Type to search

Coronavirus خبریں

عمران خان اپنے کارکنوں کو ٹائیگر کہہ کر کیوں پکارتے ہیں؟ عمران خان کے کتے سے منسوب واقعہ

  • 41
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    41
    Shares

دنیا بھر میں کرونا روز ہزاروں کے حساب سے زندگیوں کے چراغ  گل کر رہا ہے۔ پاکستان میں بھی اب اس وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں پاکستانی حکومت ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ اس کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔

اس ساری انتظامی افراتفری میں وزیر اعظم کی جانب سے ایک ٹائگر فورس بنانے کا اعلان کیا گیا ہے جس کا کام کرونا کی وجہ سے لاک ڈاون میں بند افراد تک خوراک اور دیگر اشیا پہنچانا ہے۔  جب سے عمران خان نے اس ٹائیگر فورس کا اعلان کیا ہے اس کے قیام کو لے کر بہت تنقید ہو رہی ہے۔ اور اسے تحریک انصاف کا سیاسی سٹنٹ کہا جا رہاہے۔ اور اسکے نام ٹائیگر پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں اور اس نام کے پیچھے وجہ تلاش کی جا رہی ہے۔

اب اسی تناظرمیں ایک دلچسپ بات کا انکشاف ہوا ہے اور وزیراعظم عمران خان کی ٹائیگر فورس کے نام کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے۔  ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو کے دوران ایک سیاسی رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی کارکنوں کو کتا سمجھتے ہیں۔ کیونکہ عمران خان کے پاس ایک کتا تھا جس کا نام انہوں نے ٹائیگر رکھا ہوا تھا۔  وہ کہتے ہیں کہ یہ شوکت خانم کی تعمیر کی تحریک چلانے کا زمانے تھا۔ اسی زمانے میں پہلی بار عمران خان نے ٹائیگر فورس بھی بنائی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ اس فورس کا حصہ تھے اور عمران خان کو ملنے انکے گھر زمان پارک گئے۔

وہاں عمران کے کتے ٹائیگر نے ان پر حملہ کیا۔ جس پر عمران خان نے اسے زور دار آواز میں ٹائیگر پکارا تو وہ سہم کر بیٹھ گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے سینے پر عمرانز ٹائیگر کا بیج لگا ہوا تھا۔ وہ کبھی اپنے بیج کو دیکھتے کبھی عمران خان کو۔ آخر کار شرمندگی کے مارے انہوں نے وہ بیج عمران خان کے خدمت گزار بابا خان بیگ کو بیج اتار کر تھمایا اور پھر کبھی واپسی کی راہ نہیں لی۔ انکا کہنا تھا کہ عمران خان کی اپنے ورکرز کی جانب یہی ذہنیت ہے۔

 

یاد رہے کہ یہ نجی ٹی وی کا یہ کپ صحافی ارشد شریف نے شیئرکیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کا ٹرینڈ بنایا گیا تھا۔ تاہم یہ کپ اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا تھا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *