Type to search

بلاگ تاریخ تجزیہ ثقافت مذہب معاشرہ

کیا امن اور ہم آہنگی کے لیے کلچر کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟

پس منظر

سادہ لفظوں میں کلچر یا ثقافت ایک ایسا پیچیدہ مگر باہمی مربوط مظہر ہے جس میں زبان، علوم و فنون، رویے، مزاج، ادب و آداب حتٰی کہ اختلافات، کشیدگیاں اور سب سے بڑھ کر حیات و کائنات کا مکمل تصور شامل ہوتا ہے۔ عمومی خیال کے برعکس مذہب بھی ثقافت ہی کا ایک جُزو ہوتا ہےـ گذشتہ دو صدیوں میں کلچر اور اِس کے گُوناں گُوں پہلوؤں پر بہت کچھ  لِکھا اور سوچا گیا ہے۔ کئی نظریات تخلیق کئے گئے ہیں جن میں بَین الثقافتی اجنبیت سے لے کر انسانی روّیوں اور ترجیحات کی عالمگیریت اور ثقافتوں کے ٹکراؤ تک سب شامل ہیں۔ باریک نظریاتی الجھنوں سے قطعِ نظر ایک بات بہت واضح ہے کہ جہاں مختلف ثقافتوں اور قومیّتوں میں بہت سا تنوّع اور تفریق پائی جاتی ہے وہیں بہت کچھ ایسا بھی ہے جو مختلف اور ضمنی ثقاتیں اپنی اپنی امتیازی حیثیت کو برقرار رکھنے کے باوجود  ایک دوسرے سے مُستعار لیتی ہیں یا لے سکتی ہیں۔

کَروبر اور کلوُکوہن کی رائے میں “کلچر مستُور اور مزیّن یا خَفی اور جّلی پیٹرنز پر مشتمل ہوتا ہے جس میں معاشرتی رویّے، علامتیں اور مادی آلات و فنون سمیت سب  کچھ شامل ہوتا ہےـ تاریخی تسلسل کے نتیجے میں پنپنے والے نطریات، روایات، عقائد اور اقدار بالخصوص اِس کا حصہ ہوتے ہیں۔ کلچرل یا ثقافتی نظام ایک طرف تو تاریخی اور معاشرتی عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں دوسری طرف مستقبل کے متوقع اور غیر متوقع عمل کی بنیاد بھی”۔ مختصراً مذہب نہیں بلکہ کلچر ایک مکمل ضابطہ حیات ہوتا ہے۔ دورِحاضر کے معاشروں میں زندگی اور انسانی وجود کا اظہار گُوناں گُوں طریقوں سے کیا جا رہا ہے جس میں تحریر، تقریر، تصاویر، آئیکان، امیجز، متفرق ذرائع ابلاغ اورسوشل میڈیا محض چند طریقہ ہائے کار ہیں۔ [1]

 ثقافت کی فہم و تفہیم کے لئے کلاسیکل نظریاتی تعریفوں اور تصورات سے بالا تر چند ایک حقائق بہت واضح ہیں کہ:

دنیا میں کم و بیش تمام ریاستیں ہی کثیر ثقافتی یا کثیر لسانی و کثیر مذہبی ہیں۔ جزیرہ نما، الگ تھلگ قدیم قبائلی ثقافتوں اور زبانوں کا دَور، جن کا مطالعہ ابتدائی بشریات میں بہت مقبول رہا ہے، اب ختم ہو چکا ہے۔ اقلیت اور اکثریت محض اضافی اصطلاحات ہیں نہ کہ مستقل کیٹیگریز، کسی ایک ملک کی اکثریت دوسرے ملک کی اقلیت ہو سکتی ہے اور اور اِس کے برعکس بھی اور اِس کا تعلق کسی بھی ریاست اور معاشرے کی تاریخ یا پس منظر سے ہو سکتا ہے۔ کمتر یا برتر مرتبہ و منصب غالب گروہ کا نظریاتی بلکہ عسکری رویہ اور خود ساختہ تصور ہے نہ کہ اقلیت یا اکثریت سے منسُوب کوئی مستقل شناخت جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ عالمگیریت، عالمگیر ذرائع رسل ورسائل، تجارتی روابط اور میڈیا نے مختلف ثقافتوں کے اندراوردرمیان تعلقات کے ذرائع اور مواقع میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے ـ مگر انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ متفرق ثقافتوں کے پھیلاؤ اورقبولیت کی بجائے دنیا میں نسلی اور مذہبی تعصبات اور باہمی کشمکش کےواقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ـ بحر حال اِس مضمون میں ہمارا مقصد اپنے موضوع کو جنوبی ایشیا اور کسی حد تک پاکستان تک محدود رکھنا ہے ـ اور کوشش یہ ہے کہ ایسی تمام سماجی اور ثقا فتی قوتوں کی نشاندہی کی جائے جو کہ مختلف مذہبی اور ثقافتی گروہوں میں ہم آہنگی پیدا کر تے ہیں یا کر سکتے ہیں۔

مذہبی تنوع اور سماجی ہم آہنگی                                                                 

ہر چند کہ سماجی ہم آہنگی کو ایک کلچرل مظہر اور معاملے کے طور پر سمجھنا مشکل ہے لیکن آسان طور پر ہم اِسے ایک ایسی ‘انسانی قدر’ قرار دے سکتے ہیں جو مختلف افراد اور گروہوں کے درمیان نطریاتی، عملی اور جذ باتی مطابقت پیدا کر سکے اورایک جیسے  جذبات اوراحساسات کو جنم دے سکے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایسی اخلاقی قدروں کا سمبندھ ہوتا یا ہو  سکتا ہے جو تمام کمیونیٹیز کے درمیان مربوط توازن پیدا کرنے کے کوشش کرتا ہے جو ایک دوسرے پر منفی اور مثبت طریقے سے اثر انداز ہوتی ہوں چاہے  وہ مذہبی یا سیاسی نقطہء نظر سے ایک دوسرے کے مخالف ہی کیوں نہ ہو[2] ۔

جنوبی ایشیاء میں ماضی اور حال میں بھی مذہبی شناخت ہر حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرتی رہی ہے ـ یہاں تک کہ بیسویں صدی کے وسط میں ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے کے دوران مسلمانوں، سکھوں اور ہندوں میں ہولناک کشت و خون کا باعث یا حوالہ بڑی حد تک مذہب ہی تھا ـ اور بعد از تقسیم بھی ہندوستان ، پاکستان اور کسی حد تک بنگلہ دیش میں مذہبی فسادات اور دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں ـ ایک طویل ترین سیاسی جدوجہد کے بعد ہندوستان اور پاکستان دو ایسی ریاستیں وجود میں آ ئیں جن میں اکثریتی ہندواوراکثریتی مسلمان مگر سیکولر ریاستوں کا قیام عمل میں لایا جانا تھا یا کم ازکم اُن کے بنیاد کاروں، بالخصوص گاندھی جی، نہرو اور جناح صاحب کے ذہن میں  الگ الگ  مگر سیکولر ریاست کا ہی خاکہ تھا ـ ١٩٧١ میں پاکستان سے جُدا ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں بھی ملتی جُلتی خواہشات اورکوششوں کا آغاز کیا گیا ۔ مگر درج بالا ریاستوں کے معماروں کے وژن کے خلاف تینوں ریاستیں اپنی اپنی مذہبی اور ثقافتی اقلیتوں کو مساوی شہری وانسانی حقوق اور قرارواقعی مذہبی اورفکرواظہار کی آزادیاں اور تحفظ دینے میں مکمل ناکام رہی ہیں ـ ہندوستان میں کرسچن مشنریوں کو مسیحیت کے پرچار کے الزام میں دھمکیاں دینا یا  زدوکوب کرنا، شانتی نگر، گوجرہ اور یُوحناباد (پاکستان) میں مسیحی برادری سے ناروا سُلوک اور تشدد، اور بنگلہ دیش میں ہندوؤں اورچٹاگانگ کے بُدھوں کے لئیے سُکڑتا ہوا سماج اور متعصبانہ ریاستی رویہ اِس کی نہایت محدودومخصوص مثالیں ہیں ـ

جنوبی ایشیاء میں، مذہب کے بعد کسی حد تک، تاریخ یا تاریخی واقعات کی متفرق تشریحات، زبان اور ثقافت کوبھی شناختی سیاست اور باہمی فاصلہ پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ اکثر اوقات ایسےعمل میں مُبالغہ اور داستان طرازی بھی شامل ہوتی ہے اور بعض بعض لوگ اپنی کم علمی کیوجہ سے کسی بھی ثقافتی گروہ یا ضمنی گروہوں کے درمیان  کُلی یا جزوی فرق وتفریق کوبڑھا چڑھا کرپیش کرتے ہیں تا کہ اختلافات اور کشاکش کو ہوا دی جاسکے، حالانکہ درپردہ مفادات فقط سیاسی یا معاشی ہی ہو تے ہیں یا پھر علمی و تاریخی غلط فہمی  ـ بحر حال اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زیرِبحث خطہ مذہبی یا ثقافتی اور کسی حد تک لسانی تنازعات کا شکاررہا ہے۔

مگر بیّک وقت یہ بھی درست اور توجہ طلب  ہے کہ اِسی خطے میں ہی نوع بہ نوع مذہبی، لسانی اور ثقافتی کمیونیٹیز اور گروہ اپنے اشتراک اور تضادات کے ساتھ رہتے اور پھلیتے پھولتے بھی رہے ہیں ـ اور اُن کے ظاہری اختلافات کے باوجود درپردہ یا واضح بہت سے اوصاف مشترک بھی رہے ہیں ـ اور سب اپنے اپنے انداز میں اپنے اپنے رسوم و رواج، مزاج و انداز اور تفریق و امتیّاز کا لطف اٹھاتے رہے ہیں ـ                                              

اِسی پس منطر میں ہماری صوفیانہ، روحانی اور فلسفیانہ تحریکیں باہمی امن، ہم آہنگی اور انسانی برابری کی فضا پیدا کرنے میں پیش پیش رہی ہیں ۔ اگر امتیازوتفریق کو اُچھالنے کی بجائے مشترکہ پہلوؤں کوزیادہ اُجاگر کیا جائے تو وہ مختلف کمیونیٹیز کے دِلوں میں ایک دوسرے کے لئے احترام کےجذبات اُبھارنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں ـ ہرطرح کے لوگوں سے میل ملاقات رکھنے اور مشابہتوں کو سراہنے سے اجنبیت اوربیگانگی کا احساس جاتا رہتا ہے، تحیّر کم ہوتا ہے اور قبولیت کےرحجانات بڑھنے لگتے ہیں ـ لوگوں کویّک رُخا دیکھنے کی بجائے اُن کودرست طور پرسمجھنے کا شوق بڑھتا ہے، فاصلے کم ہوتے ہیں، دوستیاں، تعلقات، رشتے ناطےاورمحبتیں بڑھتی ہیں ۔ نتیجتا” لوگ دوسروں کے لئے بھی وہی پسند کرنے لگتے ہیں جو وہ اپنے بارے میں کرتے ہیں ـ مجموعی طور پرکسی بھی کثیرقومیّتی مُلک میں باہمی تعلقات اور روابط بڑھانا، امن اور خوشحالی کے ضامن ہو سکتے ہیں[3] ـ

امن و ہم آہنگی پر کام کرنے والی دانشور’ایلیس بولڈنگ’ کی رائے میں مختلف ثقافتوں میں پیش و پِنہاں امن اور ہم آہنگی کے تاروپود کو برقراررکھنا اورشعوری طور پر بڑھوتری دینا نہایت اہم ہے ـ چاہے ریاست اور سماج  جیسے بھی  حالات سے گزر رہے ہوں، امن اور شانتی کی روایات اور امکانات کو مضبوط کرنے کی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے، حصولِ امن کے لئے امن کا خواب دیکھنا ازحد ضروری ہے ـ اُسکی رائے میں امن وآشتی کا مُتبادل نظریہ چاہے جس قدر بھی غیر حقیقی دِکھائی دے ۔ اُسکا پرچار ضروری ہے کیونکہ یہ سماجی تبدیلی کے لئے کلیدی کردارادا کرتا ہے۔ جنوب ایشیاء چونکہ مذہبی وثقافتی حوالے سے دنیا کا متنوّع ترین خطہ ہے، اِس لئے امنِ عامہ قائم رکھنے کے لئے اِسکی پُرانی اورنئی مذہبی اور ثقافتی روایا ت کو سمجھنا اور فروغ دینا بارآور ثابت ہو سکتا ہے ـ طالبان ،راشٹریہ وشوْا پریشد  جیسے علیحدگی اور تشدد پسند مذموم گروہوں کی حالیہ قتل و غارت اور نفرت انگیزی کے بر خلاف، امن، بھا ئی چارہ اور محبت یہاں کی نوع بہ نوع ثقافتوں اورمعاشروں کا حصہ  رَس رنگ رہے ہیں، اہمساء اورحُبِ انسانی، مقامی مذہبی اور سماجی اعتقادات کا روح رواں رہے ہیں جِن کی خوبصورتی اورتاثیر کو پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے[4]  ـ                          

مگر افسوس کہ اِتنی گہری روایات کے باوجود درایں اثناء یا ماضی قریب میں پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت، جارجیت، فرقہ ورایت، انتہا پسندی اور مذہبی عدم رواداری جیسے شدید مسائل سے دوچار رہے ہیں ـ ایسے تمام واقعات اور بودے، پُھسپُھسے خیالات چند ایک گروہوں یا سیاسی پارٹیوں کے بہلاووں، بہکاووں اوربھڑکاؤ بیانات کا نتیجہ ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کو نفرت کی آگ میں جھونک کر وہ اپنا سیاسی ومعاشی کاروبار چمکا سکیں ـ مگر اِن حالات میں بھی ایسی قوتوں کو اورمضبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو تمام فرقوں، مذہبوں اور ثقافتوں کو آپس میں رُندباندھ سکیں ـ ایسے حالات میں عمومی روایت کے بر عکس، سماجی اور ثقافتی تاریخ کے ایسے تمام ادواروحالات کو بیان کرنا بہت مدد گار ثابت ہوتا ہے جب محبت کے رشتے اور باہمی سُکھ چَین عام رہا ہواورحقییقت بھی یہی ہے کہ تاریخ میں جنگ و جدل کے مقابلے میں امن و آمان کے ادوار ذیادہ گزرے ہیں لیکن جرنیلی اور شاہی مزاج کے تابع مورخوں کا مزاج یاطمع بھی  نہ صرف حرب و ضرب کی داستان گوئی  بن گیا بلکہ پوری تاریخ ہی جنگ و جدل کا آئینہ بن کر رہ گئی ، یہاں تک کہ تاریخ کا غیر رسمی مطلب جنگجوُوں یا جنگجوُئی کا بیان بن کر رہ گیا  ـ  اکھٹے رہنے والے لوگ، وہ چاہے کوئی بھی ہوں، کہیں بھی رہتے ہوں، ہمیشہ کم مختلف اور زیادہ مشترک اقدار کے حامل ہوتے ہیں ـ لہٰذا عصرِحاضر میں مشترکہ سماجی اوراخلاقی روایات، خیالات اور رویّوں کو تلاش کرنا اور اُنہیں رسمی اور غیر رسمی طریقے سے عام کرنا ایک طرح سے ہر شہری کی ذمہ داری ہے ـ رواداری اور باہمی احترام کو ہر دائرہء کارمیں، ہر ذریعے سے بڑھانے اور پھیلانے کی اشد ضرورت ہے ـ

خطے کی تمام ریاستوں میں ایسے عقائد، جمالیات اورفلسفہ ہائے وجود و کائنات موجود ہیں جو امن وہم آہنگی کا تانا بانا بُنتے ہیں ـ اپنی اپنی انفرادی شناخت برقرار رکھنے کے باوجود بھی کئی ایک ثقافتی دھارے ایسے ہیں جو تمام کمیونیٹیزمیں مشترک ہیں ـ برِصغیر پاک و ہند کی صوفیانہ فکر کے مطابق ‘افتراق میں کُلیّت’ اور’وحدت الوجود’ کی رنگا رنگ شرحیں محبت کرنے والےخُدا اور متنوّع فطرت کی عکاسی کرتی ہیں ـ اسلامی تصوف، ویدانتا، گوتم کے گاتھا، حتیٰ کہ اقلیتی مذہبی افکار یعنی زردشتیت، بہائیت اور سکھ مَت میں بھی ایسے ہی تصورات مقبول ومعروف ہیں جن کے مطابق انسانی تفریق وامتیازظاہری ہیں اورحیات وکائنات کی ڈُونگی سچائییاں ایک ہی ہیں ـ وحدت الوجود اوروحدت الشہود کے تذکرے اور مباحثے عام ہیں ـ اور ایسے ہی تصورات رواداری، وسعتِ قلبی اور کشادہ  ذہنیت پیدا کرتے رہے ہیں ـ                                              

اس ضمن میں ذکر کرنا ضروری ہے کہ صلحِ کُل کا صوفیانہ رویہّ ہماری شاعری، ادب، لوک ورثہ، آرٹ اورآرکیٹیکچرمیں بھی سرایت کر چکا ہے ـ بھگت کبیر، گرو نانک، سچل سرمست، شاہ لطیف، خواجہ غلام فرید، غنی بابا، مست توکّلی، تاج محمد تاجل اور بُلھے شاہ کی شاعری انسانیت، سماجی انصاف اور عشقِ اُلوہی کے جذبات سے بھر پُور ہے ـ وہ ایک ایسے خدا کا تصور پیش کرتے ہیں جو بے حدودوقیود ہے اور تمام انسانوں کو یکساں شمار کرتا ہے اور سب سے یکساں پیار کرتا ہے ۔

جمہوریت اورامن کا پرچار                                                                          

ہر پانچ سال بعد یا قبل رسمی چُناؤ اورسیاسی پارٹیوں سے ہٹ کر جمہوریت کی اصل روح اقلیتوں، اقلیتی ثقافت، عقائد اور اُنکی شناخت کے تحفظ میں مضمر ہے ـ آج سے کوئی دو ڈھائی سو سال پہلے امریکی جمہوری آئین کے خالق جیمزمیڈیسن نے ١٧٨٧ میں کہا تھا کہ جمہوری حکومتوں کا اہم ترین فریضہ اقلیتوں کو اکثریتی جبرسے محفوظ رکھنا ہے ـ اُن کواستحصال اورتشدد سے بچانے کے لئے اگر آئینی اور قانونی دفعات موجود ہ ہیں بھی تواُن پر عمل درامد ضروری ہے اور اگر نہیں ہیں تو لانے چاہیّین ـ ساتھ ہی ساتھ عدلیہ ، انتظامیہ اور مقننہ کی طاقت اور اختیارات کو عملی طور پر الگ الگ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ذیادتی اور اِستحصال کی صورت میں اقلیتوں کو تحفظ دیا جا سکے۔

ہرچند کہ جوجمہوری نظام ہمارے مُلک یا کسی حد تک ہمسایہ ملکوں میں پریکٹس کیا جا رہا ہے کسی بھی حوالے سے آئیڈیل نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ آمرانہ اور تحکمانہ نظام سے کئی درجہ بہتر ہے ـ کیونکہ یہ صرف جمہوری فریم ورک ہی ہے جو تمام شناختوں اور تمام نقطہ ہائے نظر اور متنوّع  تصورات کو گنجائش فراہم کر سکتا ہے ـ باوجود اِس کے کہ قومی معاشی ترقی کی دوڑ، انفرادی مادی تعیّشات کا جنون اور حیرت انگیز ٹیکنالوجیکل انقلاب نے سہولتوں کیساتھ ساتھ بہت سا سماجی، ثقافتی اور اخلاقی بحران بھی پیدا کر دیا ہے لیکن اسی فریم ورک کے اندر ہی مذہبی اور ثقافتی تنوّع، لسانی اور سماجی حُسن اور امتیاز کو منصفانہ مقام دینے کی صلاحیت بھی موجود ہے ـ باہمی میل جول، بات چیت، تعلقات کی وسعت اور لبرلزم سماجی اخلاقیات اور رویّوں کو بہتر کرنے کی گہری صلاحیت رکھتے ہیں ـ روایتی ثقافتی وسائل نوزائدہ ثقافتی رحجانات کو مزید وسعت دے سکتے ہیں اور جدید کلچرل آرکیٹیکچر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں ـ حالیہ دور میں کلچرل تصورات اور رنگارنگی کو بھی مستحکم جمہوریت اور ترقی کے لئے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ـ کلچر کے بہت سے دوسرے اظہاریوں سمیت مقامی ورثے کو بھی، بالخصوص ترقی پذیر ملکوں میں، ترقی کا اہم ترین واسطہ شمار کیا جا رہا ہے [5] ـ                                                                                         

متفرق عقائد اور اقدار کے ساتھ ساتھ کلچر،عملی، روحانی، نظریاتی اور جذباتی پہلوؤں پر بھی مشتمل ہوتا ہے ۔ اِسی لئیے تمام کمیونیٹیز کی مذہبی اور ثقاتی ترجیہات کو مدِنظر رکھے بغیر دیرپاء امن اور سماجی و معاشی ترقی ممکن نہیں ہے ـ یہ کلچر ہی ہے جو لوگوں کو نہ صرف تنازعات اور اُسکے درپردہ اسباب کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ مکالمے کے ذریعے براہ راست اور بالراست ترقی کا راستہ بھی ہموار کرتا ہے ـ مشترکہ دلچسپیوں، مسرتوں اور احساسات کی معرفت، کلچر سماجی اختلافات، فاصلوں اور فسادات کے زخم بھرنے کے ساتھ ساتھ امن و آشتی کا راستہ ہموار کرتا ہے بلکہ نئی راہیں بھی تخلیق کرتا ہے ـ کسی بھی جمہوری اور ترقیاتی عمل میں اگر لسانی، مذہبی اور ثقافتی شناختوں کو نظر انداز کیا جائے گا تو سماجی ہم آہنگی اور منصفانہ ترقی نا ممکن ہ جائے  گی ـ قصہ مختصرانسانی حقوق پر مَبنی مشمولاتی ترقی اور لا مختتم امن کی کوششوں میں ثقافتی دھاروں کو شاملِ فکر رکھنا ناگزیر ہے[6]۔

بامعنی ترقیاتی فریم ورک میں تمام شہریوں کے احترام اور آدرشوں کو مدِ نظر رکھنا ناگزیر ہے ـ چاہے اُن کا تعلق کسی بھی فرقے، عقیدے یا ِلسانی گروہ سے ہو ـ تمام جمہوری اور ترقیاتی اقدامات مُنہ کے بَل گِر پڑتے ہیں جب تک معاشرے میں رہنے والے تمام گروہ اپنے اوراپنے ہمسائیوں کے ساتھ موافقت نہ رکھتے ہوں ـ مراد یہ ہے کہ  امن اور منصفانہ  سماجی ترقی ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں[7]ـ                                                   

تاریخی ورثہ، مقامات، نوادرات اور برت برتاوے کی پُرانی چیزیں بھی سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ـ جنوبی ایشیاء کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اہمیت کے پیش نظر ثقافتی سیاحت بھی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانےاور آپسی جڑت پیدا کرنے میں نُمایاں کردار ادا کر سکتی ہے ، جیسا کہ پاکستان میں کرتار پور اور سیالکوٹ کے قدیم   جگناتھ مندر کو کھول کر  ایک کو شش کی گئی ہے  [8] ـ دراصل کلچر مزاج، علوم اور اقدار کا مبداء ہونے کے ساتھ ساتھ رہن سہن، طرزِبُودوباش اور اپنے طبعی ماحول، جغرافیہ اور فطرت سے تعلق، توازن اور مطابقت کا نام بھی ہے[9] ـ

امن کاری اور مفاہمت میں کلچر کا کردار                                                        

خلافِ توقع، انٹرنیٹ، الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور سماجی رابطوں کے برق رفتار ذرائع کے اِس دور میں مُلکی اورعلاقائی امن اور استحکام کو بے شُمارخطرات لاحق ہیں ـ مذہبی ونسلی تعصبات بڑھتے جا رہے ہیں اور اقلیتوں کو شہرکے حاشیوں میں دھکیلنے کا رُحجان عام ہوتا جا رہا ہے ـ اُن کی تاریخ، زبانوں اور ثقافتوں کو غیر مہذب، غیر ترقی یافتہ اور مضحکہ خیز حتٰی کہ غیر انسانی قرار دینے کا رواج  پکڑ رہا  ہے ـ حال ہی میں نیوزی لینڈ،فرانس ، بھارت، میانمر، سری لنکا، پاکستان اورچین میں کئی اقلیت مخالف واقعات دیکھنے اور پڑھنے میں آرہے ہیں ـ بعض جگہوں پر انتہائی بھیانک اور دل دہلا دینے واقعات رونما ہو رے ہیں ـ ایسے تمام واقعات میں سوشل میڈیا کا منفی استعمال خصوصی طور پر شامل رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ جدید میں اقلیت کُش متشدد واقعات کے اسباب پر غوروخوض، بحث مباحثہ اور سدِباب کے نئے راستے تلاش کرنا از حد ضروری ہو چکا ہے ـ کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ “امن کوکسی بھی جگہ اور کسی بھی کمیونٹی کے لئے خطرہ ہر جگہ، ہر ایک کے لئے خطرہ ہے”[10]    ۔

 ثقافتی لین دین کو سمجھنا اور تسلیم کرنا ایک دوسرے کو قبول کرنے میں وسعت لاتا ہے  اور جمہوری اصولوں کے مطابق آزادئ فکرواظہار میں اضافہ کرتا ہے ۔ہمسایہ کمیونیٹیز کا ثقافتی ورثہ اَمن، رواداری اور جمہوری اقدار میں گہرائی لاتا ہے اور اُنکے اخلاقی اور ثقافتی ڈانڈوں کو مضبوط کرتا ہے ـ ایک دوسرے کے بارے میں بے بُنیاد پروپگنڈا ختم کرنے اور سماجی اخراج کو کم کرنے سے باہمی رشتے پختہ ہوتے ہیں ـ ثقافتی سرگرمیوں میں ذوق و شوق سے شرکت غریب ، کمزور اور ذَد پذیر لوگوں کو معاشرے میں ایک مساوی اور باعزت شہری کے طور پر شریک ہونے میں متعاون ہوتا ہے ۔ہر کمیونٹی کے تہواروں تقریبوں میں شامل ہونا کثیرثقافتیت میں گہرائی اورر چاؤ پیدا کرتا ہے، ہر ثقافت کے عالمگیر عناصر کا اثرو نفُوذ بڑھاتا ہے اور دوسراہٹ کے زہرکو خارج کرتا ہے ـ مذہبی یا نسلی فسادات کے بعد ثقافتی سرگرمیاں، مشترکہ میلے ٹھیلے اور ناٹک بولیاں ایک دوسرے سے شاکی کمیونیٹیز کے درمیان اعتماد کی فضا ہموار کرنے اور اُنہیں دوبارہ اپنی زمین سے پیوست ہونے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ـ مشترکہ ثقافتی خدوخال پُرامن بقائے باہمی کیلئے تعمیراتی قالب کا کردار ادا کرتے ہیں[11]۔                                          

تنازعات کے اسباب کو مختلف ثقافتی و لسانی اور مذہبی شناختوں سے جوڑنا اور یہ تصور کرنا کہ تفریق بدیہی اور لابدی ہے مسائل کی جَڑ بُنیاد ہے، یہ سراسرغلط تصور ہے کیونکہ امن کے حصول یا تشکیل کے لئے ضمنی شناختوں کو مندمل یا ختم کرنے سے امن حاصل نہیں ہوتا بلکہ بعض صورتوں میں ،  اور جنوبی ایشیاء کی تاریخ گواہ ہے،  اقلیت اوراکثریت میں فاصلے اور کشیدگیاں اور ذیادہ بڑھ جاتی ہے ـ جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنوبی ایشاء میں بہت سی کمیونیٹیز اپنے مذہبی اور شناختی امتیاز کے با وجود باہمی امن اور خوشحالی سے ساتھ ساتھ یا گُھل مِل کے رہتے رہے ہیں ـ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سیاست یا راج نیتی کے لئے طاقتور مُلاء، پنڈت ،  اور بھکشُو، اشرافیہ ، صنعت کار، جاگیردار یا سیاستدان مذہبی اور سیاسی تفریق کے لئے مبالغہ آمیز نظریات تخلیق کرتے ہیں، تاریخی واقعات ڈھونڈ ڈھونڈ کر اُن پرداستان سرائی کا سرکہ لگاتے ہیں اور پھر بھڑکا ؤبھاشنوں سے عوام کو مشتعل کرتے ہیں تاکہ طاقت تک رسائی یا پھر شہرت حاصل کریں چاہے وہ منفی ہی کیوں نہ ہو۔[12]

سچ تو یہ ہے کہ نظری، تاریخی، مذہبی اور نسلی تفاوّت کے باوجود دنیا اور جنوبی ایشیاء کے تمام مُعاشرے کم از کم ایک مُشترک انسانی جذبات اور اِحساسا ت کے حامل ضرور ہیں جن کوباقاعدہ سوچ سمجھ کرآگے بڑھایا جا سکتا ۔باہمی ثقافتی رشتوں کا احترام پیدا کرنے کے لئے تفریق اور تنوع سے لگاؤ پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے ـ قومی ریاستی ڈھانچوں کی بازتشکیلیت مساوی شہریت اور انسانی حقوق کا تقاضا کرتی ہے تاکہ یونیورسل اخلاقیات کو جنم دیا جا سکے ـ ہرچند کہ جنوبی ایشاء میں دنیا کے بَدترین کمیُونل فسادات رونما ہو چکے ہیں لیکن مِل جُل کر رہنے کی مثالیں بھی کم نہیں ـ زیادہ دُور جانے کی ضرورت نہیں، یہیں کرا چی میں ایک بستی نارائن پورہ کہلاتی ہے جہاں ہندو، سِکھ اورعیسائی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ گُھل مِل کر رہتے ہیں اور خلوص و مسرت سے ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں یعنی ہولی، بیساکھی، کرسمس، عیدیَن اور دوسری تقریبات میں شریک ہوتے ہیں ـ اِسی طرح سُمندری (فیصل آباد) کے گاؤں خاصپور میں کئی دہائیوں سے مسلمان اور مسیحی کمیونیٹیز امن و اعتماد سے اِک مِک رہتے ہیں ـ یہاں تک کہ اُن کا قبرستان بھی مشترک ہے[13] ۔ اِسی طرح گھوٹکی کو چھوڑ کر سندھ کے کچھ اضلاع مثلا” عمر کوٹ، تھر پارکر، جیکب آباد اور نواب شاہ میں ہندو اور مسلمان بڑی حد تک برابری اورچَین شانتی سے رہتے ہیں ـ سفاک اختلافی حقیقتوں کے با وجود ایسی مثالیں ہندوستان اوربنگلہ دیش میں بھی کم نہیں ہیں ـ ایسی تمام کمیونیٹیز سے تہذیبی اور ثقافتی لین دین سیکھا سمجھا اور مزید پھیلایا جا سکتا ہے ـ 

دنیا میں کوئی ریاست  ایسی نہیں ہے جہاں لکڑی لوہے کیطرح یکساں لسانی و مذہبی معاشرہ آباد ہو ۔ معاشرے فیکٹریوں میں نہیں بنتے، پراڈکٹ نہیں ہوتے بلکہ زمین پر جنم لینے والے جیتے جاگتے نامیاتی مظاہر ہوتے ہیں ـ انسانی فکری ارتقاء، تجربات، جمالیات اور نظریات سے متنوّع افراد اور ثقافتیں جنم لیتی ہیں ـ تنوّع اور افتراق کو سراہنے کی بجائے یکجائی  اور  یّک نظری پر زور دینا یا مکینکل یکسانیت کی کورچشمانہ سیاسی کوشش، جہاں بھی ہو، کسی مدعُو کردہ المیے سے کم نہیں ہے ـ بالائی تفریق کے ساتھ ساتھ اگر قریب قریب رہنے والے معاشروں کے ‘مشترکہ ورثہ’ کو بھی تسلیم کیا جائے تو کاٹنے بانٹنے اور علیحدگی پسندانہ رویوں سے بچ کر ہم دوسروں کو بھی اپنے وجود کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں ـ مشترکہ ورثہ ایک ایسا زاویہء نظر ہے جو ہمیں زبانوں اور ثقافتوں کے طول و عرض میں افتراق کے ساتھ ساتھ اشتراک فہمی کا شعُور بھی دیتا ہے ـ

 تشکیلِ اَمن میں مشترکہ ورثے کا کردار             

برِ صغیر پاک وہند کی ثقافتوں میں باہمی اشتراک دنیا کے کسی بھی خطے کی ہمسایہ ثقافتوں سے ذیادہ ہے ـ ہر چند کہ اِس کا شعورلوگوں کو صدیوں سے رہا ہے لیکن حال ہی میں خورشید انور نے اِس تصور کی گہرائی اور وُسعت میں کافی اضافہ کیا ہے ـ اُن کے خیال میں جنوب ایشیائی تہذیبوں کے درمیان حیران کُن رنگا رنگی، فرق اور تنوّع کے با وجود پاتال میں کئی عناصر ایک جیسے ہیں ـ زبان، ادب، شاعری، موسیقی، لباس و آرائش، آرٹ و آرکیٹکچر، ذائقہ اورخوردونوش کی ترجیہات، حتٰی کہ مخصوص عقائد کو چھوڑ کرروزمرہ کا مذہبی اور صوفیانہ مزاج بھی ایک جیسا ہےـ مثال کے طور پر ایک ہندوستانی مسلمان کی عادات و خصائل ایک عرب مسلمان کے مقابلے میں کہیں زیادہ اپنے ہندوُ یا بُدھ بھائی سے مِشترک ہو نگےـ ایک پاکستانی مسیحی کے عادت و خصائل ایک یورپی یا افریقی مسیحی سے کہیں ذیادہ اپنے مسلمان بھائی سے ملتے جُلتے ہیں کیونکہ اُس کا آئے روز کا واسطہ اور تعلق اُنہیں سے ہے وہ انہی کیساتھ رہتا، کھاتا پیتا اور لین دین کرتا ہے ـ پاکستانی اور ہندوستانی سِکھوں کا شوخ و سجیلا مزاج اور زندہ دِلی کسی بھی جگہ رہنے والے سکھوں سے زیادہ پنجابی مسلمانوں سے ملتا جُلتا ہے ـ اِسی طرح اکئی  اورمثالیں سوچی اور ارد گرد دیکھی جا سکتی ہیں ـ

 خورشید انور نے اپنے مُرتب کردہ مینوّل میں ہندی، اردوُ، سنسکرت، بنگالی، فارسی اور کئی دوسری مادری زبانوں کے الفاظ ولغت کا مبداء و منبع، قریبی تعلق اور تبدیلی کا سفر ڈھونڈ نکالا ہے ـ شاعری، ادب، راگ راگنیاں اور کئی ایک موسیقیاتی اقسام تمام ثقافتوں میں ایک جیسی ہی ہیں ـ خواجہ معین الدین چشتی، فرید الدین گنجشکر اور نظام الدین اولیاء سے لے کر راما نندا، نِمبارکا، والا بھاچاریہ، شری چیتیّانہ، نینا وت، وِشناراس، تُلسی داس، میرا بائی اور بھگت کبیر سمیت کئی دوسرے دانشور، صوفی اور شاعر ایسے رہے ہیں جنہوں نے قرونِ وسطیٰ میں حقیقت کی تلاش اور تشریح صلح جُو اور انسانیت پسندانہ انداز میں کی ہے ـ یہاں یہ ذکر بے جا نہ ہوگا کہ اِسی دور میں یورپ اندرونی طور پر انتہائی کٹر اور انتہا پسندانہ مسیحیت اور فرقہ ورانہ  تشدد کے دور سے گزر رہا تھا اور ہمسایہ مُسلم ممالک سے صلیبی جنگوں کا پیشوابھی ـ      

یہاں یہ ا  شارہ بھی موضو ع سے ہٹ کرنہ ہوگا کہ اکبر بادشاہ کا مقصد بھی (بمطابق ایک غلط العام کے) کوئی نیا دین ایجاد کرنا نہیں تھا بلکہ مناظروں اور مباحثوں کے ذریعے کسی عارفانہ سچائی تک پہنچنا تھا تاکہ ہندوستان میں ایک پُرامن متحدہ معاشرہ قائم رکھاجا سکے ـ زیر بحث تینوں ریاستوں میں آج بھی کئی شاعر، ادیب اور فنکار یکساں مقبول و معروف ہیں جِن میں امیرخسرو، رابندرناتھ ٹیگور، بسم اللہ خان، استاد ذاکرحُسین طبلہ نواز، استاد غلام علی، لتا منگیشکر، رُونا لیلیٰ اور کئی دوسرے شاعروں اور فنکاروں سے  لے کر فراق گورکھپوری، جاوید اختر، امرتیا پریتم، ساحر لدھیانوی، گلزار، جالب، فیض اور فراز محض چند نام ہیں ۔ ہندوستانی فلمیں پاکستان میں انتہائی پاپُولر ہیں جبکہ پاکستانی ڈرامہ انڈیا میں بہت شوق سے دیکھا اور سراہا جاتا ہے ـ مشترکہ ورثہ میں شعروادب کے علاوہ سماجی رویّے، مزاج، نفسیات، میلے ٹھیلے، خُوشیاں، تہوار، شخصیات، لوک کہانیاں ، داستانیں اور تاریخی مقامات بھی شامل ہیں ـ ایسی تمام چیزیں صدیوں سے یہاں کے باسیوں میں سینہ بہ سینہ بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مُنتقل ہوتی رہیی ہیں ـ باوجود بعض سیاستدانوں کی شعُوری کوشش کے جو اِن تمام ثقافتوں کو غیر مماثل ڈبوں اور لکیروں میں  پا بند کرنے کی سوچی سمجھی کوشش کرتے رہے ہیں ۔

پاکستان کے دو مزاحمتی شاعروں یعنی حبیب جالب اور فیض احمد فیض کا کلام (بالترتیب ‘میں نہیں مانتا’ اور ‘ہم دیکھیں گے’) آج بھی قومی شہری رجسٹریشن اورترمیمی ایکٹ (٢٠١٩) کے خلاف ہندوستان کے طول و عرض میں شدومد سے گایا جا رہا ہے ـ لباس وآرائش میں عورتوں کی پسند ناپسند سرحدوں کے آر پار ایک جیسی ہے ـ تینوں ریاستوں کے عوام کو کرِکٹ کا جنون ہے ـ بہت سے شاعر، ادیب اور دانشور تقسیم کے دوران یا بعد میں اِدھر سے اُدھر یا اُدھر سے اِدھر آ ئے گئے اور اُن کے دِلوں میں اپنے آبائی وطن کی مخمُور یادیں دھڑکتی ہمکتی رہتی ہیں۔

پاکستان میں بہت کم ناول پسندوں کو معلوم ہوگا کہ ‘آگ کا دریا’ اور ‘میرے بھی صنم خانے’ کی لکھاری  قُرات العین حیدر ہندوستان میں مستقل قیام سے پہلے کافی سال پاکستان میں رہتی رہی ہیں ـ جنوب ایشیاء بلکہ شاید بنگلہ دیش کے بھی کم ہی لوگوں کو معلوم ہوگا کہ بنگالی ترانے کے خالق رابندر ناتھ ٹیگور اورقومی شاعر نذرالاسلام کا تعلق کلکتہ (مغربی بنگال) سے تھا ـ  مقبول و معروف  ترانہ ‘سارے جہاں سے اچھا ہندستاں ہمارا’ پاکستان کے عظیم قومی شاعر علامہ اقبال کی قادرالکلامی کا شاخسانہ ہے اور پاکستان کے سحر انگیز قومی ترانے کے خا لق حفیظ جالندھری کا تعلق موجودہ ہندوستانی پنجاب کے ضلع جالندھر سے تھا ـ مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ چہار اطراف سے انتہا پسندانہ ذہن سازی اور بیگانگت کی شعوری سیاسی اور مذہبی کو ششوں کے باوجود ثقافتی آثارووعلامات اب بھی زندہ سلامت ہیں ـ

گوتم بُدھ، بابا نانک اور بھگت کبیر سے لے کربُلھے شاہ تک برِصغیر نے بیسیوں سَنت، بَھگت اور امن و عدم تشدد کے پرچارک جنم دیے ہیں ـ راسخ العقیدہ فکر کے برخلاف، متبادل نقطہء نظر اور نیا وژن غیر منصفانہ صنفی اور دوسری روایات کو ہدفِ تنقید بناتا ہے اور سماجی تبدیلیوں کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے ـ شاید دُنیا میں متنوّع ترین خطہ ہونے کی وجہ سے ہی ہند، سندھ کے باسیوں نے حقیقتِ اولیٰ کی صوفیانہ شرح و تفسیر اور روحانیت پر زور دیا تاکہ ہر طرز کے ایمان و ایقان کو معنویّت  اور روحانیت کی ایک ہی لڑی میں پِرویا جا سکے ـ مجموعی طور پر امن و شانتی کی تشکیل و تعبیر، اہمساء اور عشقِ انسانی ہی تمام صوفیوں، بھگتوں اور سَنتوں کا مطمعء نظر رہا ہے[14] ـ یہی وجہ ہے کہ صوفیانہ کلام اور پیغام پرمبنی بھجن، وانیاں، کافیاں اور دوہے پورے خطے کی رگ رگ میں دوڑتے ہیں ـ مگر  افسوس کہ شاعری اور موسیقی سے بڑھ کر اِس پیغام کو سرکاری پذیرائی اور ادارتی حمایت حاصلی نہیں ہوئی ، اِسی لئے ِاس کا دائرہ کار محدود سے محدود تر ہوتا جا رہا ہے۔ اورآرتھوڈاکس عقائد عام اور راسخ ہو گئے ہیں ـ     

تاہم یہ کہنا بھی حقیقت سے نظر چُرانے کے مترادف ہو گا کہ جو متفرق معاشرے صدیوں تک ایک دوسرے کے ساتھ رہتے رہے ہیں اُن کے درمیان سب گل و گلزار اور شیروشکر تھا اور کبھی کوئی اختلاف یا ردو کدوُرت نہیں تھی ـ جس طرح خورشید انور نے خود ذکر کیا ہے، اختلافات، کشیدگیاں، الگ الگ پہچان، وضع قطع، عقائد، رسوم و رواج حتٰی کہ تنازعات بھی مشترکہ وراثت ہی  کاحصہ رہے ہیں ـ مگر ہم اہنگی اورآپسی اعتماد سازی کے لئے اختلافا ت سے صرفِ نظر کرنا، مشترکہ عناصر کو بڑھاوا دینا، رابطہ کارپُلیاں تعمیرکرنا اور اختلافات کو اجنبیت کے بجائے فِطری حُسن شمار کرنا ذیادہ ضروری ہے ـ خطے میں مذہبی، لسانی اور سیاسی کشیدگیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھی امن اور روشن خیالی کا تقاضا ہے کہ سماجی اور ثقافتی ورثے کے ذریعے تعاون اور بات چیت کی نئی نئی راہیں تلاش کی جائیں ـ سوشل میڈیا اور سماجی رابطہ کاری کے موثر اور فوری ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمیں نئی نسل کو اپنے تاریخی اشتراک سے روُشناس کروانا چاہیے اور نئے تعلقات ایجاد کرنے چاہیں ـ تیزی سے پھیلتی ہوئی شہری تہذیب میں اُبھرتے ہوئےنئے اخلاقی نظام کے لئے ضروری ہے کہ ہم مشترکہ اورغیرمشترکہ ثقافتی وسائل کی اِسطرح پیوند کاری کریں کہ نہ صرف سابقہ اور موجودہ روایات میں مطابقت پیدا ہو سکے بلکہ نئی روایات اور نئی اخلاقیات کو بھی اپنے دامن میں جگہ دی جا سکے ـ سماجی اور معاشی ترقیاتی عمل میں ثقافتی ورثہ اچھی روایات کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ اہم اقتصادی اور سماجی ترقی کے لئے بہترین پہیّے اور دُھرے کا کام کر سکتا ہے[15]

 کلچرل ربط و ضبط بڑھانے میں تعلیم کا کردار

 زور زبر دستی کی نام نہاد قوم سازی، اپنے سیاسی مفادات کی آبیاری اور ہمسایہ ممالک سے دُشمنانہ جذبات کو برقرار رکھنے کے لئے ہندوستان، بنگلہ دیش اور پاکستان نے اپنے تعلیمی نظام اور سب سے بڑھ کر سماجی تعلیم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے ـ تمام مُلکوں کے حقیقی معاشی مفادا ت کو تقویت اور توسیع دینے کی بجائے تعلیم کو فاصلے اور دراڑیں بڑھانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے ـ معاملہ یہیں تک نہیں تھما، بلکہ مقابلہ بازانہ یکساں قوم کی ترکیب وتشکیل میں تینوں ملکوں نے اپنے اندرونی تنوّع کو بھی شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہوئےبیگانہ وار  شکست و ریخت کا شکار کیا ہے ـ نتیجے کے طور پر ہماری تعلیم، بالخصوص پاکستان میں، نہ صرف تنگ نظر مولوّیانہ اورکور چشمانہ نقطہء نظر کا شکار رہی ہے بلکہ اپنے اپنے اندرونی سماج اور لسانی تنوّع اور حُسن و مُسرت کو سمونے اور اپنانے میں ناکام رہی ہے ـ

پاکستان میں درسِ نظامی کی کشادہ قلب صوفیانہ روایت کو چھوڑ کر وفاق المدارس اور تنظیم المدارس دونوں نےرُجعت پسندانہ، فرقہ وارانہ اور غیر مساویانہ تعلیم کو رواج دیا ـ گو کہ ہندوستان میں عمومی سائینسی تعلیم نسبتا” بہتر ہے لیکن انتہا پسند ہندوتوّا قوتوں یعنی ‘راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ’ اور ‘وشّوا ہندو پریشد’ نے بڑی حد تک سماجی تاریخ، آثارقدیمہ ،مُسلم شناخت اور باہمی تعلقات کو مَسخ کیاہے ـ بنگلہ دیش میں بھی ایک طرف تو پاکستان مخالف کہانیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور دوسری طرف غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف پراپگنڈا بھی عام ہے ـ گویا ہردو یعنی مذہبی، اور تنگ نظر سرکاری تعلیم نے مِل کر تینوں ملکوں میں آزادیء فکرو اظہار کو اورخصوصا” اقلیتی مذہبی آزادیوں اور اُنکی   مساوی شہریت مگرجُداگانہ شناخت کو شدید دھچکا لگایا ہے  ـ                                    

ہر چند یہ بات بھی دُرست ہے کہ پاکستان میں پنجاب اور سندھ نے گزشتہ ایک دہائی میں اپنے سماجی علوم کا سکول نصاب کافی حد تک بہتر کیا ہے اور کسی حد تک انسانی حقوق، غیر مسلموں کے حقوق، اُن کا پاکستان بنانے میں کردار اور دوسری ممتاز غیر مسلم شخصیات کواُنکا جا ئز مقام دینے کی کوشش بھی کی ہے ـ مگر اِسی دوران خیبر پختونخواہ کے نصاب میں جماعتِ اسلامی کے زیرِاثرابتدائی اور ثانوی نصاب کو مزید رُجعت پسندانہ بنادیا گیا ہے، جبکہ  بلوچستان کا نصاب جیسے تھا ویسے ہی ہے جس میں کوئی حوصلہ افزاء تبدیلیاں نہیں کی گئی ہیں ـ موجودہ  پاکستانی حکومت ایک بار پھر یکساں نظامِ تعلیم اور قوم سازی کا عندیہ دے کر اگلے سال تک نیا نصاب متعارف کروانے جا رہی ہے ـ اس پراسس میں تنوّع اور اقلیتی مذاہب کو کِس حد تک مَساوی شہری وقار بخشا جاتا ہے، کُچھ کہا نہیں جا سکتا ـ تاہم اٹھارویں ترمیم ٢٠١٠ کے بعد سے کریکولم ایڈوائزری بورڈ اور صوبائی ٹیکسٹ بُک بورڈ نے کسی حد تک امن و آمان قائم کرنے میں نصاب کے کرداراور لسانی، مذہبی اور سماجی تنوّع کو تسلیم کرنا شروع ضرور شروع کیا ہے جو ایک قابلِ تعریف بات ہے۔

قصہ مختصر، تنگ نظر، متعصبانہ اور سیاسی مفادات پرمبنی مذہبی اورریگوُلر تعلیم بچوں کوعقلی استدلال اور سائینسی فکر کی بجائے اندھا دُھند تقلید  اور سنسنی خیز جذبات پسندی پر مائل کرتی ہے جبکہ اچھی اور منطقی تعلیم نوع بہ نوع زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کا احترام دِل میں لاتی ہے ـ اگرغورو فکر اور موثر طریقے سے استعمال کیا جا ئے تو تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جو طلبہ وطالبات کے دلوں میں باہمی احترام اورسرحد پارلوگوں کے لئے بھی برابر کے انسانی جذبات بیدار کر سکتا ہے ـ طلباء وطالبات کو یہ جاننا چاہیے کہ لوگوں کا مختلف افکار، نظریات اور عقائد رکھنا عَین فطری بات ہے ـ حیات اور کائنات کے بارے میں دُنیا کی تاریخ میں کبھی بھی افراد اور معاشروں کے نظریات ایک جیسے نہیں رہے ـ اگر انسان حیوانِ عاقل و ناطق ہے تو ہر انسان کی فکر، ردو قبول اور بات چیت میں فرق ہو گا اور  ہونا بھی چاہیے کیونکہ زمانہ جدلیاتی تسلیم واِجتناب سے ہی آگے بڑھتا ہے۔                        

رسل و رسائل اور ربط ومعاملات کے نئے نئے طریقوں کے ساتھ ساتھ بڑھتے پھیلتے ہوے کاسموپولٹن شہروں میں ہمہ ہمی اور رنگا رنگی بڑھ رہی ہے ـ تمام ثقافتیں بھی اظہاروبیان کے نوع بہ نوع اندازو اسلوب تلاش کر رہی ہیں ـ ایسے میں فقط تعلیم ہی وہ طاقتور ترین ادارہ ہے جس کے ذریعے سب کا وقار اور مساوی احترام اُجا گر کیا جا سکتا ہے ـ جدید سیکُولر تعلیم ہی طلباء و طالبات کو مہذب تبالہء فکر، مکالمہ، نئی اقدار اختیار کرنا، ایک دوسرے پر انحصار اور مذہب و ثقافتی فرق کو سمجھا سکھا سکتی ہے۔

اختلافات جیسے اور جتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں، نوجوانوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ بات چیت سے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں ـ صرف تعلیم ہی اُنکو سائینس اور سماجی سائینس دونوں دائرہ کار میں آزادیء فکرواظہار کا شعُور دے سکتی ـ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اُنہیں یہ باور کرانا بے حد ضروری ہے کہ سماجی اور صنفی مساوات سے ہی ایک دوسرے پر بھروسہ، امن و سکون اور اجتماعی شعور پیدا کیا جا سکتا ہے جو پاکستان اور خطے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔         

***

[1] مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں   Helen Spencer-Oatey, 2013, What is Culture?    https://warwick.ac.uk/fac/soc/al/globalpad/openhouse/interculturalskills/global_pad_-_what_is_culture.pdf

[2] مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں Harmony https://www.researchgate.net/publication/256649929_Harmony

[3] مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں   Dharm P. S. Bhawuk (2012) India and the Culture of Peace:  Beyond Ethnic, Religious, and Other Conflicts

 https://link.springer.com/chapter/10.1007/978-1-4614-0448-4_7

[4] مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں Samrat S. Kumar and Elida K.U. Jacobsen, Cultures of Peace in India: Local visions, global values and possibilities for social change, https://www.researchgate.net/publication/302469134_India_and_the_Culture_of_Peace_Beyond_Ethnic_Religious_and_Other_Conflicts

[5] مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں   Sigrid Van de, Annick Schramme (2014) Cultural heritage policies as a tool for development: discourse or harmony? https://www.encatc.org/media/2674-2014encatcjournalvol4issue148.pdf

[6] مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں UNESCO (2013) Peace and Reconciliation: How Culture Makes the Difference

[7]  ایضاْ

[8] مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں Sigrid Van de, Annick Schramme,2014, Cultural heritage policies as a tool for development: discourse or harmony? https://www.encatc.org/media/2674-2014encatcjournalvol4issue148.pdf

[9] مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں UNESCO, 2013, Peace and Reconciliation: How Culture Makes the Difference

[10] ایضا”

[11] مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں Sharmishtha Agarwal (2017) Cultural heritage as a tool for peace: A case of Sudan, http://openarchive.icomos.org/2006/1/33._icoa_990_agarwal_sm.pdf

[12]  مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں Kazuo Ogoura, Peacebuilding and Culture. https://www.jpf.go.jp/j/publish/intel/cul_initiative/pdf/ogoura_e.pdf

[13] Khaspur Village – Example of Harmony, https://www.youtube.com/watch?v=jsQfcFmx_Os

[14] مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں    Kazuo Ogoura, Peacebuilding and Culture. https://www.jpf.go.jp/j/publish/intel/cul_initiative/pdf/ogoura_e.pdf

[15] مزکورہ مصنف سے کچھ خیالات ماخوز کئےگئے ہیں  Sigrid Van De & Annick Schramme (2014) Cultural heritage policies as a tool for development: discourse or harmony? https://www.encatc.org/media/2674-2014encatcjournalvol4issue148.pdf

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *