Type to search

تجزیہ حکومت کورونا وائرس

کیا کراچی میں کرونا کی وبا سے جاں بحق ہونے والے افراد کو قبر کی جگہ نصیب ہوپائے گی؟

انسانوں نے” زمین “کے لئے “متعدد استعمالات” وضع کئے،لیکن جو سب سے زیادہ مستقل اور دیر پا استعمال نظر آتا ہے۔ وہ ہے زمین کا مردے کی تدفین کے لئے استعمال یعنی “قبرستان”۔شہر کی منصوبہ بندی میں قبرستان کی پریشانی اکثر نہیں ہوتی -لیکن  چونکہ  قبرستان کے لئے زمین کا استعمال، مستقل استعمال کے زمرے میں آتا ہے  یوں  قبرستان کی مستقل مزاجی سے متعلق فیصلے غیرمعمولی طور پر اہم ہوتے ہیں۔

شہری منصوبہ ساز جانتے ہیں، کہ کوئی بھی عمارت اپنی افادیت سے دو یا تین نسلوں میں فائدہ پہنچا سکتی ہے اور اگر عمارت کو  کسی خاص شہری ضرورت کے تحت ہٹانا ہو تو طریقہ کار نسبتا آسان ہےحالانکہ لاگت زیادہ ہوسکتی ہے۔ مگر یہ معاملہ ‘ قبرستان ‘کا نہیں ہے۔ کیونکہ پھر معاملہ صرف اخراجات کا نہیں بلکہ قانونی اور مذہبی رکاوٹیں  قبرستان  کو  مٹانا یا ختم کرنا ناممکن بنا سکتی ہیں-

2017 کی مردم شماری  کے مظابق ،کراچی 16 ملین افراد پر مشتمل شہر ہے –جبکہ کراچی کے متعلقین، ماہرین اور شہریوں  کے نزدیک  یہ تعداد  متنازع ہے-ان کا دعویٰ ہے کہ  کراچی کی آبادی کو  جان بوجھ کر کم رپورٹ  کیا گیا ہے اور یہ 20ملین  سے زائد ہے۔آبادی میں اضافہ اور شہری اراضی کم ہوتی جا رہی ہے تو  ایسے حالات میں کراچی کے رہائشی – زندہ اور مردہ دونوں – زمین کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ قبرستانوں میں جگہیں پہلے ہی ختم ہوچکی ہیں ، تدفین کے متعدد مقامات ‘ قبرستانوں ‘ میں بھی چائنا کٹنگ کے ذریعے  رہائشی  مکانات بنادئے گئے ہیں- صورتحال یہ ہوئی  کہ کراچی والوں کے لئے زندہ رہنے میں  جتنی پریشانی ہے اتنا ہی مرنے میں ہوچکی ہے ۔بلدیہ عظمٰی کراچی  (کے ایم سی(کے کراچی میں 200 کے قریب رجسٹرڈ قبرستان ہیں جن میں سے بہت سے جگہ نہ ہونے  کی وجہ سے تدفین کے لئے بند کردیئے گئے ہیں

کورونا وائرس  جیسے وبائی مرض سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خوف  پوری دنیا  کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی چھا یا ہوا ہے –اسی خطرے کے پیش نظر بلدیہ عظمٰی کراچی  (کے ایم سی( نے کراچی میں کورونا  وائرس کے سلسلے میں  پورے کراچی میں 5 قبرستان نامزد کردیئے ہیں -کورونا وائرس کے متاثرین کو محمد شاہ  قبرستان ، نارتھ کراچی-شاو عبدالطیف بھٹائی  ماڈل قبرستان، سرجانی ٹاؤن- مواچھ گوٹھ قبرستان ، حب ریور روڈ – کورنگی نمبر6   قبرستان اور گلشن ضیاء قبرستان ، اورنگی ٹاؤن ساڑھے گیارہ میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ نامزد قبرستانوں میں مجموعی طور پر 10،000 قبروں کی گنجائش ہے۔

اس منصوبہ بندی کے بعد بظاہر یہ معاملہ بہت سیدھا اور آسان نظر آتا ہے-مگر شہری حکومت/ بلدیہ عظمٰی کراچی     ان تدفین  سے متعلق بہت سے مسائل کا شکار ہے- یوں لگتا ہے کہ ہم آنے والے وقت کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اگر کراچی میں کورونا سے متعلق  بحران بڑھتا  ہے تو کیا کراچی جیسے شہر  کے لئے قابل قبول ہوگا؟  لوگوں کو کہاں دفن کیا جائے گا؟  بہت سے سوالات سامنے آتے ہیں ، کئی مسائل  ہیں جن پہ فوری توجہ کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ شہر  کو کسی بھی طرح کی  بد امنی اور افراتفری سے بچایا جاسکے- ان سب سوالات میں سب سے اہم ذیل میں ہیں۔

 

 

 

 

محکمہ قبرستان  کا غیر تربیت یافتہ عملہ:

کورونا  وائرس کے سلسلے میں  پورے کراچی میں نامزد کئے گئے 5 قبرستان میں کسی ایک قبرستان کے عملے کو کسی بھی انداز کی تربیت نہیں دی گئی کہ کورونا وائرس  کے نتیجے میں آنے والی میت کی تدفین کرتے وقت کیا احتیاتی تدابیر ضروری ہیں- جبکہ عالمی ادارہ صحت کے اعلامیے کے مطابق ‘ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ اہلکار (جیسے مردہ خانہ کا عملہ ، یا تدفین ٹیم) معیاری احتیاطی تدابیر اپنائیں

حفاظتی سازو سامان کے لئے فنڈز کی کمی:

عالمی ادارہ صحت کے اعلامیے کے مطابق –  جسم کے ساتھ تعامل کی سطح کے مطابق مناسب  “ حفاظتی سازوسامان  “کا استعمال کریں ، جس میں ایک گاؤن اور دستانے بھی شامل ہیں۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ  شہری حکومت کے  پاس حفاظتی سازو سامان کے لئے فنڈز  موجود نہیں اور نہ ہی سندھ حکومت کی جانب سے حفاظتی سازو سامان فراہم کیا جارہاہے- کے ایم سی کے محکمہ قبرستان کے مطابق، اب تک  محکمہ قبرستان کو  حفاظتی سامان کی 10 کٹ دی گئی ہیں- جبکہ 1 میت کی تدفین کے لئے کم از کم حفاظتی سامان کی3 کٹ درکار ہیں –جس میں سے 1 لواحقین کے لئے اور  2 قبرستان کے عملے کے لیے  ہوں  اور انہیں صرف ایک بار استعمال کیا جا سکتا ہے-

 

جراثیم کشی کے اسپرے  کے مسائل :

عالمی ادارہ صحت کے اعلامیے کے مطابق -انسانی کورونا وائرس سطحوں پر  9 دن تک متعدی رہ سکتا ہے ۔لہذا ماحول  کی صفائی بہت اہم ہے۔ تدفین کے بعد  بہترہے کہ آس پاس جراثیم کش اسپرے کیا جائے –  یہ ایک  مناسب  احتیاطی تدبیر ہے مگر شہری حکومت / کے ایم سی کے محکمہ قبرستان کے پاس ایسے وسائل موجود نہیں-

مقامی لوگوں کی طرف سے مزاحمت:

جراثیم کشی کے اسپرے  کے وسائل نہ ہونے  اور  دیگر افواہوں کی بدولت عوام میں خوف ہے کہ کورونا تدفین کا ارد گرد کے علاقے پر اثر پڑےگا  جسکی بدولت  علاقے کے لوگ مزاحمت کر رہے ہیں- اورنگی ٹاؤن کے  سماجی کارکن  ‘ شمس الدین ‘ کے مطابق،  3 اپریل 2020، جمعے کی شب  گلشن ضیا ء قبرستان- اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے  جاں بحق ہونے والے کی تدفین پر علاقہ مکینوں نے احتجاج   کیا اور  لوگوں نے قبرستان کو گھیر کر عملے کو قبریں  کھودنے عملے کو سے روک دیا- واضح رہے کہ اب تک پورے کراچی میں کورونا سے متعلق صرف  5 میتیں دفن کی گئیں ہیں اور عوام کا شدید ردعمل سامنے آنے لگا-مقامی لوگوں کے مطابق” جس علاقے کی میت ہے اسی علاقے کے قبرستان میں دفنایا جائے-کیونکہ اس قبرستان میں آبادی کے لحاظ سے جگہ کم ہے-دوسرا اس تدفین کا علاقے پر اثر پڑے گا”-

صوبائی حکومت اور سول انتظامیہ کی عدم دلچسپی:

کے ایم سی کے محکمہ قبرستان کے مطابق، صوبائی حکومت اور  سول انتظامیہ تدفین سے متعلق معاملات میں دلچسپی نہیں  لے رہے- مقامی لوگوں کی طرف سے مزاحمت کی صورت میں جب ہم سول انتظامیہ اور صوبائی حکومت سے رابطے کررہے  ہیں تو کوئی مثبت جواب نہیں آرہا اور  یہی حالات رہے تو  گورگن و دیگر عملہ  تدفین کے لیے راضی نہیں ہوگا- ایسی صورتحال میں میتیں کہاں جائیں گی؟

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *