Type to search

تجزیہ کورونا وائرس

کرونا وائرس: برطانیہ سے لے کر پاکستان تک

 

جب اٹلی، فرانس، اور جرمنی میں وبا پھیل رہی تھی تب بورس جانسن اپنے مخالفین کو خاموش کرانے میں لگا تھا۔ میڈیا میں موجود آزاد چینلز اور صحافیوں پر بے پناہ الزامات لگائے جارہے تھے۔ ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ پیغام دیا جارہا تھا کہ برطانیہ کی کرونا وائرس کو لیکر تیاری باقی ممالک سے کہیں بہتر ہے۔

نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ لوگ مر رہے ہیں۔ سینکڑوں بیمار ہو رہے ہیں۔ ہسپتال پہ ہسپتال بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم خود شکار ہو گئے۔ اپنے کمرہ تک بند۔

جس بیماری سے لڑنے کیلئے ایک ایک منٹ قیمتی ہے وہاں کئی دن لگا دئیے گئے۔ جھوٹی تسلیاں دینے اور مخالفین کیخلاف مسلسل محاذ گرم کئے رکھنے میں۔ چنانچہ وقت ضائع ہوتا رہا۔ ماسک کی خریداری نہ ہوسکی۔ وینٹیلیٹرز کم پڑتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹرز ہیں۔ پر حفاظتی سازوسامان نہیں۔ نرسز ہیں پر کرونا سے متعلق تربیت ہے نہ تعلیم۔ پاکستان کی داستان تو پھر کہیں زیادہ گھمبیر ہے۔ ہمارے پاس بھی ضروری سازوسامان نہیں۔ اور خدانخواستہ مسائل بڑھ گئے تو خرچ کرنے کو خاص پیسہ بھی نہیں موجود۔اس وائرس کو آسان مت لیجئے۔ یہ دشمن ہے۔ بڑی کڑاکے دار نوعیت کا۔ اپنے ہی مزاج ہیں اس کے۔ ٹرمپ نے چند لمحے دیر کی۔ اور اپنا شہر (نیویارک) ہی لٹا بیٹھا۔ ٹرمپ کی سوچ میں آیا کہ سب ٹھیک ہے کا راگ الاپوں تو ساکھ پچ جائے گی۔ تو اس دشمن نے امریکہ کی سب سے امیر ریاست (کیلیفورنیا) کو ہی حدف بنا ڈالا۔ عالم یہ ہے کہ ایک دن صورتحال بہتر ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے تو اگلے دس دن بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیویارک کی سٹاک ایکسچینج ہو۔ وال سٹریٹ کے ٹریلینز ڈالر کی تجارت۔ یا پھر واشنگٹن میں عالمی اختیارات کا ارتکاز۔ سب بے معنی ہوچکے ہیں۔ ہر طرف کرونا وائرس ہے۔ ذہنوں میں۔ سوچوں پہ۔ دھڑکنوں پر۔

بورس جانسن نے بھی تادیبی حربے آزمائے۔ بات یہاں تک نہیں رکی۔ بلکہ مذاق بھی اڑایا کرونا وائرس کا۔ اس قدر ہلکا لیا اس دشمن کو۔ پھر جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ خود وزیراعظم بیمار۔ گھر میں خود ساختہ تنہائی۔ وزیر صحت بیمار۔ گھر میں خود ساختہ تنہائی۔ رائل فیملی کا شہزادہ بیمار۔ گھر میں بند۔3 مہینے پہلے شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ اس طرح کا موذی وائرس موجود ہے۔ پر اس محدود عرصے میں یہ وائرس دنیا کے تقریبا ہر ملک میں پھیل چکا ہے۔ اب جبکہ 6 لاکھ سے بھی زیادہ افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ تیزی سے اضافہ ہورہا ہے تو یہ وقت ہے اپنی سمت کی درستگی کا۔

کچھ لوگوں کو ہم جانتے ہیں۔ بہت ساروں کا ہمیں نہیں علم۔۔ ایسا موذی وائرس جس نے تمام چھوٹی سے چھوٹی، بڑی سے بڑی معیشتوں کو بٹھا دیا، صحت کے نظام توڑ پھوڑ دئیے، ہسپتالوں کو کھچا کھچ بھر دیا۔ عوام الناس کے اٹھنے بیٹھنے اور ملنے ملانے کی جگہیں خالی کر دیں۔ لوگوں کو لوگوں سے جدا کر دیا۔ حتی کہ لوگوں کو ان کے روزگار اور کمانے تک کی جگہوں سے دور کردیا۔

پاکستان میں وائرس کے پھیلاؤ کی شرح خطرناک صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ شرح اسی تیزی سے رہی تو وہ دن زیادہ دور نظر نہیں جب پاکستان میں ہر شخص کا کوئی نہ کوئی جاننے والا اس مرض کا شکار ہوگا۔ یقین جانیں جیسے دونوں جنگ عظیم میں شامل قوموں کی نفسیات پر جنگ کی تباہ کاریوں کے اثرات آج بھی آویزاں ہیں، ایسے ہی کرونا وائرس سے پھیلنے والے اثرات اور مسائل ہماری نفسیات پر کئی دہائیوں تک چھائے رہیں گے۔پوری دنیا میں کرونا وائرس نے اپنے پھیلاؤ کےلئے ایک مختلف روش ہی اپنائی ہے۔ پاکستان میں بھی سلسلہ کچھ ایسے ہی ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے ہاتھوں متاثر ہونے والے پہلے دو مریضوں کی تشخیص 26 فروری کو ہوئی۔ یوں بائیس کروڑ کے ملک میں کرونا کے دومریض تھے۔

قریب بیس دن بعد کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی شرح بڑھ کر یہاں تک پہنچی کہ ہر دس لاکھ میں ایک افراد اس وائرس سے متاثرہ نکلا۔ اب جب کہ یہ تحریر آپ پڑھ رہے ہیں، 3600 سے زیادہ متاثرہ مریضوں کے ساتھ پاکستان میں ہر دس لاکھ میں 10 افراد کرونا کے مرض میں مبتلا ہیں۔۔

پنجاب کا متاثرہ صوبوں میں نمبر 1 آنا ہر لحاظ سے متوقع تھا۔ صوبہ میں صحت عامہ کے مسائل کی حالت تو ابتر ہے ہی لیکن انتظامی طور پر پنجاب بے پناہ مسائل کا شکار ہے۔ صوبہ میں موجود سنگین صورتحال کا اندازہ تو آپ کو اسی وقت ہو جاتا ہے جب آپ صوبہ کے وزیراعلی پر نگاہ دوڑتے ہیں۔ دعوہ وسیم پلس ہونے کا ہے۔ پر عالم یہ ہے کہ عثمان بزدار صاحب سے ڈھنگ کی ایک پریس کانفرنس نہیں ہوسکتی۔ عوام کے سامنے آ کے امید اور حوصلہ کا ایک پیغام تک دینے کی صلاحیت نہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ کی مایوسی کا منبع وہاں ہے جہاں سے امید کے چشمے بہنے چاہئیں تھے۔ جہاں محور ہونا چاہئے تھا ایک مضبوط لیڈرشپ کا وہیں سے دراصل ابتداء ہوتی ہے صوبہ کے انتظام میں انتشار اور توڑ پھوڑ کی۔مانیں یا نہ مانیں اس صوبہ کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اس صوبہ کے مرکزی شہر لاہور سے ایک کرونا وائرس کی مریضہ جناح ہسپتال سے نکل جاتی ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ لاہور کے ہی سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، مئیو ہسپتال، میں کرونا وائرس کے مریض کو رسیوں سے باندھ کر تڑپتا ہوا چھوڑ دیا جاتا ہے اور اسی کسمپرسی کی حالت میں مریض اپنی جان دے دیتا ہے۔ نجانے یہ میڈیکل سٹاف کی بے حسی ہے یا انتظامیہ کی نااہلی پر اس صوبہ میں انسانیت دم چھوڑ چکی ہے۔

یہ تو ہے لاہور کی داستان جہاں عثمان بزدار صاحب صبح و شام موجود ہیں۔ آپ کو جان کر حیرانگی ہو، پنجاب میں شاید پہلے نمبر نہ سہی پر لاہور کے برابر ہی دوسرے جس ضلع میں سب سے بدترین صورتحال ہے وہ کوئی اور نہیں عثمان بزدار صاحب کا اپنا شہر ڈیرہ غازی خان ہے۔ اگر تشخیص ہونے والے مریضوں کے حساب سے دیکھیں تو فی الوقت ڈیرہ غازی خان میں سب سے زیادہ کرونا وائرس کے مریض ہیں۔ یقینا اس کی بنیادی وجہ ایران سے واپس آنے والے زائرین ہی ہیں۔ پر وائرس کا پھیلاؤ مقامی سطح پر بھی شروع ہو چکا ہے۔ قرنطینہ میں جس طرح کے تشویشناک حالات ہیں وہ تو آپ سارے جانتے ہیں۔ اتنے حساس حالات میں بھی نااہلی دیکھئے کہ میڈیکل سٹاف کے پاس مکمل حفاظتی سازو سامان نہیں۔ ڈیوٹی پر مامور دو ڈاکٹرز میں کرونا وائرس تشخیص ہوا ہے۔ اس کے بعد تو ایک ایمرجنسی کی حالت ہونی چاہئے تھی۔ تمام ڈاکٹرز اور نرسز کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے تھی۔ لیکن ‘چاہئے’ تو بس ایک حسرت ہی بنی رہی کیونکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

تو وائرس ملک میں آ چکا ہے۔ جو کچھ لاہور اور ڈیرہ غازی خان میں ہورہا ہے یہ تو ایک جھلک ہے کہ اگر یہ عالم ہے ان شہروں کا جہاں وزیراعلی بیٹھا ہے اور جہاں اس کا اپنا گھر ہے تو تصور کریں کیا گزر رہی ہو گی باقی علاقوں میں۔سو یہ تسلیم کر لیں کہ وائرس آگے نکل چکا ہے۔ ہمارے پاس موقع تھا تیاری کرنے کا۔ وائرس کو ابتدائی مراحل میں کنٹرول کرنے کا۔ ہم وہ موقع کھو چکے ہیں۔ وائرس کافی آگے ہے۔

اور آنے والے کئی دنوں تک، شاید ہفتوں تک، آگے ہی رہے گا۔ ہماری صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت اب جتنے اقدامات کر رہی ہوں گی وہ ماسوائے اس وائرس کا پیچھا کرنے کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ تو اب تک کا سب سے بڑا سوال یہ ہے: کیا ہم موثر طریقہ سے اس کا پیچھا کر پائیں گے؟جب ہمیں حقائق کو گلے لگانا چاہئے تھا ہم مفروضوں میں پڑنے کو بھی تیار نہ تھے۔ ٹھہریں! مفروضے؟ مفروضے اور نظرئیے تو ہمارے ملک میں خام خیالی باتیں ہیں جن کا مقصد طنز ہوتا ہے یا پھر سازشی تھیوریز بننا۔ سائنسی ادراک اور شعور پر پرکھنے سے تو ہم رہے۔ ورنہ طبی ماہرین سے لیکر میڈیا تک بار بار خطرہ کی سنجیدگی کی طرف اشارہ کیا جا رہا تھا۔ خیر! ہم جس موذی وبا سے بچنے کی التجاء کر رہے تھے اب وہ آچکی ہے۔ اب وہ وقت گزر گیا جب ہم سوچتے تھے کہ ‘نجانے کیا ہوگا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *