Type to search

بلاگ تجزیہ کورونا وائرس مذہب

پاکستان کو ایسے ’مولانا‘ کی تلاش ہے جس میں مندرجہ ذیل ’خوبیاں‘ نہ ہوں

ایک ملک جو اس وقت ایک وبائی مرض کی وجہ سے شدید بحرانی صورتحال سے دوچار ہے۔ اسے اپنے مذہبی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے مولانا کی ضرورت ہے جو ناصرف دین انسانیت کے حکمت و مصلحت پر پوری دسترس رکھتا ہو بلکہ سائنسی علوم کے بنیادی اساس کی بھی سوجھ بوجھ رکھتا ہو۔

اس کی دلیل و تہذیب اتنی قوی ہو کہ اسے اُمت کے سامنے “کوئی شخص بیماری سے نہیں مرتا” جیسی بودی دلیل پیش کرنے میں ہچکچاہٹ کا سامنا ہو۔ اس میں خوبی ہو کہ وہ تسلیم کرسکے کہ مذہب کا بنیادی مقصد ایک بہتر معاشرے کی تشکیل ہے۔ اور وہ یہ بھی اعتراف کر سکے کہ مذہبی تعلیمات ہمارے معاشرے کی روحانی اور اخلاقی پہلوؤں کی دیکھ بھال تو کر سکتی ہیں لیکن جسمانی مسائل درپیش ہوں تو اسے دوسرے علوم کے ماہرین سے بھی رجوع کرنے کی کوئی ممانعت نہیں۔

ملک کو جس مولانا کی تلاش ہے اس کو اتنی بصیرت ہونی چاہئے کہ جہاں ایک وبائی وائرس نے انسانی جان کو ارزاں کر دیا ہے تو وہاں خداوند تعالی کی رحمت کے دروازے ہرگز بند نہیں ہوئے، سو وہ اس وبائی مرض کو عذابِ الہیٰ سے تشبیہ دے کر مالک کائنات کے رحمان اور رحیم ہونے پر اپنے سطحی سوال اٹھانے سے گریز فرمائے۔ مولانا صاحب کو ادراک ہونا چاہئے کہ وہ فلاح انسانیت کے داعی ہیں اور اس کے دین میں انسانی جان کی حرمت کو سب سے بڑھ کر مقدم قرار دیا گیا ہے، سو وہ وبا کو ’’کافروں کی طرف پلٹنے‘‘ والی رقت آمیز دعاؤں پر وقت ضائع کرنے کا ہرگز متمنی نا ہو۔

مولانا کے پاس اتنا فہم و فراست ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مخاطب کے ذہنی و نفسیاتی پس منظر سے نا صرف آگاہ ہوں بلکہ ان کی تربیت کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔ نیز اسے چھاتی پر ہاتھ مار کر ایسی دروغ گوئی سے گریز کرنا چاہئے کہ اگر “اس کے سامنے کوئی وائرس کا شکار ہو جائے تو اسے گولی مار دی جائے یا پھانسی لگا دی جائے”۔ مولانا کو اتنا باشعور ہونا چاہیے کہ وہ کرونا وائرس جیسی بیماری کو سرے سے ناماننے کی جہالت سے خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی احتیاطی تدابیر سے متواتر آگاہ کرتے رہے۔

اگر ویکسین تیار کرنا اس کی صلاحیت نہیں ہے تو ’’کبوتر کی جھلیوں‘‘، ’’پھونکوں‘‘ اور ’’کلونجی والے ٹوٹکوں‘‘ جیسے مشوروں کی حوصلہ افزائی کرنے سے بھی اجتناب فرمائے۔ نیز مالی مفاد کے تناظر میں لکھی جانے والے مجرب دعاؤں کے کتابچوں کے ذریعے سے عام عوام کے مالی استحصال کا تکلف کرنا بھی پسند نا کرئے۔ ہمیں جس مولانا کی ضرورت ہے اسے اتنا احساس ہونا چاہئے کہ وہ اپنی طاقت کے نشے میں نمازیوں کو ڈھال بنا کر حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا غیر قانونی سمجھے اور اگر اس کی مالی استطاعت اس کو اجازت دیتی ہے تو وہ ضرورت مندوں کی بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے ہر اول دستہ کا کردار ادا کرئے۔

مولانا صاحب کو منبر کے تقدس کا بھی ادراک ہونا چاہئے کہ وہ اپنی شعلہ بیاں فرمادات کو ہرگز الہامی ذرائع کا درجہ نہیں دے سکتا۔ نیز اس کو کرونا وائرس کے علاج کا دعوی کرنے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دینا آتا ہو۔ مولانا کو ’’کتوں کے بھونکنے‘‘ سے کسی آنے والے مرض کی پیشگوئی والی صلاحیت سے بھی محروم ہونا چاہیے۔ جس مولانا کو ڈھونڈنے کی تگ و دو کی جارہی ہے اسے اتنا زاہد و تقا ہونا چاہئے کہ وہ ایک مشکل صورتحال میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اپنے نکھٹو حکمران کی قصیدہ گوئی کرنے کے بجائے متوازن طریقے سے حکمران کو اس کی خامیوں سے آگاہ کرئے۔ اسے رو رو کر اپنی ذاتی پاکیزگی کے لئے چائے کی پیالی کی ہوس کے بارے میں بتانے کی ضرورت قطعی نا پڑتی ہو اور نا ہی وہ اپنے ناتواں کندھوں پر حکمران کے لئے اچھے مشیروں کی تلاش کا بوجھ محسوس کرتا ہو۔

نیز مولانا اتنا تنگ نظر نا ہو کہ اس کے ذہنی عقیدت کو اس وقت جھٹکا لگے جب اذان کے الفاظ میں سنت کے مطابق تحریف کی جائے یا جب اسے آگاہ کیا جائے کہ “باجماعت نماز کسی ناگہانی صورت میں موقوف ہو سکتی ہے”۔ اور نا ہی وہ اتنا تعصب پسند ہو کہ وہ خود کسی مرض کے علاج کے لئے غیر روحانی تجربہ گاہ سے رجوع کرنے کو گناہ گردانتا ہو۔ ان تمام شرائط پر پورا اترنے والے امیدواروں سے گزارش ہے کہ وہ 22 کروڑ عوام کے دین اور دنیا کی سلامتی کے لئے جلد از جلد عوام سے رابطہ کریں، کہیں ایسا نا ہو کہ دیر ہو جائے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *