Type to search

تجزیہ

قرنطینہ کیوں ضروری ہے؟

نومبر 2019 کو کورونا نامی وائرس نے چین کے شہر ووہان میں سر اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے قریبا دنیا بھر کو اس وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ 11 مارچ 2020 کو عالمی ادارہ برائے صحت نے کورونا وائرس کو عالمی وباء قرار دیا۔ اب تک اس وباء نے لگ بھگ 2 لاکھ افراد کو متاثر کیا ہیں جبکہ اسی وباء کی وجہ سے کئی ہزار افراد جان سے گئے ہیں۔ کورونا نامی وباء سے چین، ایران اور اٹلی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور 29 فروری کو یہ وباء ایران کے راستے پاکستان تک پہنچ گئی۔ اور تاحال 1 ہزار کے قریب افراد کو اس وباء نے متاثر کیا  جن میں سے یہ سطریں لکھنے تک 7 افراد کی موت واقع ہوچکی ہے۔
ابھی تک طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وباء سے بچنے کا واحد طریقہ قرنطینہ میں رہنا ہے۔ جیسا کہ چند روز قبل وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس بریفنگ میں کہا کہ وائرس تب تک آپ کے گھر میں نہیں آتا جب تک آپ اسے اپنے ساتھ باہر سے لے کر نہیں آتے۔ تو ان کا یہ کہنا بجا ہے کیونکہ ہمارے عوام ابھی تک کورونا کو محض مذاق سمجھ کر ٹال رہے ہیں، اور ایمان کی مضبوطی پر ہر خاص و عام زور دے رہا ہے۔ لیکن ان کے علم میں ہونا چاہئیے کہ کورونا وائرس کا تعلق ایمان کی مضبوطی سے نہیں بلکہ ایمیون سسٹم (قوت مدافعت) کی مضبوطی سے ہے۔ کورونا وائرس دراصل نزلہ، کھانسی، تیز بخار، جسم میں درد، اور سانس میں مشکل آنے کا نام ہے لیکن یہ جان لیوا تب ثابت ہوتا ہے جب متاثرہ شخص ہواس باختہ ہوجائے یا پھر اس کا قوت مدافعت کمزور پڑ جائے۔
قرنطینہ دراصل باہر کی دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے اور گھر تک محدود رہنے کا نام ہے۔ چونکہ کورونا ایسا وائرس ہے کہ اگر یہ ایک شخص  کے ہاتھ پر لگ جائے تو وہ جس چیز کو چھوتا ہے وائرس اس چیز پر منتقل ہوجاتا ہے اور پھر اس چیز کو جتنے بھی لوگ چھوتے ہیں اگر وہ اپنا ہاتھ ناک، منہ، کان یا آنکھ کے ساتھ لگاتے ہیں تو وائرس ان کے جسم میں داخل ہوکر نشوونما پاتا ہے۔ اور جب تک اس شخص کو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہوا ہے تب تک اس نے مزید کئی افراد کو اس مرض میں مبتلا کیا ہوتا ہے۔ اسی لئے ضروری ہے کہ ہر شہری  قومی و اخلاقی ذمہ داری کے طور پر اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر قرنطینہ اختیار کرلیں۔ تاکہ اس طرح وہ اپنی حفاظت بھی کرے اور دوسرے کو بھی اس وباء سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس وباء سے جیسا کہ حکومت پاکستان نے تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند کئے ہیں، تاکہ اس وائرس کا وطن عزیز سے صفایا ممکن ہو سکے۔
سندھ، پنجاب، خیبر پختونخواء سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں لاک ڈاؤن ہوچکا ہے اور اسلام آباد میں بھی لاک ڈاؤن کی سی صورتحال ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں کیونکہ عمومی طور پر ہمارے گلیوں و  محلوں میں اب تک یہ صورت حال سامنے آرہی ہیں کہ لوگ گھروں سے باہر ٹولیوں کی شکل میں گھومتے ہیں جبکہ حفاظتی تدابیر جیسا کہ ماسک پہننے، دوسرے افراد کے ساتھ 3 فٹ کا فاصلہ رکھنے، چیزوں کو چھونے سے پرہیز کرنا وغیرہ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔
علاوہ ازیں گھروں پر لوگ حسب معمول دعوت سمیت مذہبی تقاریب و جلوس منعقد کررہے ہیں۔ اگر ایسا ہی چلتا رہے گا تو کورونا نامی وباء پر ہم پھر کیسے قابو پائینگے؟ اور عوام ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ اگر کورونا نامی جن ہمارے ملک میں قابو سے نکل گیا تو اسے دوبارہ بوتل میں بند کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ جبکہ لوگ چائنہ، ایران اور اٹلی میں اس وباء سے ہونے والی اموات اور افراتفری کو بھول جائیں گے۔ خاص طور پر ایسے عالم میں جب وائرس پھیلنے کی رفتار تیز اور نسبتا ہماری کارکردگی کی رفتار کم ہو۔ اب اگر ایسے وقت میں جب ملک پہلے سے ہی مشکل معاشی حالات سے گزر رہا تھا اور اوپر سے کورونا نامی وباء نے ہمیں آڑے ہاتھوں لیا تو لاک ڈاؤن کے آپشن پر جانا پڑا، جس سے مزید معاشی مشکلات پیدا ہونگی۔ اب اگر عوام گھروں تک محدود قرنطینہ میں نہیں رہتے اور گلیوں، محلوں میں نکلتے رہینگے اور حفاظتی تدابیر بھی نہیں اپنائیں گے تو  یہ پھر خطرے کی گھنٹی ہے۔
دینی نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ” جب آپ کو کسی علاقے میں وباء پھوٹنے کا علم ہوجائے تو آپ اس علاقے میں نہ جائے، لیکن اگرکوئی پہلے سے اس علاقے میں موجود ہے جہاں پر کوئی وباء پھوٹ پڑی ہے، تو اس علاقے کو چھوڑ کر باہر نہ جائے۔” کورونا نامی اس وباء کے معاملے میں ہم نے اس حدیث پر عمل نہیں کیا اور اس وباء کو ہم نے وطن عزیز میں داخل کرالیا۔
اب بھی وقت ہے کہ عوام ہوش کے ناخن لے اور ہر شہری قرنطینہ کو ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ رسول پاک ﷺ کی حدیث مبارکہ پر عمل درآمد تصور کرکے اس وباء کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ دریں اثناء حکومت پاکستان جو بھی ہدایات جاری کرتی ہیں ان پر من و عن عمل کیا جائے۔ حال ہی میں اسلام آباد کے نواحی علاقے بھارہ کہو میں کرغستان سے تبلیغ کی غرض سے آنے والے عبدالمومن سمیت جن 6 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے تو اس سے متعلق یہاں عرض کردو کہ اس تبلیغی جماعت کی تقریبا ایک ماہ سے بھارہ کہو  تشکیل ہوئی ہے اور ممکن ہے کہ وائرس بھارہ کہو میں ہی ان کو منتقل ہوا ہو۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ کورونا وائرس بھارہ کہو میں شاید پہلے سے ہی موجود تھا اسی لیے عوام و انتظامیہ خبردار رہیں
Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *