Type to search

تجزیہ کورونا وائرس

پانچ ہزار زائرین سے بڑا مسئلہ لاکھوں یورپ پلٹ افراد ہیں

‏‎پاکستان میں کرونا کے ہاتھوں پہلی ہلاکت مردان میں ہوئی۔ مریض سعودی عرب سے عمرہ کر کے آیا تھا اور اسے یہ مرض کعبے کی زیارت کے دوران پیدا ہونے والے رش سے لگا۔ اسی دوران ہزاروں افراد عمرہ کر کے لوٹے اور انہوں نے یہ مرض پاکستان پہنچایا۔ اچھی خبر یہ تھی کہ سعودی حکومت نے خانہ کعبہ کو عوام کے لئے بند کر کے اس وبا کے مزید پھیلنے کا سدِ باب کیا ہے۔ اسلام آباد میں تبلیغی جماعت سے وابستہ دو مساجد کو کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے سیل کر دیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے 17 مارچ 2020 کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے چند ہفتوں میں ایئرپورٹس سے 9 لاکھ لوگ پاکستان آئے ہیں، جن کی سکریننگ کی گئی ہے۔


یہ بھی پڑھیے: آیت اللہ خامنہ ای کی ’اجتہادی غلطی‘ ایران کے لئے عذاب بن گئی۔ پاکستان کے لئے سبق کیا؟


یاد رہے کہ اس سکریننگ سے مراد جسم کا درجہ حرارت دیکھنا ہے۔ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں 44 فیصد میں بدن کا درجہ حرارت چند روز بعد بڑھ جاتا ہے اور 89 فیصد کو کسی نہ کسی سطح پر بخار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مریض میں بخار کی علامت ظاہر ہونے میں 2  سے 14 دن لگ سکتے ہیں اور یہ کوئی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ ان 9 لاکھ میں سے کتنے لوگ ایسے ہوں گے جن کو کورونا وائرس بھی ہوگا اور ان میں یہ علامت بھی ظاہر ہو چکی ہوگی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی فیصد مریض تو درجہ حرارت نہ بڑھنے کی وجہ سے نکل گئے ہوں گے۔ جن کا درجہ حرارت بڑھنا تھا، ان میں سے بھی اکثر میں یہ مرض ابتدائی مراحل میں ہو گا اور وہ بھی نکل گئے ہوں گے۔ جن لوگوں کا درجہ حرارت دوران سفر بڑھ گیا، انہوں نے سکریننگ سے پہلے پیراسیٹامول کھا کر چکمہ دے لیا۔ پاکستان کے ایئرپورٹس پر حکومت نے جو تھرمامیٹر فراہم کیے وہ پیشانی کو چھوئے بغیر ٹمپریچر معلوم کرتے ہیں۔ ان کے استعمال کے لئے بھی عملے کو تربیت دینے کا وقت نہ تھا۔ کچھ مریض عملے کی طرف سے درست استعمال نہ کرنے کی وجہ سے نکل گئے ہوں گے۔ جن تھوڑے سے لوگوں کا ٹمپریچر بڑھا ہوا دیکھا گیا، ان سے رشوت لے کر جانے دیا گیا کیونکہ ایئرپورٹس پر قرنطینہ کی سہولیات نہ تھیں۔ گجرات میں ایک شخص نے اس بات کو تسلیم بھی کیا ہے۔

ان میں اکثر وہ دوہری شہریت والے پاکستانی ہیں جو اس چکر میں آ گئے کہ شاید پاکستان میں کرونا نہیں ہے۔ جب یورپ میں کرونا کی آمد ہوئی تویہ افراد دھڑا دھڑ پاکستان آنے لگے۔ اوپر سے وطن عزیز میں شادیوں کا سیزن بھی چل رہا ہے۔ وہ یورپ کے ایئرپورٹس سے کرونا اٹھا لائے ہیں اور اب شادیوں میں شریک ہو رہے ہیں، برادریوں سے مل رہے ہیں، دس دس سال پہلے فوت ہونے والے مرحومین کا افسوس کر رہےہیں۔ رائے ونڈ میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں بھی یورپ پلٹ پاکستانیوں کے گروہ شریک ہوئے اور وہاں سے یہ وبا پورے ملک میں پھیل گئی ہے۔

مولانا ناصر مدنی کو حق خطیب سرکار نامی پیر صاحب کے جن مریدوں نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے، مولانا صاحب کے مطابق انہوں نے ان کو دعوت دیتے وقت یہ کہا تھا کہ ہم انگلستان میں پھیلنے والے کرونا وائرس سے بچ کر پاکستان آئے ہوئے ہیں۔

اس دوران ہماری توجہ تفتان بارڈر پر رہی۔ وہ علاقہ شہری آبادیوں سے دور اور حکومتی توجہ سے محروم ہے۔ اس بارڈر سے پانچ ہزار زائرین داخل ہوئے جن میں سے چند ایک کرونا وائرس کا شکار تھے۔ حکومت نے ان کو وہیں روکنے کا فیصلہ تو کیا مگر مریضوں کو صحت مند لوگوں سے الگ کرنے کے بجائے ایک تنگ سی جگہ پر سب کو کئی دن جانوروں کی طرح بند رکھا۔ اس سے جو بیچارے صحت مند تھے وہ بھی مریض ہو گئے۔ البتہ بعد میں ان زائرین کو گھروں میں بھیجنے کے بجائے صوبائی سطح پر بنائے گئے قرنطینہ مرکز میں رکھ کر ان پر اور ان کے خاندانوں کو اس بیماری سے بچا لیا گیا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو تبلیغی جماعت کی طرح یہ زائرین بھی وائرس پھیلا سکتے تھے، جن سے ان کے ہم مسلک افراد کو ہی زیادہ نقصان ہونا تھا۔

اب یہ سمجھنے کا وقت ہے کہ حکومت سے اس وبا کے خلاف کوئی موثر اقدام اٹھانے کی امید عبث ہے۔ عوام کو خود ہی ان حضرات سے پندرہ دن کے لئے دور رہنا چاہیے جو باہر سے آئے ہیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال صاحب نے بھی ان نو لاکھ یورپ پلٹ افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ کم از کم دس دن اپنے گھروں میں محدود رہیں۔

اس افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سپاہ صحابہ کے رہنماؤں نے شیعہ مخالف نفرت کو ہوا دینا شروع کر دی ہے۔ مولانا اورنگزیب فاروقی نے مدارس کے بھولے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کرونا وائرس کو ایران کی سازش قرار دیا ہے اور پاکستانی شیعوں کو اس سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ مدارس کے طلبہ کو عموماً اخباروں تک رسائی بھی حاصل نہیں ہوتی۔ اوپر سے اگر وہ سپاہ صحابہ جیسی کلٹ کا حصہ ہوں، تو ان کے سامنے کسی کمزور طبقے کو خطرناک بنا کر پیش کرنا آسان ہوتا ہے۔ ایسی نفرت انگیزی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سادہ اور غریب طلبہ آسانی سے دہشتگردی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ سپاہ صحابہ کا مقصد یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو کرونا کا انتقام لینے کے نام پر شیعہ مخالف دہشتگردی کے لئے بھرتی کر لیا جائے۔ اس حساس موقعے پر امن و امان کے ذمہ دار اداروں کو ایسے عناصر پر نظر رکھنا ہو گی۔

ایک اور بڑی مصیبت علمائے کرام کا سائنس کے خلاف جہاد ہے۔ مدارس کا نصاب ان کو جدید علوم سے بالکل بے بہرہ رکھتا ہے اور جب ان کے پسماندہ اذہان جدید دور کو سمجھ نہیں پاتے تو اپنے سوالوں کا علمی جواب حاصل کرنے کے لئے درکار محنت کرنے کے بجائے، ہر چیز کو انگریزوں یا یہودیوں یا مخالف مسلک کی سازش قرار دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سانحہ معروف مالیخولیا زدہ خرافاتی عالم جان علی شاہ کاظمی کی شکل میں سامنے آیا ہے جو یوٹیوب پر گمراہی پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے بڑھاپے میں کسی طرح ابن سینا کی القانون پڑھ لی ہے تو گویا میڈیکل سائنس کا سارا علم ان کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ ہزار سال پرانی کتاب القانون کو سائنس کی دنیا میں متروک ہوئے پانچ سو سال ہو چکے ہیں۔ جان علی کاظمی صاحب ایک محقق کا سوانگ بھر کر کرونا وائرس کے ماہر بنے پھرتے ہیں۔ ان کے علمِ طب کا جائزہ ایک مضمون بعنوان ’قم کا ابوجہل‘ میں پیش کیا جا چکا ہے۔ ایسے جاہل لوگوں کی باتوں میں آ کر سکھر میں علامہ ناظر عباس نقوی نے قرنطینہ کیے گئے زائرین کو گمراہ کر کے اپنی خدمت پر معمور اہلکاروں کے خلاف کھڑا کر دیا۔ علامہ علی رضا رضوی کا کہنا ہے کہ زیارت عاشورا پڑھنے سے اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے تو علامہ فاضل موسوی قرآن سے اپنا بال نکال کر اس کو پانی میں دبونے سے پانی کے تریاق میں بدل جانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ جہل مرکب کا شکار یہ مقدس جہلا بہت خطرناک ہیں۔ ان جاہل ’علما‘ کو اتنی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ ایران کے جاہل علما کی طرف سے کرونا کو انتخابات اور عزاداری کے خلاف سازش قرار دینے اور ایک مہینہ اس کا انکار کرنے کا جو نقصان ہوا ہے، اسے دیکھ کر ہی عبرت پکڑ لیں۔

ماضی میں وبا اچانک آتی تھی۔ یہ بھی معلوم نہ ہوتا تھا کہ وائرس ہے یا بیکٹیریا، اور کیسے پھیل رہا ہے؟ اب سائنس کی مدد سے شروع میں پتہ چل جاتا ہے۔ پچھلی صدی کی وباؤں کا کیا تذکرہ کیا جائے، اسی صدی میں سائنس نے ہمیں سارس، ایبولا، میرس اور ڈینگی کی وباؤ ں سے نجات دلائی ہے۔ اب اس وائرس سے بچاؤ کے طریقے بھی سائنس بتا چکی ہے، اور وبا آنے سے پہلے اس کی اطلاع دے چکی ہے۔ اب بھی ہمارے لوگ مریں تو خودکشی ہے۔ ڈینگی تو مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا تھا، حکومت نے مچھر مار کر قابو پا لیا۔ اب اس مرتبہ عوام کے اپنے شعور پر سارا دارومدار ہے۔

باقی مسالک کے علمائے کرام بھی کرونا کش تقاریر سے محافل گرما رہے ہیں۔ کراچی میں جماعت اسلامی نےاجتماعی توبہ کی محفل سجائی ہے۔ جمعہ و جماعت کے اجتماعات جاری ہیں۔ رائے ونڈ کا تبلیغی مرکز حکومتی اپیل کے باوجود کھلا ہے۔ مجالس عزا اور جشنِ ولادت منائے جا رہے ہیں۔ اویس رضا قادری صاحب اپنے لچھے دار انداز میں فرماتے ہیں کہ ملک کے کونے کونے میں درود کی محفلیں سجا کر کرونا سے بچا جا سکتا ہے۔ ایسے حالات میں جب صرف ضروری تجارت کے علاوہ باقی سب سرگرمیاں بند ہونی چاہئیں، علما سائنس کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں۔ ہندوستان میں گائے موتر پینے کی محفلوں کا مذاق اڑانے سے پہلے اپنے یہاں کے مذہب سے شفا مانگنے والوں کا کچھ کرنا ہو گا، جو ان سے کم جاہل نہیں ہیں۔ حکومت کو منبر سے گمراہی پھیلا کر صحتِ عامہ کو خطرے میں ڈالنے والے علمائے کرام پر بھی نظر رکھنا ہو گی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *