب کا متن ایسا ہوتا ہے کہ اکثر مقامات پر اس کا مطلب واضح نہیں ہوتا اور اگر بعض اوقات واضح ہو تو اس کا ظاہری معنی قابلِ قبول نہیں ہوتا، چنانچہ دینی رہنماؤں کو اس کی تفسیر لکھنا پڑتی ہے۔ اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ متعدد تفاسیر وجود میں آ جاتی ہیں، اور وہ سبھی صحیح بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً تفسیر ابن عباسؓ اپنی جگہ صحیح ہے تو تفسیر ابن کثیر اپنی جگہ درست، اور تفسیر عثمانی یا تفسیر نمونہ کو بھی غلط نہیں کہا جا سکتا۔ ریاست کے خلاف ہر قسم کے طریقے اپنا کر جہاد کرنا مفتی شامزئی کے نزدیک اسلام کا حکم ہے تو مفتی سرفراز نعیمی اس کو اسلام کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

‏ایران کے شہر قم میں آیت اللہ سعیدی کا فرمانا ہے کہ لوگوں کا کرونا وائرس کے ڈر سے زیارت کے لئے روضے پر نہ آنا ایمان کی کمزوری ہے۔ اسی شہر قم میں آیت اللہ مکارم شیرازی کا کہنا ہے کہ کسی شخص تک کرونا وائرس کا جراثیم منتقل کرنے کا گناہ قتل کے برابر اور اس کی سزا دیت ہے۔ ایسی متضاد تفاسیر مذہبی لوگوں کے کسی نہ کسی حصے کے لئے ٹھیک بھی ہوتی ہیں۔ علما کا اصول یہ ہے کہ اگر دینی رہنما کا اجتہاد اللہ کو پسند آ جائے تو اسے دو نیکیاں ملتی ہیں، نہ آئے تو ایک نیکی ملتی ہے۔ دین کی متعدد تفاسیر کا امکان پائے جانے سے دینی رہنماؤں کو عوام سے ہٹ کر ایک الگ طبقاتی مقام مل جاتا ہے۔ وہ ’اتحادِ عالم و معلوم‘ کے قائل ہو جاتے ہیں۔ دینی رہنماؤں کی تفاسیر ہی دین کہلاتی ہیں۔

سائنس اور مذہب میں کیا فرق ہے؟

مذہب کے برعکس علم کی دنیا میں متن کی ایک ہی تشریح ہوا کرتی ہے اور کوئی تفسیر نہیں ہوا کرتی۔ جس بات کا ایک معین اور واضح معنی نہ ہو، علم اس کو مہمل یا بے معنی قرار دیتا ہے اور اپنے دائرے سے خارج سمجھتا ہے۔ چنانچہ نیوٹن کے کشف کردہ قوانین اتنے سال گزرنے کے باوجود وہی تشریح رکھتے ہیں جو نیوٹن کے زمانے میں تھی، اور آج تک ان کی کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔ علم کی دنیا میں عقل کے سوا کوئی رہنما نہیں ہوتا نہ کوئی عالم مقدس ہوتا ہے۔ علم سیکولر ہوتا ہے اور اس کی نگاہ میں صرف سچ مقدس ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ڈارون یا اس کے بعد آنے والے کسی سائنس دان کی کوئی بات علم کے قوانین پر پوری نہ اترے تو وہ نظریہ ارتقا کا حصہ نہیں بنے گی کیونکہ علم کے لئے عالم نہیں، سچ مقدس ہے۔

جو لوگ نظریہ ارتقا کو نہیں مانتے وہ یہ دعویٰ کیسے کر لیتے ہیں کہ کرونا وائرس لیبارٹری میں بنا ہے

ٹیکنالوجی کی بنیاد علم پر ہوتی ہے، لہٰذا اگر علم صحیح نہ ہو تو کبھی ٹیکنالوجی کو جنم نہیں دے سکتا۔ اس کی ایک مثال نیوٹن کے قوانین کی بنیاد پر بننے والے انجن اور خلا میں بھیجے جانے والے راکٹ ہیں۔ چنانچہ ارتقا کے علم کی بنیاد پر برائلر مرغی بنائی گئی، یا مختلف ادویات یا حیاتیاتی ہتھیار بنائے گئے۔ یہاں سے یہ بات بھی سمجھ آ جانی چاہیے کہ جو لوگ کرونا وائرس کو کسی لیبارٹری کی پیداوار سمجھتے ہیں ان کو نظریہ ارتقا کو درست کہنا ہو گا، ورنہ ان کا یہ دعویٰ ایک کھلا تضاد ہے۔

مذہب بطور ریاست

پچھلی صدی میں ہر صدی کی طرح اسلام کی نئی تفاسیر سامنے آئیں۔ ان میں سے ایک تفسیر اسلام کو مذہب کے بجائے قومی ریاست قرار دینا تھی۔ اس میں اصولِ دین کی جگہ ریاستی ادارے اور فروع دین کی جگہ ریاست کا قانون لے لیتا ہے۔ یہ تفسیر مصر کی اخوان المسلمون اور برصغیر کی مجلس احرار، جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی وغیرہ نے پیش کی۔ برصغیر میں اس سوچ کی بنیادیں 1820 کے عشرے میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی رکھ چکے تھے اور انہوں نے پانچ سال کے لئے وادی پشاور میں ایک داعشی ریاست بھی قائم کی تھی۔ جیسا کہ دین کی تفاسیر ہمیشہ متعلقہ زمانے کے افکار کی روشنی میں کی جاتی ہیں، اس تفسیر جس میں دین کو بطور ریاست یا نظامِ حکومت قرار دیا گیا تھا، پر بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں اٹلی اور جرمنی کے فاشزم کے اثرات بھی تھے۔

ایران میں اسلام بطور قانونِ ریاست

اس کو ایران میں آیت اللہ خمینی نے اپنا کر شیعہ اسلام کے عاشقانہ اور عوامی انداز کے ساتھ ملا دیا۔ وہ شیعہ فقہ کے ساتھ ساتھ قدیم فلسفے اور تصوف کے ماہر بھی تھے، لہٰذا افلاطون کے ”فلاسفر کنگ“ اور صوفیا کے ”مرشد“ یا ”انسانِ کامل“ والے تصور نے بھی اس فقہ شاہی کے نظریے کی صورت گری کی۔ ایران میں اس تفسیرکو ولایتِ فقیہہ کا نام دیا گیا۔ اگرچہ باقی شیعہ مراجع اس تفسیر کو قبول نہیں کرتے تھے لیکن دینی متن کے اعتبار سے یہ تفسیر بھی ٹھیک تھی اور دوسری تفسیریں بھی ٹھیک تھیں۔ اب اگرچہ اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ کو قرار دیا گیا تھا، لیکن خدا ایک معبود ہی نہیں، ریاست کا اعلیٰ ترین مقام بھی بن چکا تھا۔ اسلام میں چونکہ عام انسان خدا کو دیکھ یا سن نہیں سکتے، لہٰذا حاکم، یعنی ولی فقیہہ، کا حکم خدا کا حکم کہلایا۔

اسلام کو ریاست قرار دینے میں مسئلہ کیا ہے؟

اسلام کو ریاست قرار دینے سے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ بعض مقامات پر ریاست کا مفاد شریعت کے حکم سے ٹکرا رہا تھا۔ اس تضاد کا حل پچھلی تفسیر کو بدلنے کے بجائے اس پر ایک نئی تفسیر کی بنیاد رکھ کے نکالا گیا جس کے مطابق اسلام کے احکام کو اسلام پر فدا کیا جا سکتا ہے۔ اس بات کو اسلام کو مذہب کے بجائے ریاست قرار دینے سے ملا کر دیکھا گیا تو اس کا مطلب یہ نکلا کہ ولی فقیہہ اگر اسلام کے کسی حکم کو ریاست کے مفاد سے ٹکراتا دیکھے تو ریاست کے مفاد کو ترجیح دے کر اس حکم کو معطل کر سکتا ہے۔ اس نئے نظریے کا نام ”ولایتِ مطلقہٴ فقیہہ“ رکھا گیا۔ ایران اور داعش میں بنیادی فرق اسی ”ولایتِ مطلقہٴ فقیہہ“ کا ہے، ورنہ فقہی احکام تو دونوں طرف ایک جیسے ہیں۔

ریاستِ اسلام میں اسلام کے اصولوں کو ریاست کے مفاد پر قربان کیا جا سکتا ہے

اس نئی تفسیر سے نئی ریاست کی بہت سی مشکلات حل ہو گئیں۔ مثلاً سود، جسے قرآن میں خدا و رسول سے جنگ قرار دیا گیا ہے، کا نام ”جریمہ“ رکھ کر ریاست کے مفاد میں اسے جاری رکھا گیا۔ وطن عزیز میں مفتی تقی عثمانی صاحب بھی اسی قسم کے شرعی حیلے تراش کر ”اسلامی بنکاری“ کے موضوع پر کتابیں لکھ چکے ہیں۔ فقہی کتب میں موجود سنگساری، جنگ میں غیر مسلم عورتوں کو لونڈیاں بنانے، چور کے ہاتھ کاٹ کر اسے ساری عمر کے لئے معیشت پر بوجھ بنانے جیسے احکام کو ”اسلام“ کے مفاد میں غیر معینہ مدت کے لئے معطل کر دیا گیا۔ مذہبی کتابوں کی تعلیمات کے برعکس عورتوں کی تعلیم، ان کے ووٹ دینے، کھیل کود، اور ان کے گھر سے باہر کام کرنے کو اسلام کی مصلحت کے طور پر جاری رکھا گیا۔ شاہ کے زمانے میں بنائی گئی جدید یونیورسٹیوں کو نہ صرف باقی رکھا گیا بلکہ اسی طرز پر مزید ادارے بھی بنائے گئے۔ ایک عدد ”مجمع تشخیصِ مصلحتِ نظام“ بھی بنا دیا گیا جو فقہ کے علمبردار علما کی کونسل اور عملی مسائل سے نبرد آزما پارلیمنٹ کے درمیان تصادم کی صورت میں اسلام، بمعنی ریاست، کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کوئی حل نکالتی ہے۔

ولایتِ فقیہہ سے پیدا ہونے والے نئے مسائل

جہاں ولایتِ مطلقہٴ فقیہہ کے تصور نے چمتکار دکھائے وہیں اس میں ایک بہت بڑی خامی بھی ہے۔ آئین اور حتیٰ کہ شریعت کے احکام سے بھی بالاتر اختیارات کا مالک فقیہہ بالآخر جدید تعلیم سے محروم مدارس کا فارغ التحصیل فرد ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر ملک کے اہلِ علم اس کو کوئی علمی بات سمجھانے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ ریاست کے مفاد میں فیصلہ کن قدم اٹھا لیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی لطیف نکتہ ولی فقیہی کی سمجھ میں نہ آئے تو وہی ہوتا ہے جو اب ایران میں ہو رہا ہے۔ اسی طرح اس تصور میں ایک اور بڑی خامی شہریوں کے مفاد پر ریاست کے مفاد کو ترجیح دینا ہے۔ اسی وجہ سے جب ایران نے 14 جنوری 2020 کو عراق میں امریکی اڈے پر کامیاب میزائیل حملہ کیا تو مسافر طیاروں کی پروازوں کو معطل نہ کیا کیونکہ ایران ممکنہ امریکی جوابی حملے کی صورت میں ان طیاروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا، تاکہ اگر امریکا غلطی سے کسی مسافر طیارے کو مار گرائے تو ایران اس کے خلاف شور مچا سکے۔ امریکہ نے تو جوابی کارروائی نہ کی لیکن ہوا یہ کہ تہران میں ایئر ڈیفینس سسٹم کے ایک اہلکار نے غلطی سے یوکرین کا مسافر طیارہ، جس میں کئی ایرانی اور غیر ملکی سوار تھے، امریکی کروز میزائل سمجھ کر مار گرایا۔

اس کے برعکس جب فروری 2019 میں پاکستان اور بھارت میں فضائی کشیدگی پیدا ہوئی تھی تو ائرپورٹس کو مسافر طیاروں کے لئے بند کر دیا گیا تھا تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ الله وطن عزیز کو کسی فقیہہ کی حکومت سے بچائے رکھے۔

ایران میں کورونا وائرس کا موجودہ بحران

اب ہم ایران میں صحتِ عامہ کے موجودہ بحران کی طرف آتے ہیں۔

جب یہ وائرس چین میں ظاہر ہوا تو ایرانی رہبر کے لئے اس کے وجود کو قبول کرنا ممکن نہ تھا۔ انہوں نے جس دینی ماحول میں جوانی گزاری ہے وہاں علم، خصوصاً نظریہ ارتقا، کے خلاف جگت بازی کی جاتی ہے۔ کچھ علما، جیسے آیت الله کمال الحیدری، نے اس علم کو سمجھ کر قبول کیا ہے، لیکن دینی حلقوں کا عمومی رویہ جاہلانہ انکار کا ہی ہے۔ ارتقا کی سائنس سیکھنے والوں کو بندر کی اولاد کہا جاتا ہے، حالانکہ اس کے مطابق انسان بشمول علمائے کرام بندروں کی ’اولاد‘ نہیں بلکہ ان کے ’چچا زاد بھائی‘ ہیں جو لاکھوں سال پہلے الگ ہو چکے ہیں۔ نیز نظریہ ارتقا کے مطابق انسان اور بندر کی ذہنی صلاحیتوں میں اسی طرح بہت زیادہ فرق ہے جیسے مرغی اور عقاب کی قوتِ پرواز میں بہت فرق ہے۔ انسان کے اندر الفاظ و معانی کا ایک جہان آباد ہو سکتا ہے، انسان کے احساسات اور سماجی تعلقات پیچیدہ اور تہہ در تہہ ہیں، انسان پیچیدہ ریاضی سیکھ سکتا ہے۔ نظریہ ارتقا کی انسان شناسی سینکڑوں کتب پر مشتمل ایک وسیع علم ہے۔

ساری عمر نظریہ ارتقا کو سمجھنے کی زحمت نہ کرنے والے رہبر معظم کے لئے اس وائرس کا وجود قبول کرنا ممکن نہ تھا، جس کے وجود کی واحد توجیہہ حیاتیاتی ارتقا ہی ہے چاہے قدرتی ہو یا مصنوعی! لہٰذا ان کے لئے ساری دنیا میں مچنے والے شور کی ایک ہی توجیہہ ہو سکتی تھی اور وہ یہ تھی کہ ہو نہ ہو یہ امریکہ کا پھیلایا ہوا جھوٹ ہے جو چینی اور ایرانی سائنسدانوں کو بھی ”مغرب زدہ“ کر چکا ہے۔ لیکن سائنس دشمنی کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ چنانچہ ایران کے اصول گرا طبقے نے کرونا وائرس کی خبروں کو انقلاب کی سالگرہ اور اس کے بعد پارلیمانی انتخابات وغیرہ کو نقصان پہنچانے کے لئے امریکہ کا پروپیگنڈا کہا۔

ایران میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں صحافیوں کا کردار

ولی فقیہ کے جتھے سے تعلق رکھنے والے ایرانی صحافیوں کو ایرانی سائنسدانوں کی طرف سے عوام کو آگاہ کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے کا ٹاسک دے دیا گیا۔ اخباروں، ٹی وی اور منبروں پر اس وائرس کے وجود کی خبروں کو جھوٹی افواہیں کہا جانے لگا۔ پاکستان میں بھی ان صحافیوں کی نقل کرنے والے لاہور کے ایک مولوی صاحب نے بھی ایسی ہی باتیں کرنا شروع کر دیں۔

چین سے کورونا وائرس کو بذریعہ جہاز ایران لایا گیا

عقل اور علم کو معطل کر کے ہر معاملے میں ولی فقیہہ کی بات کی اندھا دھند پیروی کرنے والی سپاہ پاسداران انقلاب کی ہوائی جہازوں کی کمپنی ”ماہان ایئر“ نے‏چین کی طرف پروازیں جاری رکھیں۔ ایسے وقت میں جب چین سے باہر جانا مشکل تھا، ماھان ایئر چین سے لوگوں کے باہر نکلنے کا وسیلہ بن گئی۔ فروری 2020 کے شروع میں ایرانی عوام کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایرانی ایئر پورٹس کی ایسی کئی ویڈیوز پوسٹ کی جانے لگیں جن میں ماھان ایئر کے جہاز سے اترنے والے چینیوں کو دوسری فلائٹس پکڑ کر یورپ یا عرب ممالک جاتے دیکھا جا سکتا تھا۔ ان میں ایسے چینی بھی آ گئے جو چین کے اندر وبا پھیلنے کے خوف سے بھاگ رہے تھے مگر جراثیم ان کے بدن میں شامل ہو چکا تھا۔ یہ لوگ ایرانی ایئرپورٹس اور ماھان ایئر کے جہازوں پر اس وائرس کو منتقل کرتے رہے۔

پڑھے لکھے لوگوں نے آواز اٹھائی تو غداری کے فتوے بانٹے گئے

پڑھے لکھے ایرانیوں نے سوشل میڈیا پر ان پروازوں کے خلاف آواز اٹھائی تو سوشل میڈیا پر موجود نیم خواندہ بسیجی اور انقلابی جتھوں نے گالم گلوچ اورغداری کے الزامات سے ان کا منہ نوچ لیا۔ ان کے لئے ”اتحادِ عالم و معلوم“ کے عقیدے کے تحت ولی فقیہہ خود دین تھا اور اس کی ہر بات کا دفاع واجب تھا۔

ڈاکٹروں کی رپورٹوں کو مسترد کیا گیا

پارلیمنٹ کے الیکشن سے ایک ہفتہ پہلے ایران کے مختلف شہروں بالخصوص قم میں لوگ مرنا شروع ہو گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ وائرس جنوری میں ایران آ چکا تھا۔ ایران کے ڈاکٹروں نے ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کے پھیپھڑوں کا ایکس ریز کی مدد سے عکس بنا کر انتظامیہ کو دکھایا تو انہیں ہراساں کیا گیا۔ جاہلانہ اعتراضات کر کے ان کی رپورٹس کو مسترد کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے عوام کو بتانا چاہا تو ان کو اسلام دشمنی کا طعنہ ملا۔

’جس نے کورونا کے ڈر سے ووٹ نہ ڈالا وہ کافر ہے‘

مشہد کے امام جمعہ آیت الله علم الہدیٰ نے اپنے خطبے میں کہا کہ جو شخص الیکشن میں ووٹ نہ ڈالے وہ کافر ہے۔ 24 فروری 2020 کو پارلیمنٹ کے الیکشن کے بعد رہبر نے کہا کہ ایران میں کرونا وائرس کی افواہیں ”دشمن“ نے پھیلائی تھیں تاکہ عوام الیکشن میں شریک نہ ہوں۔ ایک ایسا عہدیدار جو اپنے ملک کے آئین سے بالاتر اختیارات رکھتا ہے اور اس کا فرض ہے کہ ایسے موقع پر محکمۂ صحت کی رپورٹ کو سنجیدہ لے، اس کی طرف سے ایسی غیر ذمہ دارانہ بات نہایت افسوسناک ہے۔ لیکن اس کی وجہ رہبر کی جہالت تھی، وہ اگر حقیقت کو سمجھ جاتے تو نہ صرف ماہان ایئر کی چین کو جانے والی پروازیں روک لی جاتیں بلکہ الیکشن کو بھی کچھ ماہ کے لئے ملتوی کیا جا سکتا تھا۔ اسی طرح 11 فروری کو انقلاب کی سالگرہ کے جلوس یا دیگر عوامی اجتماعات کو ملتوی کیا جا سکتا تھا۔ مقدس مذہبی مقامات پر زائرین کو دو تین فٹ دور رہنے کی ہدایت کی جا سکتی تھی، مساجد میں نماز باجماعت اور نماز جمعہ پر پابندی لگائی جا سکتی تھی۔ اس طرح وائرس کے پھیلنے کی رفتار کو ہسپتالوں میں موجود سہولیات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا تھا۔ ایران پہلے ہی پابندیوں کی زد پر ہے، اسے چین کی طرف پروازیں جاری رکھنے کی عیاشی زیب نہیں دیتی تھی۔

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کے اعلان پر ایم این اے ملک دشمن قرار دے دیا گیا

الیکشن کے بعد قم کے ایم این اے نے بیان دیا کہ میرے شہر میں پچاس کے لگ بھگ لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس پر رہبر کے حمایتی انقلابی جتھے نے ان پر ملک دشمنی کا الزام لگایا۔ عوام میں مرض پھیلنے لگا تو وہ خرافاتی علمائے کرام کی باتوں میں آ کر شفا ڈھونڈنے حضرت امام علی رضاؑ اور حضرت سیدہ معصومہؑ کے مزارات پر آ کر چھینکنے لگے۔

حقائق کو چھپانے کی روش

کچھ ڈاکٹروں سے عوام کا یوں اندھیرے میں قتل ہونا برداشت نہ ہوا تو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر احتیاطی تدابیر اور اپنے ہسپتالوں کو درپیش مسائل کو ویڈیوز میں ریکارڈ کر کے شائع کر دیا۔ انہیں گرفتاری اور پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا۔ جلوس، جمعہ، زیارات، الیکشن سمیت دیگر عوامی اجتماعات جاری رہے۔ کوویڈ-19 سے مرنے والوں کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر وجہٴ مرگ سانس کی تکلیف یا ہارٹ اٹیک لکھنے کا حکم دے دیا گیا۔ ایرانی انتظامیہ ولی فقیہہ پر ایمان کی وجہ سے ڈاکٹرز کو ”دشمن“ کا ساتھی سمجھ رہی تھی، جبکہ حقیقت میں ولی فقیہہ اپنی حماقت کی وجہ سے انجانے میں ایرانی عوام کے دشمن بن چکے تھے۔

طبِ اسلامی، طبِ اہلبیت اور ’قم کا ابوجہل‘

‏ایران میں صحتِ عامہ کے ساتھ ایک اور مذاق ”طبِ اسلامی“ اور ”طبِ اہلبیت“ کے نام سے بھی جاری ہے۔ ان لوگوں کو رہبر معظم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ قم میں آیت اللہ تبریزیان ”طبی اجتہاد“ پر درسِ خارج دیتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کو بھی ان صاحب نے حیوانات کے پیشاب کے نجس یا پاک ہونے کے مسائل جیسا کوئی معاملہ سمجھ رکھا ہے جسے یہ اجتہادی طریقوں سے سیکھ لیں گے۔ ایران کی میڈیکل یونیورسٹیوں میں ان کے شاگردوں کو ”دانشکدہٴ طبِ سنتی“ کے نام سے ڈپیارٹمنٹ بنا کر ملازمتیں دی گئی ہیں۔ ‏ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد اس ”طبی مرجع“ نے اپنی ادویات کی مہم چلا دی جس کا مختصر جائزہ سابقہ مضمون بعنوان ”قم کا ابوجہل“ میں پیش کیا جا چکا ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب ایرانی ڈاکٹر ہسپتالوں میں ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ آیت الله اور ان کے شاگرد مختلف ویڈیو پیغامات اور اپنے ٹیلی گرام چینل پر ان کے خلاف گھٹیا مہم چلائے ہوئے ہیں، حالانکہ متعدد علمائے کرام ان کی معجونیں کھانے کے باوجود ہلاک ہو چکے ہیں۔

بیماری پھیلنے کی خبروں کو عزاداری اور زیارت کے خلاف سازش قرار دیا گیا

جب قم اور مشہد کے زائرین میں یہ بیماری پھیلنے کی خبریں عام ہوئیں تو ایرانی علمائے کرام نے پینترا بدل کر ان خبروں کو عزاداری اور زیارت کرنے کے خلاف سازش قرار دیا۔ کسی بھی ملک میں ہر وقت کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے، لہٰذا اگر سازش کا ثبوت ڈھونڈے بغیر الزام لگانے کی عادت بنا لی جائے تو کسی بھی معاملے کو کسی ملکی سرگرمی کے خلاف سازش قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس نفسیاتی حالت کو مالیخولیا کہا جاتا ہے اور ایرانی علما کی اکثریت کو ماہرینِ نفسیات سے علاج کروانے کی ضرورت ہے۔ بہر حال علمائے کرام کے اس جھوٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ سادہ لوح مریدوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں اور سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کی ہدایات سے کفر کیا۔ اصفہان میں تو مومنین کرام نے عزاداری کا جلوس نکال دیا۔

حقائق سامنے آنے کے بعد بھی قوم سے معافی نہ مانگی گئی

بہر حال نہ تو ارتقاء کی سائنس کوئی جھوٹ ہے نہ کرونا وائرس کوئی مذاق ہے۔ جلد ہی ایران میں حالات تیزی سے بگڑنے لگے۔ آہستہ آہستہ علمائے کرام کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔ ان کے اپنے رشتہ دار اور اہم حکومتی عہدیداروں میں اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے لگیں۔ خطرہ سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ 27 فروری کو رہبر نے سرکاری ٹی وی پر آ کر اس وائرس کے وجود کا اقرار کیا اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس کا سامنا کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسوں کا شکریہ ادا کیا، لیکن تکبر یا خوف کی وجہ سے اپنی غلطی پر معذرت نہ کی۔

مریضوں کی تعداد کو کم کر کے بتایا جا رہا ہے

یکم مارچ کو گرگان کے علاقے سے ایک سرکاری ہسپتال کے سربراہ کی طرف سے حکومتی اہلکاروں کو دی جانے والی بریفنگ کی ویڈیو سامنے آئی۔ اس ویڈیو میں وہ ثبوت دکھا کر انتظامیہ کے افسروں کو بتا رہے ہیں کہ ہمارے ہسپتال میں 594 مریض ایسے آئے ہیں جن کے پھیپھڑے بلغم سے بھرے ہیں، کچھ میں خون ہے۔ وبا کے زمانے میں اتنی بڑی تعداد میں ایسے مریض آنا اس بات کی علامت ہے کہ انہیں کرونا لگ چکا ہے ۔ گرگان کا علاقہ وبا کے مرکز قم سے چھ سو کلومیٹر دور ہے۔ ایرانی حکومت کی طرف سے یکم مارچ کو ملک بھر میں مریضوں کی تعداد 978 بتائی گئی۔

آیت الله خامنہ ای اپنی 24 فروری والی تقریر سے صاف مکر گئے

3 مارچ کو آیت الله خامنہ ای دوبارہ پردہ سکرین پر نمودار ہوئے اور انہوں نے اپنی 24 فروری والی تقریر سے مکر کر صاف صاف جھوٹ بولا کہ ہم نے اس وبا کے بارے میں عوام کو بروقت مطلع کر دیا تھا۔ بہر حال اب چونکہ یہ وبا ایران کی ریاست کو ختم کرنے کی طرف گامزن تھی، دین کو علم کا تابع بنانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ انہوں نے تمام محکموں کو ایرانی محکمۂ صحت کی ہدایات کی پیروی کرنے کی تلقین کی۔ محکمہٴ صحت نے پہلی فرصت میں قم اور مشہد کے مزارات کو لیبارٹریوں میں تیار کردہ خالص ترین الکوحل سے دھویا اور شہروں میں جمعے کی نماز معطل کر دی۔ مشہد کے تکفیری آیت الله علم الہدیٰ نے اب ڈر کر نیا پیغام ریکارڈ کرا دیا جس میں لوگوں کو رش والی جگہوں پر اکٹھا ہونے سے روکتے ہوئے کہا کہ شفا یابی کے لئے امام رضا کے حرم پر آنے کے بجائے گھر بیٹھ کر توسل کریں کیوں کہ شفا ضریح پر لگے سونے چاندی سے نہیں ملتی۔ اگرچہ اب بھی کچھ علمائے کرام اور کچھ انقلابی لوگ ان مزارات پر جا کر انہیں اپنی زبان سے چاٹ رہے ہیں اور اس حرکت کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں، لیکن اب الکوحل نے ان مقامات کو کافی حد تک جراثیم سے پاک کر دیا ہے، نیز عوام کے مطلع ہو جانے کے بعد قم کے امام جمعہ آیت اللہ سعیدی کی طرف سے اعلانات کے باوجود ایرانی عوام کی اکثریت وائرس کے ختم ہونے سے پہلے ان مقدس مقامات کی زیارت کرنے بھی نہیں جا رہے۔ خواہش ہی کی جا سکتی ہے کہ آیت الله سعیدی جیسے جاہل علمائے کرام کے جھانسے میں آ کر ان مزارات پر زبان لگانے والے عقیدت مند بھی بیمار نہیں ہوں گے اور کرونا وائرس کے دوبارہ ان مزارات پر منتقل ہونے کا سبب نہیں بنیں گے۔

ایران میں متاثرین میں علما کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے

تا دمِ تحریر ایران میں اموات کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ شبیری زنجانی کی بہن اور بھانجا کرونا وائرس کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ہلاک شدگان میں آیت الله رضا لنگرودی، آیت الله ہاشم بطحائی، ‏مولانا جمال خلیلیان، مولانا محمد رضا شفیعی، مولانا ہادی خسروشاہی اور مولانا عبدالحمید مقدسیان شامل ہیں۔ آیت اللہ تبریزیان کے شاگرد مولانا شہریار شریفی کرونا وائرس کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ وہ ایران کے قصبے صومعہ سرا میں مرکز طبِ معصومین کے منتظم تھے۔ سرکاری ملازمین میں سے ایران کی نائب صدر محترمہ معصومہ ابتکار اور نائب وزیر صحت اس مرض میں مبتلا ہیں جبکہ مرکزی سیکرٹری زراعت رضا پور خان علی، سپاہ پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف رمضان پور قاسم، رکن پارلیمنٹ محترمہ فاطمہ رہبر، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری مولانا حسین شیخ الاسلام سمیت کچھ نرسیں اور ڈاکٹرز فوت ہو چکے ہیں۔ باقی ممالک کی نسبت ایران میں آئی سی یو کی سہولیات میں کمی کی وجہ سے کئی جوان لوگ بھی راہی عدم ہوئے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے آٹھ فیصد اراکین اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں،عوام میں ٹیسٹ کٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے متاثرین کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

ایران میں وائرس کے وجود کو تسلیم کرنے کے باوجود حکمرانوں کی غیر سنجیدگی

اس وائرس کے وجود کو تسلیم کرنے کے بعد ایران میں ایک اور فاش غلطی کا ارتکاب کیا جاتا رہا اور وہ حکمرانوں کا سنجیدہ نہ ہونا تھا۔ مختلف مولانا حضرات یا عہدیدار اس میں مبتلا ہونے کے بعد ہنستے مسکراتے پیغام ریکارڈ کرا تے رہے کہ ”میں بھی کرونائی ہو گیا، ہا ہا“، جو کہ عوام کے زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔ اس غیر سنجیدگی کی وجہ یہ ہے کہ یہ وائرس فرد کے لئے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ لیکن یہی چیز اسے معیشت کے لئے بہت خطرناک بناتی ہے۔

کورونا وائرس کی سب سے خوفناک بات

اس وائرس میں سب سے خطرناک بات ہی یہ ہے کہ موت کا سبب بننے کی صلاحیت رکھنے والا یہ وائرس ابھی تک صرف دو فیصد مریضوں کو مار رہا ہے۔ بیماری کے شروع کے دنوں میں مریض کو زیادہ نقصان نہیں پہنچاتا، اور اس وجہ سے وہ مریض بیماری سے بے خبر گھر میں محدود ہونے کے بجائے ادھر ادھر کھانستا اور زکام پھینکتا رہتا ہے۔ اس طرح یہ وائرس دوسرے لوگوں کو لگ جاتا ہے۔ چنانچہ اگر اس کے متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہو تو کم شرح کے باوجود اموات کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یعنی اگر آنے والے چند ماہ میں یہ مرض ایران کی ساری آبادی کو لگ جائے تو آہستہ آہستہ اموات کی بڑھتی تعداد ملکی معیشت کا بھٹہ بٹھا دے گی، اور وہ شرح اموات جو نظام صحت اور غذائی اجناس کی تجارت کے قائم رہنے کی صورت میں دو فیصد ہونے کا امکان ہے، بیس فیصد تک بھی جا سکتی ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں جاہل مجتہدین کرام کو لگام دینا بہت ضروری ہے۔

کورونا کو سمجھنے کے لئے ایبولا پر غور کریں

اس نکتے کو مزید بہتر سمجھنے کے لئے ایبولا وائرس کی مثال پر غور کریں جو 1976 میں سامنے آیا اور اس کی شرح اموات 80 فیصد تھی۔ اس وائرس کی حالیہ وبا ابھی چند سال پہلے، 2013 تا 2016، مغربی افریقہ میں آئی۔ لیکن چونکہ اس کی شرح اموات زیادہ ہے لہٰذا یہ وائرس مریض کو بہت زیادہ نقصان پہنچا کر جلد ہی موت سے ہمکنار کر دیتا ہے ۔ پس شرح اموات بلند ہونے کی وجہ سے اس سے متاثر ہونے والے لوگ بیماری کو معاشرے میں منتقل کرنے سے پہلے ہی گر جاتے ہیں۔ ایبولا میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد چند ہزار نفوس تک محدود رہتی ہے اور یہ ملک گیر یا عالمی وبا کی شکل اختیار نہیں کرتا۔

رہنما کی ایک اجتہادی غلطی نے قوم کو موت کے منہ میں دھکیل دیا

ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے کم علمی میں کی گئی اجتہادی غلطی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کرونا وائرس پورے ملک میں پہنچ چکا ہے۔ ایران کے بڑے شہروں میں عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ایک ماہ قبل ماہان ایئر کی چین کو جانے والی پروازیں اور انقلاب کی سالگرہ یا انتخابات وغیرہ کو نہ روکنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پورے ملک میں زندگی کی سرگرمی بہت کم ہو گئی ہے، جس کا مطلب روزانہ کا بھاری معاشی نقصان ہے۔ پہلے عوامی اجتماعات کو ملتوی کیا جاتا تو اب لوگ کم از کم اپنے روزمرہ کے کام جاری رکھ سکتے تھے۔

امریکی پابندیاں ایران کی عوام پر ظلم ہیں

آخر میں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ایران پر امریکی پابندیاں ایرانی محکمۂ صحت کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ اب جبکہ ایرانی علما کی جہالت کی رکاوٹ کافی حد تک دور ہو چکی ہے، تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک اب پابندیوں کی وجہ سے یورپ ، امریکہ یا دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے ادویات اور حفاظتی سامان نہیں خرید سکتا۔ ایران نے آئی ایم ایف سے پانچ بلین ڈالر کا ادھار مانگا ہے جو اس ادارے میں امریکی اثر و رسوخ کی وجہ سے ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگرچہ جنوری میں مساجد اور دیگر عوامی مقامات پر رش ختم کر کے اموات کی تعداد چند سو تک محدود کی جا سکتی تھی، لیکن اب یہ تعداد لاکھوں میں ہونے کا امکان ہے۔ تہران کی بہترین درسگاہ، شریف یونیورسٹی، کے محققین کے علمی تخمینے کے مطابق اگر محکمۂ صحت کی شفارشات پر سختی سے عمل کیا جائے تو اموات کی تعداد بارہ ہزار تک بھی محدود کی جا سکتی ہے۔ لیکن چونکہ عوام کی اکثریت آپس میں میل ملاپ کے دوران ان ہدایات کا کما حقہ خیال نہیں رکھ پاتی، لہٰذا یہ تعداد ایک لاکھ دس ہزار ہلاکتوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر دینی حلقے دوبارہ علم کے باغی ہو جائیں اور عوام کو ورغلا کر سائنس سے کفر پر قائل کر لیں، تو اموات کی تعداد تیس لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔

آیت اللہ خامنہ ای ابھی بھی گھاٹے میں نہیں

ستم ظریفی یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں پورے یقین سے صرف ایک بات کہی جا سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کو اجتہادی خطا کی صرف ایک نیکی ملے گی۔ اس غلطی کا شمار بھی تاریخ کی ان معروف اجتہادی خطاؤں میں ہو گا جن کی وجہ سے ہزاروں لوگ مارے گئے۔

پاکستان میں کورونا کے آنے کی وجہ ایران نہیں تفتان میں حکومتی نااہلی ہے

آخر میں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہمارے ملک میں کرونا وائرس کا آنا ناممکن نہیں تھا، نہ ہی یہ صرف ایران کے راستے سے آیا ہے۔ ہماری حکومت نے تفتان بارڈر پر ایک خیمے میں متعدد افراد کو ٹیسٹ کیے بغیر رکھ کر صحت مند افراد کو بھی اس وائرس میں مبتلا کر کے نااہلی کا ثبوت بھی دیا ہے۔ ائرپورٹس پر بھی لوگوں کے حلق سے نمونے لے کر چیک کرنے کا کوئی بندوبست نہیں ہو سکا۔ بیرون ملک مقیم متعدد پاکستانی بھی نادانی میں ان ممالک میں اس وبا کے پھیلنے کی خبریں سن کر پاکستان لوٹے ہیں، اور اس دوران وہاں کے ائرپورٹس سے اس وائرس کو اٹھا لائے ہیں۔ پاکستان میں ٹیسٹ کٹس کے نہ ہونے کی وجہ سے بروقت تشخیص نہیں ہو سکی اور اعداد و شمار شائع نہیں ہو سکے ہیں، جس نےانہیں اس خوش فہمی میں مبتلا رکھا کہ شاید یہاں یہ وائرس نہیں پھیل رہا۔ اسی طرح بہت سے لوگ یہ سمجھتے رہے کہ گرمیوں میں یہ وائرس نہیں پھیلے گا، جب کہ گرمیوں میں بھی انسان کا جسم تو اسی درجۂ حرارت پر رہتا ہے۔ یوں مشرق بعید، خلیجی ریاستوں اور مغربی ممالک سے بہت سے پاکستانی راستے میں آلودہ ائرپورٹس سے وائرس اٹھاتے وطن آ گئے۔

فرقہ وارانہ تعصب کے جھانسے میں مت آئیں، کورونا کا مل کر مقابلہ کریں

اب ہم نے فرقہ وارانہ یا نسلی تعصب پھیلانے والی تنظیموں کے پراپیگنڈے میں آنے کے بجائے اس وائرس کا مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ ہماری حکومت معاشی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے اس کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس وبا کا سامنا ہمیں مل کر اور سائنس سے رہنمائی لے کر کرنا ہے۔ ہسپتال اس وبا کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، لہٰذا ہمیں گھروں میں مریضوں کی دیکھ بھال کرنا سیکھنا ہو گا۔ ایران کی مثال سے ہم صرف یہ سیکھ سکتے ہیں کہ مذہبی علما ایران جیسے تیل سے مالا مال ملک کو بھی تباہی کے دہانے پر لا سکتے ہیں، لہٰذا ان کے بجائے سائنس اور جدید سماجی علوم سے رہنمائی لینی چاہیے۔


نوٹ: علمی تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہ وائرس کسی لیبارٹری کی پیداوار نہیں ہے اور مصنوعی ارتقاء (جنیٹک انجینئرنگ) کا نتیجہ نہیں ہے۔  اس وائرس کے قدرتی ارتقاء کو سمجھنے کیلئے سترہ مارچ 2020ء کو ”نیچر میڈیسن“ نامی علمی جریدے میں شائع ہونے والے  اس سائنسی مقالے کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *