Type to search

بلاگ تجزیہ حکومت سیاست

جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے

  • 3
    Shares

کرونا نے اس طرح ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ اس وبا کے علاوہ نہ کوئی بات خبروں میں سنائی دیتی ہے اور نہ ہی ٹاک شوز میں کسی اور بات کا ذکر ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اپنی پوری قوت اور استعداد کے مطابق اس وبا سے نمٹنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے لیکن ایک ہماری حکومت ہے جس کی ترجیحات ہی کچھ اور ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ پاکستان میں بھی یہ وبا پھیل رہی ہے حکومت کی چاہیے تھا کہ وہ ملک کی چاروں صوبائی حکومتوں اور ملک کی تمام نمایاں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیتی لیکن وزیراعظم اور ان کے وزارا کو اپنے سیاسی مخالفین پر طبرہ بھیجنے سے ہی فرصت نہیں۔ کہنے کو حکومت کا کہنا یہ ہے کہ اس مشکل وقت میں سب کو متحد ہو کر اس وبا سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے لیکن حالت یہ ہے کہ جناب وزیراعظم نے اسپیکر قومی اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس میں شریک حزب اختلاف کے دو بڑی جماعتوں کے سربراہوں کی بات سننے سے انکار کر دیا اور اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

مسلم لیگ ن کے دو اہم رہنما سابق وزیراعظم شاہد حاقان عباسی اور احسن اقبال جس دن سے ضمانت پر رہا ہوئے ہیں حکومتی نااہلی اور نالائقی پر سخت الفاظ میں تنقید کر رہے ہیں۔ کہنے کو یہ حکومت جہموریت کی بہت دعویدار بنتی ہے لیکن حقائق کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی کھری کھری باتوں کا حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے لہذا انہیں دوبارہ پابند سلاسل کرنے کیلئے حکومت نے اپنی ذیلی تنظیم نیب کو پھر متحرک کیا ہے اور وہاں سے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کروائے گئے ہیں۔ وزیراعظم کو شائد یاد نہ ہو کہ ان کے خلاف بھی درج کئی مقدمات ‘مناسب’ وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ پی ٹی وی حملہ کیس، پولیس اسٹیشن سے اپنے غنڈوں کو زبردستی چھڑانے کا کیس، پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاؤس پر حملہ کیس، ہیلی کاپٹر کیس اور سب سے بڑا فارن فنڈنگ کا کیس۔ یہ تمام کیس موجود ہیں اور وزیراعظم کے اقتدار سے الگ ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات اور انہیں جیل بھیجنے کی خوشی آنے والے وقت میں ان کے لئے پھندہ نہ بن جائے کیونکہ انتقام کی جو ریت وہ ڈال رہے ہیں کل اس کے نتائج بھگتنے کیلئے بھی انہیں تیار رہنا چاہیے۔ سدا اقتدار و اختیار صرف باری تعالی کا ہے باقی تو چند روز کی بادشاہی ہے۔

جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے

کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *