Type to search

تجزیہ سیاست

مولانا طارق جمیل کی شہرت اور تبلیغی جماعت کی دہشت گردی کے لئے ’خدمات‘

  • 1.3K
    Shares

بہت لوگوں کو مولانا طارق جمیل اور تبلیغی جماعت پر میری تنقیدی پوسٹس پر اعتراض ہے۔ ایسے لوگ مُجھے مذہب دُشمن اور اللہ معاف کرے اسلام سے خارج تک کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ تو اب مُجھ پر فرض تھا کہ ایسے لوگوں کو ٹھوس ثبوتوں اور دلائل کے ساتھ جواب دوں کہ میں ایسا کیوں سمجھتا ہوں کہ مولانا طارق جمیل اور تبلیغی جماعت نہ صرف دہشت گردی کی نرسری بلکہ یہ بہت حد تک پاکستان میں حرام کی کمائی کو اپنی مذہبی شناخت کو کیش کرتے ہوئے حلال کرنے میں بھی مُلوث ہیں۔

تبلیغی جماعت دہشتگردوں کی فیکٹری

سب سے پہلے تبلیغی جماعت کو لیجئے۔ پاکستانی ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ تبلیغی جماعت حزب التحریر سے زیادہ خطرناک ہے۔ ریاستی ادارے شاید اپنے وقتی فائدے کے لئے اِس جماعت کی پُشت پناہی تو کر رہے ہیں مگر یاد رکھیے ایسی ہی پُشت پناہی ماضی میں عسکریت پسند تنظیموں کو بھی دی گئی تھی لیکن پھر وہ ایسا کینسر ثابت ہوئے کہ ستر ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں، پولیس اور فوجی جوانوں کو نگل گئے۔

ہم تبلیغی جماعت کی صورت میں ایک اور بھیڑیے کی پرورش کر رہے ہیں جو بظاہر جمہوریت کے ریوڑ سے ایک ایک کر کے ہمیں بھیڑیں تو الگ کر کے دے رہے ہیں لیکن یہ بھیڑیں بالآخر دہشت گردوں کے حصے میں ہی آ رہی ہیں۔ کورونا وائرس بحران میں اِس جماعت نے حکومتی ہدایات کو ہوا میں اُڑا کر جِس طرح کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی کوشش کی ہے۔ یہ نُقصان تو بھارت ہمیں شاید ایٹمی حملے سے بھی نہ پہنچا سکے۔

رائیونڈ اجتماع کا کورونا وائرس پھیلانے میں کردار

رائے ونڈ اجتماع سے ہی تبلیغی جماعت کے گروپس کی تشکیل ہوتی ہے جو مُلک بھر میں پھیل جاتے ہیں اور مُبینہ تبلیغ کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک گروپ نے اسلام آباد کے نواح میں واقع گُنجان ترین آباد بہارہ کہو میں ایک چھوٹی سی یونین کونسل میں بارہ افراد کو مُہلک کرونا وائرس مُنتقل کردیا اور اب مردان جہاں کرونا وائرس کے پہلے مریض کی ہلاکت ہوئی تھی وہاں لاک ڈاؤن کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے ہزاروں ارکان کا اجتماع منعقد کیا ہے۔ بنوں اور مردان میں تبلیغی جماعت کے ارکان کرونا فراڈ نامی ترانے گاتے رہے۔ یہ سب کُچھ ریاستِ پاکستان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہیے۔ اگر نہیں تو تھوڑا ماضی میں چلے جاتے ہیں۔

خالد سجناں کا دہشتگرد بننے کا سفر تبلیغی جماعت سے شروع ہوا

حال ہی میں تحریکِ طالبان پاکستان کے مارے جانے والے ڈپٹی امیر خالد سعید سجناں نے کبھی کسی مدرسے میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی بلکہ ایک کالج میں پڑھ رہے تھے جہاں سے اُن کے تبلیغی جماعت سے روابط ہوئے۔ تبلیغی جماعت سے حاصل ہونے والی تعلیم و تربیت ہی بالآخر اُن کے انتہا پسند بننے اور پھر تحریکِ طالبان پاکستان نامی تنظیم کا دہشت گرد بننے کی بُنیاد بنی۔

محمد الیاس نے تبلیغی جماعت سے القاعدہ کے لئے دہشتگرد بھرتی کیے

اِسی طرح القاعدہ سے مُنسلک دہشت گرد مُحمد الیاس افغانستان میں گرفتار ہوا اور گوانتانامو بے میں قید کاٹ کر پاکستان واپس آیا۔ دورانِ تفتیش مُحمد الیاس نے انکشاف کیا کہ وہ تبلیغی جماعت کی تکنیک استعمال کر کے القاعدہ کے لئے دہشت گرد بھرتی کرتا تھا۔ بات صرف پاکستانی نژاد دہشت گردوں کی نہیں، تبلیغی جماعت پاکستان کی عالمی بدنامی کا باعث بھی بنی۔

امریکی دہشتگرد جان واکر اور 7/7 کے دہشتگردوں کا تبلیغی جماعت سے واسطہ

امریکی دہشت گرد جان واکر بھی افغانستان میں طالبان کا رُکن بننے سے پہلے 1998 میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شِرکت کے لئے پاکستان کا سفر کر چُکا تھا۔ اِسی طرح 2005 میں برطانیہ میں بم دھماکوں کے مُجرم دہشت گرد صدیق خان اور شہزاد خان بھی تبلیغی جماعت کے لیکچرز اٹینڈ کرنے کے بعد ہی انتہا پسندی کی طرف راغب ہوئے اور اُن کی انتہا پسندی اُن کو پاکستان لے آئی جہاں سے واپس آ کر انجام لندن بم دھماکوں پر ہوا۔

لیکن کیا تبلیغی جماعت دہشتگردی کا سبق دیتی ہے؟

یقیناً آپ سب کے ذہنوں میں سوال پیدا ہو رہا ہوگا کہ تبلیغی جماعت نے تو آج تک کسی کو دہشت گردی کی ترغیب نہیں دی۔ بالکل ایسا ہی ہے۔ تبلیغی جماعت کے گروہ مساجد یا گھر گھر جا کر تبلیغ میں ایسی کوئی بات نہیں کہتے لیکن تبلیغی جماعت اپنے انتہائی محدود پیغام سے آپ پر جستجو کے ایسے دروازے کھول دیتی ہے جِس کے بعد ہر مُسلمان دین کو مزید جاننے کے لئے اپنی سمجھ بوجھ کے مُطابق علما کرام اور مُختلف مکاتبِ فِکر کے مولویوں سے رجوع کرتا ہے اور یہی وہ موقع ہوتا ہے جب وہ انڈے سے نکلا ہوا ایسا چوزا ثابت ہوتا ہے جِس کو انتہا پسند چِیلیں اُچک کر لے جاتی ہیں اور پھر اُس کی واپسی ایک دہشت گرد کے روپ میں ہوتی ہے۔

مولانا طارق جمیل اور تبلیغی جماعت کا اثر و رسوخ

اب تھوڑا ذِکر مولانا طارق جمیل کا بھی ہوجائے جو تبلیغی جماعت کا ہی ایک چہرہ ہیں۔ گو کہ اب تبلیغی جماعت اُن سے فاصلہ اختیار کرنا چاہ رہی ہے لیکن مولانا طارق جمیل کی مشکوک سرگرمیوں کی نہ تو مُذمت کر رہی ہے اور نہ ہی مولانا طارق جمیل کے اِس اثرو رسوخ میں جماعت کے نام اور سپورٹ سے انکار کر سکتی ہے۔ مولانا طارق جمیل شہرت کے بھوکے ہیں اور اگر آپ اُن کی سرگرمیوں کو غور سے دیکھیں تو وہ ہر امیر اور طاقتور کے دسترخوان کی زینت بنتے ہیں، چاہے وہ کتنا بڑا کرپٹ، چور، قبضہ مافیا اور اُٹھائی گیر نہ ہو۔

تبلیغی جماعت کے مضاربہ سکینڈل میں شامل ارکان کو طارق جمیل کی پشت پناہی

مولانا طارق جمیل اِن تمام طبقات کے بچوں کے نکاح سے لے کر رشتہ داروں کے جنازے تک پڑھانے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے ارکان نے مُضاربہ سکینڈل میں اربوں روپے ہتھیا لیے لیکن مولانا طارق جمیل نے اُن کی سپورٹ کُچھ یوں کی کہ اُن کی مذمت بھی نہ کی بلکہ اُس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی سے مُلاقاتیں کر کے ماتحت عدلیہ اور نیب کو واضح پیغام دیا کہ آپ ہمیں ہاتھ نہیں لگا سکتے۔

وینا ملک، عامر خان، شاہد آفریدی کی فین بیس کے ذریعے ملک ریاض کا دفاع

شہرت کے لئے کبھی وینا ملک اور کبھی عامر خان اور کبھی شاہد آفریدی کے ساتھ تصویریں ریلیز کروا کر اُن کی فین فالؤنگ کو بھی بہت چالاکی اور عیاری سے اپنا مُرید بناتے چلے جاتے ہیں۔ حال ہی میں کورونا وائرس پر ایک نجی ٹی وی چینل نے ہونے والی دعائیہ ٹرانسمیشن میں پاکستان میں زمینوں پر سب سے بڑے قبضہ مافیا ملک ریاض کے لئے رِقت آمیز دُعا کرواتے رہے۔ ملک ریاض کون؟ جی ہاں وہی ملک ریاض جِس نے کراچی کے نواح میں سینکڑوں گوٹھوں کے لاکھوں مکینوں کو زبردستی بے گھر کر کے بحریہ ٹاؤن کراچی کھڑا کیا، سُپریم کورٹ کے نوٹس لینے پر ظُلم کی یہ تمام داستانیں سچ ثابت ہوئیں اور ملک ریاض نے 460 ارب روپے جُرمانہ قبول کر کے جان چُھڑوائی۔

ملک ریاض اور تاجی کھوکھر کا تعلق، اور مولانا عبدالعزیز کی مالی امداد

اگر آپ نے یہ دِل دہلا دینے والی داستانیں پڑھنی ہوں تو 8 اپریل 2019 اور 28 ستمبر 2019 کی ڈان اخبار کی دو تحقیقاتی سٹوریز پڑھ لیں۔ اِس سے قبل ملک ریاض کی فورتھ شیڈول پر موجود راولپنڈی کے تاجی کھوکھر کی مدد سے راولپنڈی میں قبضوں کی داستانیں بھی کسی سے ڈھکی چُھی نہیں۔ اور یہ ملک ریاض اور تاجی کھوکھر ہی ہیں جو لال مسجد کے انتہا پسند خطیب مولانا عبدالعزیز کی مالی سپورٹ کرتے ہیں۔ اور اب ایک ایسے کرپٹ کردار ملک ریاض جِس کے مُتاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہوگی کے لئے مولانا طارق جمیل دُعا کروانا نہیں بھولتے۔

کیا یہ میڈیکل سٹاف کسی دعا کے حقدار نہ تھے؟

ہاں لیکن پوری ٹرانسمیشن میں کورونا وائرس سے جنگ لڑنے والے ہزاروں ڈاکٹرز، نرسز اور میڈیکل سٹاف کے بیٹے بیٹیوں کے لئے مولانا طارق جمیل کی زُبان سے ایک دُعا نہ نکلی۔ ابھی بھی اگر آپ کو مولانا طارق جمیل کے رانگ نمبر ہونے کے لئے بحث کرنی ہے تو جاری رکھیے۔ اللہ تعالیٰ نے قُرآنِ پاک میں اِسی لئے دلوں پر مُہریں لگا دینے کا ذکر فرمایا ہے۔

Tags:

2 Comments

  1. khalid مارچ 24, 2020

    TJ never a word against Pakistani Taliban.

    جواب دیں
  2. Abidi اپریل 1, 2020

    اسد علی طور: A indecent moron. Few Facts – More and more cringe.

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *