Type to search

Coronavirus سماج صحت فیچر کورونا وائرس

کرونا سے جنگ میں اپنا سب کچھ کھو دینے والی اطالوی نرس ‘سٹیلا’ کی آپ بیتی،پہلی قسط

اٹلی کے خوبصورت شہر برگامو سے تعلق رکھنے والی پیشے کے اعتبار سے نرسنگ کوچ 29 سالہ سٹیلا اور میری ملاقات لاہور کے پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں سنہ 2018 میں ہوئی تھی۔ وہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تحت ہونے والے سمپوزیم میں ڈائنامکس آف اربن ہیلتھ کئیر اینڈ کمیونٹی سروسنگ کے سیشن کی خصوصی مہمان تھی۔ میں وہاں بطور صحافی کوریج کے لئے موجود تھا۔ میں نے سٹیلا کو انٹرویو بھی کیا لیکن ان سے اصل علیک سلیک کھانے کی میز پر تب ہوئی جب وہ سیخ کباب میں تیز مرچ کو کم کرنے کے لئے اسے پانی کےگلاس میں ڈال کر دھونا چاہ رہی تھی تاہم ایسا کرتے ہوئے سماجی شرمندگی انکے آڑے آرہی تھی۔ میرے لئے کھانے میں مرچ کم کرنے کا یہ قدم بہت نرالا تھا اور یہی میری دلچسپی کا باعث تھا اور یہی وجہ تھی کہ میں نے اسکو ایسا کرنے میں مدد دی۔

وہاں سے شروع ہوا رابطہ دوستی میں تبدیل ہوا اور پچھلے 3 دن تک جاری رہا۔ دوران انکا شہر کرونا کی تباہ کاریوں کا مرکز بنا ہوا تھااور اب اس میں اور شدت آچکی تھی ۔سٹیلا بطور نرس اس تمام صورتحال میں پہلی صفوں میں شامل تھی۔اس دوران اس نے ذاتی اور اجتماعی نقصانات بھی اٹھائے اور اپنی پیشہ ورانہ حیثیت کی وجہ سے وہ اٹلی میں کرونا کی تباہ کاریوں، اس سے ہونے والے ذاتی،اجتماعی جذباتی، سماجی معاشی و قانونی اثرات کی شاہد تھی۔ اور گزشتہ ماہ سے ہماری بات چیت کا موضوع بھی یہ سب تھا۔  “تھا” اس لئے کہ پچھلے 3 دن سے میرا اس سے رابطہ نہیں ہوسکا۔مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے؟ فون نمبر آن ہے لیکن کوئی ریسپانس نہیں آتا۔

لیکن اس سے قبل ہمارے درمیان ہونے والی بات چیت میرے پاس محفوظ ہے جس میں نے اس نے اپنے حالات و احساسات کا تفصیل سے ذکر کر رکھا ہے ۔ اب جبکہ میں بھی کرونا کے باعث خود ساختہ قرنطینہ اختیار کیئے ہوئے ہوں اور پاکستان میں لاک ڈاون کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے بحث چھڑی ہے میں نے اس گفتگو جس میں کہ کرونا سے تباہیوں کا ذکر اور سٹیلا کا اپنا تجزیہ و تجربہ شامل ہے ایک کہانی کی شکل میں قارئن تک پہنچانا چاہا ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ مجھے انکی کوئی خبر جلد ہوگی۔


امیدوں امنگوں سے بھرپور خوش مزاج اور پرجوش نوجوان اطالوی نرس اور میری دوست سٹیلا کہتی ہیں کہ۔ 

ہم میں سے شاید کسی نے سوچا نہیں تھا کہ ہم ہولناک تباہی کے گھیرے میں آچکے تھے۔ سب خوش تھے اور لا پرواہ بھی۔۔ سب ٹھیک تھا۔۔روز مرہ کی طرح۔ تمھیں معلوم ہی ہے کہ مجھے ڈھلتا سورج اور اس سے پگھل پگھل کر ماحول میں گھلتی اداسی کتنی پسند ہے۔ اور پھر اگر یہ شام میرے شہر کی ہو تو اور کیا چاہیئے۔۔یہاں اٹلی میں میرا گھر برگامو شہر میں ہے۔مجھے یہ سب بہت پسند ہے۔ میرا گھر، میرا علاقہ اور یہ شہر!

اسکی خوبصورتی بے مثال ہے۔ میرے دوست تھے یہاں، میرے اپنے سب ادھر تھے۔۔ میں تمہیں بتاتی تو رہتی ہوں، شادی کی تیاریوں کے بارے میں بھی تم جانتے ہو اور ڈینی کو بھی۔ لیکن اب تو یوں ہے کہ جیسے سب کچی پینسل سے لکھا تھا اور کسی نے محض ایک ربڑ سے سب مٹا دیا۔

وہ 21 فروری کی ایسی ہی دلفریب شام تھی۔ 21 فروری کو گزرے ابھی مہینہ ہی ہوا ہے نا۔ لیکن یوں لگتا ہے جیسے میں اک چھلانگ میں صدیاں پھلانگ چکی ہوں۔ ۔مجھے یاد ہے اس شام کو ایلکس کے دوست آئے ہوئے تھے وہ اوپر ویڈیو گیمز کھیل رہے تھے۔موما کا سکول میں فنکشن تھا ، وہ تھک کر آئی تھیں اور سو رہی تھیں۔ بھائی اور اسکے دوستوں کے لئے کافی بنائی اور اپنی کافی لے کر بوریت کے مارے میں بالکونی میں آگئی۔ وہی مجھے یاد ہے کہ اس دن مدھم سے ہوا کے ہلکورے محسوس ہو رہے تھے اور فضا اداس تھی۔

اتنے میں نے دیکھا کہ میرے گھر سے کوئی دس گھر دور مسٹر گرانٹ کے گھر کے سامنے ایمبولنس کھڑی تھی اور سفید لباس میں ملبوس اہلکار گھر میں سے کسی کو سٹریچر پر ڈالے ایمبو لنس میں لے جارہے تھے۔ شام کے دھندلکے میں منظر بھی صاف نہیں تھا۔ ایمانداری سے بتاوں تو میں اس وقت اس معاملے سے لا تعلق رہنا چاہتی تھی۔ شاید میں اسے جان بوجھ کر اندیکھا کرنا چاہ رہی تھی۔ مجھے اس وقت صرف اس شام سے لطف اندوز ہونا تھا۔ میں نے منہ موڑ لیا اور دوسری سمت میں دیکھنے لگی۔ لیکن ذہن میرا وہیں اٹکا تھا۔ 40 سالہ بینکر ، مسٹر گرانٹ کو کیا ہوا ہے؟ پرسوں ہی ان سے مارکیٹ میں ملاقات ہوئی تھی؟ حال احوال پوچھا تو کہہ رہے تھے کہ گلے میں خراش ہے۔ میں چونکہ صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال پاپا گیووانی XIII میں نرس ہوں تو سب مجھ سے اپنی طبعیت بارے ضرور ذکر کرتے ہیں اور اکثر مشورہ بھی چاہتے ہیں۔

چونکہ ٹی وی اور انٹرنیٹ پر ہر طرف کرونا کا غلغلہ تھا میں نے اسی کا ذکر کرتے ہوئے انہیں احتیاط کرنے کا مشورہ دیا تو انہوں نے ہاتھ جھٹک کر اسے ایک میڈیا کا ہنگامہ قرار دیا تھا۔ لیکن ہوا کیا ہے ؟ میرے دماغ کے کسی کونے کو بے چینی ٹہکوے دے رہی تھی۔ ہارٹ اٹیک؟ لیکن وہ تو بہت فٹ ہیں۔ کوئی حادثہ؟ شاید؟ ہو سکتا ہے کوئی فیملی ممبر ہو؟ ہاں انکے 3 بچے اور بیوی بھی ادھر ہی رہتے ہیں شاید ۔ کہیں یہ موذی وائرس تو نہیں؟ نہیں اٹلی میں تو ابھی تک معمولی تعداد ہی ہے۔ اور برگامو میں تو کچھ بھی نہیں۔ میں نے خود کو تسلی دی، سر جھٹک کر سوچوں کا رخ موڑا اور اندر چل دی۔۔

اگلے روز میں ہمیشہ کی طرح ہسپتال کے لئے نکلی تو سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ چمکیلی صبح، ہنستے مسکراتے لوگ، دوکانیں کھولتے دھوپ سے محظوظ ہوتے دوکاندار اور سڑک کے داہنی فٹ پاتھ کے ساتھ اپنے پھولوں کو سجاتی ہوئی “آنٹ اینا”۔

میرے ذہن سے مسٹر گرانٹ محو ہو چکے تھے۔ میں ہسپتال کے مرکزی دروازے سے داخل ہوئی تو مجھے وہاں موجود سٹاف کے چہروں پر پریشانی سی محسوس ہوئی۔ سیکیورٹی کے عملے سے لے کر ساتھی نرسز اور ڈاکٹرز جو بھی مجھے مرکزی دروازے سے کے کر وارڈ تک پہنچنے کے دوران ملا وہ دہشت اور پریشانی سے لبریز سوالیہ آنکھوں سے مجھے دیکھتا نظر آیا۔ اس دن میری ڈیوٹی ایمرجنسی وارڈ میں تھی۔

وارڈ میں داخل ہوئی تو ساتھی عملے کو کرونا کٹس میں ملبوس پایا۔ دائیں جانب بڑی سی سکرین نصب تھی جس پر سرخ رنگ میں تین مرحلوں میں لکھا ہوا آتا ” مسٹر گرانٹ ایمیراگو” عمر 41 سال “کرونا وارڈ”۔۔۔ دل دھک سے بیٹھ گیا۔۔۔ یوں لگا جیسے جس بھوت سے میں کل سے پیچھا چھڑوانے کی کوشش میں تھی وہ میرے سامنے تن کر کھڑا ہوگیا ہے۔ تم یقین کرو شائد وہ آخری بار تھا جب میں نے اس عفریت کے حوالے سے اپنے احساسات کو محسوس کیا تھا۔۔

 

اسکے بعد تو یوں لگا جیسے ہمارا ہسپتال وہ ڈرم ہے جس میں ایک قصائی مرغیوں کی شہ رگ چیر کر تڑپنے کو چھوڑ دیتا ہے اور وہ سانسوں کی ڈور باندھے رکھنے کی آخری کوشش میں پھڑپھڑاتے پھڑپھڑاتے تمام ہو جاتی ہیں۔۔ ابھی میں ایمرجنسی وارڈ کے چینج روم میں کٹ اپ ہوتے ہوئے اپنے آپ کو اس حقیقت کا ادراک کرانے میں مصروف تھی کہ ۔۔۔۔

بقیہ اگلی قسط میں 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *