Type to search

تجزیہ سیاست

میرا وزیر اعظم چور نہیں تو بھولا بادشاہ ضرور ہے

اور آج یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا کہ عمران خان کرپشن کا دشمن ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تازہ ترین رپورٹ نے کئی حکومتی وزرا اور اتحادیوں کو رواں برس کی ابتدا میں سامنے آنے والے آٹے اور چینی کے بحران میں ملوث قرار دیا ہے۔ واجد ضیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں چینی کے بحران سے سب سے زیادہ فائدہ عمران خان کے قریب ترین ساتھی جہانگیر ترین نے اٹھایا جب کہ دوسرے نمبر پر وزیر خوراک خسرو بختیار ہیں جنہیں اس بحران نے نہال کر دیا۔ تیسرے نمبر پر گجرات کے چودھریوں کے خاندان کے چشم و چراغ مونس الٰہی صاحب ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف 1996 میں قائم کی گئی تھی اور عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے 22 سال جس ایک نکتے پر سب سے زیادہ زور دیا وہ کرپشن کا خاتمہ ہی تھا۔ پہلے بینظیر بھٹو حکومت، اس کے بعد نواز شریف حکومت، پھر پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دینا اور 2008 سے 2018 تک لگاتار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز پر کرپٹ اور چور ہونے کے الزامات عائد کرتے چلے جانا ہی ان کو دیگر جماعتوں سے ممتاز بناتا تھا۔

ان کے حامی کہا کرتے تھے کہ عمران خان وہ واحد سیاستدان ہے جو چور نہیں ہے۔ وہ واحد سیاستدان ہے جو کرپشن کی کم سے کم بات تو کرتا ہے۔ وہ ایک خلیفہ ہیں جو کبھی بھول چوک سے عمران خان پر تنقید کر دیں تو ساتھ ہی قسم اٹھا کر کہہ دیتے تھے کہ وہ کرپٹ نہیں ہے، یہ اچھی بات ہے۔ اب وہ کیا کریں گے؟ اتنے سال جس شخص کے لئے کالم لکھے کہ ’کپتان صاف گو ہے، کرپشن سے اس کا دامن داغدار نہیں‘، اس کے ارد گرد کے سب لوگ کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں اور یہ کوئی اور نہیں وفاقی تحقیقاتی ادارہ کہہ رہا ہے۔

جو کوئی آواز اٹھاتا، اسے کرپٹ لوگوں کا ساتھی قرار دے دیا جاتا تھا۔ اب کرپٹ لوگوں کا ساتھی کون ہے؟ وہی نا جس کے دائیں بائیں دونوں اطراف کرپٹ لوگ بیٹھا کرتے ہیں؟ کوئی صحافی آواز اٹھائے تو کہتے تھے کہ کرپٹ سیاستدانوں سے لفافہ ملا ہوگا۔ اور یہاں حالت یہ ہے کہ جن کے جہازوں میں گھوما کرتے تھے، وہ چند ماہ میں چینی کی قیمتوں کو 53 روپے فی کلو سے 90 روپے فی کلو پر لے گئے اور آپ کو پتہ تک نہیں چلا؟ اور تو اور شاہزیب خانزادہ کو عدالتی نوٹس بھجوا دیا ترین صاحب نے کہ میرے کچے چٹھے ٹی وی پر کیوں کھول رہے ہو۔ اب سنا ہے نیوزی لینڈ چلے گئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ لوگ بھی پتہ نہیں کیسی کیسی بے پر کی اڑاتے رہتے ہیں۔

لیکن یہ سب ہوا کیسے؟ یہاں دو ہی چیزوں کا امکان ہے۔ یا تو عمران خان صاحب بہت ہی بھولے بادشاہ ہیں کہ متعلقہ اداروں کے بار بار منع کرنے کے باوجود گندم برآمد کر دی اور پھر اس پر سبسڈی بھی دی۔ دونوں مرتبہ فیصلہ کابینہ میں ہوا اور اس کا approval خود کابینہ کے سربراہ یعنی وزیر اعظم عمران خان نے دیا، لیکن پھر بھی انہیں پتہ نہیں چل سکا کہ یہاں کرپشن ہو رہی ہے۔ اور کچھ نہیں تو اپنا بتایا ہوا کلیہ تو یاد ہی ہوگا کہ مہنگائی ہو رہی ہے تو سمجھ جائیں کرپشن ہو رہی ہے۔ جب چینی کی قیمتیں راتوں رات آسمان پر چڑھیں تو وزیر اعظم صاحب کو خاتونِ اول نے بھی نہیں بتایا کہ چینی مہنگی ہو گئی ہے، اور لوگ آپ کے دوست کا نام لے رہے ہیں؟

اور ویسے بھی اگر آپ کو یاد ہو تو خان صاحب کو تو کرپشن کی تمام داستانیں ازبر ہوتی ہیں۔ کون کتنے ارب ڈالر کس سنہ میں ملک سے باہر لے کر گیا، سرے پیلس کی قیمت کیا ہے، شہباز شریف نے میٹرو میں کتنا کک بیک لیا، نواز شریف نے کون سا اپارٹمنٹ کتنے میں خریدا، یہ سب عمران خان صاحب کو نہ صرف خود زبانی یاد تھا بلکہ 126 دن کے دھرنے میں انہوں نے دن میں چار چار تقریریں کر کے، جو میڈیا پر لائیو دکھائی جاتی تھیں بیشک جلسے میں آدم ہو نہ آدم زاد، قوم کو بھی رٹا دیا تھا۔ تو پھر ان کے ناک کے نیچے یہ سب کیسے ہوتا رہا؟

اور ایسا نہیں ہے کہ ان کی توجہ نہیں دلائی گئی۔ عمران خان کو بارہا جتایا گیا کہ ان کے ارد گرد کرپٹ لوگوں کا ٹولہ جمع ہے لیکن وہ یہی تسلی دیتے رہے کہ اگر کپتان ٹھیک ہو تو ٹیم بھی ٹھیک رہتی ہے۔ بلکہ ایک اچھے کپتان کی طرح میڈیا میں وہ اپنے کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی کا دفاع بھی کرتے رہے۔ مثلاً جب سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو انسائڈر ٹریڈنگ میں ملوث پا کر تاحیات نااہل کیا تو عمران خان نے متعدد انٹرویوز میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدالت کی غلطی سے تابیر کیا اور اپنے یار کے آگے چٹان بن کر کھڑے رہے۔

جہانگیر ترین نے بھی اس مہربانی کا بدلہ 2018 انتخابات کے بعد جہاز بھر بھر کے ایم این اے اور ایم پی اے لا لا کر دیا۔ عمران خان صاحب کو کہا جاتا کہ نااہل ہونے کے باوجود جہانگیر ترین ہر میٹنگ میں کیوں موجود ہوتے ہیں تو اس پر بھی سوال کرنے والے پر ناراض ہو جاتے اور عجیب و غریب توجیہات پیش کرنے لگتے۔ ایسا یا تو Hypnosis میں ممکن ہے یا عشق میں۔ کیونکہ تیسری صورت یہی ہے کہ وزیر اعظم صاحب اپنے ارد گرد کرپشن کو نظرانداز کرتے رہتے ہیں، اس امید میں کہ ان کے ہاتھ کی تسبیح اور ان کی سادگی ان کے ساتھیوں کے دل پھیر دے گی۔

اب ان دونوں میں سے حقیقت کیا ہے، ہم نہیں جانتے۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ وزیر اعظم صاحب کو یا تو بنانا بہت آسان ہے یا پھر انہیں کرپشن صرف اپنے سیاسی حریفوں کی ہی بری لگتی ہے۔ دونوں صورتوں میں ہی وہ اپنے عہدے سے انصاف نہیں کر پا رہے۔ اگر اس رپورٹ پر فوری طور پر تحقیقات نہیں ہوئیں اور ملزمان کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا گیا تو اس وقت خان صاحب کا دیا ہوا نعرہ ہی گونجے گا کہ ’میرا وزیر اعظم چور ہے‘۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *